استحکام ریاست – افشاں نوید




جو کچھ کل بروز بدھ ہوگا اس سے زیادہ آج تک ہو چکاہے۔قوم کے اعصاب شل ہوگئے ہیں۔کس کو سچا سمجھیں کس کو جھوٹا۔۔
مچھلی ہمیشہ سر سے سڑتی ہے۔ریاست کے وہ باوقار ادارے جہاں قرآن کی تلاوت سے اسمبلی کا آغاز ہوتا ہو ،جہاں حلف اٹھاتے وقت اللہ کو گواہ بنا کر وفاداری کا عہد کیا جاتا ہو۔

ہم ہی نہیں دیکھ رہے ساری دنیا دیکھ رہی ہے۔دنیا بھر کا میڈیا ہماری اخلاقی حالت پر کیا تجزیے پیش کررہا ہوگا۔کیسی بگاڑی ہے میرے دیس کی تصویر ان “زردار”اور نام نہاد “شریفوں” اور ‘تبدیلی” کے خوگروں نے۔۔۔پھر چودہ اگست کو ہم جھنڈے لہرا کر کہتے ہیں “ہم زندہ قوم ہیں۔” زندگی باقی ہی کہاں چھوڑی.. رگوں میں خون تو منجمد ہو گیا ہے۔ ابھی میں نے ٹی وی کا سوئچ آف کیا اور اس وقت وہ ذہنی حالت ہے جب آپ سولہ گھنٹہ لگاتار جہاز کا سفر کرکے اعصابی طور پر فریز ہوجاتے ہیں۔
وہ لڑائی جھگڑا،وہ چیخ وپکار،وہ طعن تشنیع،وہ الزامات۔۔۔ مرد گز بھر اور خواتین سوا گز کی زبانوں سے کک لگا رہی ہیں،ایک دوسرے کو پنچ مارے جارہے ہیں ،ناک آؤٹ کیا جارہا ہے۔ہارس ٹریڈنگ سے بڑھ کر اخلاقی زوال کا نوحہ۔۔پارلیمنٹیرینز نے موبائل آف کردیے ہیں۔انکو ہوٹل کے کمروں میں نظر بند کردیا گیا ہے۔

ایک ایک کی قیمت کروڑوں میں لگ رہی ہے۔ہم عوام کالانعام، جو کبھی ٹوٹی سڑکوں کو روتے ہیں کبھی گرمی میں العطش کی دہائی دیتے ہیں۔گرمیوں بھر لوڈ شیڈنگ کاسامنا کرتے ہیں ہم سے کمائے ہوئے سرمائے سے خریداری ہورہی ہے۔پندرہ کروڑ چکا دئے گئے پچاس کروڑ کا وعدہ ہے حکومتی اراکین پارلیمنٹ سے!!!کہا جاتا ہے ہمارا ساتھی اغواء ہوگیا وہ وڈیو کلپ جاری کردیتا ہے.” میں یہاں ہوں”.فون خفیہ ریکارڈ ہورہے ہیں وائرل کیے جارہے ہیں۔ان ریکارڈنگز پر گھنٹہ گھنٹہ بھر ٹاک شوز ہورہے ہیں۔انتخابی مہم ختم ہوچکی مگر ٹی وی اسکرین آگ اگل رہی ہے۔وہ زبان اور لہجے ہیں کہ سماعتیں زخمی ہو چکی ہیں۔کون کس کی پرائیوٹ گفتگو ریکارڈ کرکے وائرل کردے الیکشن کمیشن کے پاس کوئی ضابطہ اخلاق ہی نہیں۔پریزائیڈنگ افسران کی جو گت بنی ہے ڈسکہ کے انتخاب میں اس نے پاکستان کے انتخابی چہرے پر کیسی ندامت کی لکیر گہری کردی۔

ہم دیکھ رہے ہیں،ہم جان رہے ہیں کہ سیاست چنگیزی کھیل بن چکی ہے۔کسی بات پر دل یقین کرنے کو تیار نہیں کہ پس پردہ حقائق کیا ہیں۔ایک ممبر پارلیمنٹ ہجوم میں چلا رہا ہے میں اپنی پارٹی کو ووٹ نہیں دوں گا۔۔۔ اس کو اس کے پارٹی ورکر گلے سے پکڑ کر کھینچ رہے ہیں۔الزامات میں گڑے مردے اکھیڑے جارہے ہیں۔نورا کشتی ہے اور بے بس تماشائی قوم۔ہم میں سے کتنے سوچ رہے ہیں کہ اپنی پارلیمنٹ سے ان بکنے والے گھوڑوں کو اب دیس نکالا دینا ہوگا۔سیاست کو تعفن سے پاک کریں گے تو ریاست ماں کے جیسے ہوگی۔اسوقت ووٹ نہیں ریاست اغوا ہوچکی ہے۔جو کچھ ہو رہا ہے اس پر قوم سے معافی مانگنا چاھئے ان سیاستدانوں کو۔اتنے مشکل انتخابات کے بعد ایوان بالا سجے گا۔مگر یہ ایوان بالا و زیریں قوم کو دیتے کیا ہیں؟؟ہمارے خارجی وداخلی کون سے مسائل حل ہوئے ماسوائے آپس کی گتھم گتھا اور قوم کے ساتھ مذاق کرنے اور بے وقوف بنانے کے۔

ہم چاہتے ہیں یہ سب کچھ بدلے تو ہمیں اپنے معیار انتخاب کو بدلنا ہوگا۔اگر یہ چہرے میڈیا پر ہیں جو جھوٹ پر جھوٹ بول رہے ہیں اور ایک دوسرے کی قیمت لگادہے ہیں تو ان کو ایوان اقتدار میں پہچانے والوں کا زکر بھی تاریخ میں اچھے لفظوں میں نہیں کیا جائے گا۔۔
مہدی موعود کا انتظار چھوڑیں اورآج ہی فیصلہ کرلیں کہ …… اب اس سوراخ سے دوبارہ نہیں ڈسے جائیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں