مینار – افشاں نوید




اس برس اجتماع عام مینار پاکستان پر ہوا تھا۔ ایک خنک صبح میں بیٹی کے ساتھ مینار پاکستان کی سیڑھیوں پر بیٹھ گئی۔ ہم اس کی دیواروں کو چھونے لگے۔ مجھے لگا کہ مینار پاکستان سرگوشی میں کہ رہا ہے

تم ہی جانو۔۔۔ جب نوجوان مسجد میں آنے سے کترانے لگیں مدرسے سماج میں جزیرے بن جائیں۔۔ حکمران عوام کے بجائے اپنی پارٹی کے نمائندہ ہوں سیاستدان سونے کے ترازو میں تولنے لگی ملک کے بجائے ذاتی مفاد اور ملت کے بجائے مصلحت عزیز ہو جائے۔ جب تم جہاد سے اس لیے خوفزدہ ہو جاؤ کہ زندگی پیاری ہے۔تو میرے گنبد میں کیا عظمت رہ جاتی ہے؟؟ بیٹی نے مجھ سے پوچھا” امی مینار پاکستان کی بنیادیں کتنی گہری ہیں؟”میں نے کہا.. مینار پاکستان کی بنیادوں کی گہرائی جاننے کے لیے ہمیں تحریک پاکستان کی بنیادوں کو جاننا ہوگا . تحریک پاکستان کے مجاہد جانتے تھے کہ جو بیج یہاں قرارداد کی صورت میں بویا گیا ہےوہ تناور درخت بنے گا جس کی شاخیں آسمان تک ہوں گی۔ جن ہاتھوں نے مینار پاکستان کی بنیادیں کھودی تھیں … انھوں نے صرف جغرافیہ نہیں بدلا وہ تاریخ بنانے میں مصروف ہوگئے۔

بیٹی بولی”مینار کس قدر بلند اور پائیدار بنایا گیا ہے ناں؟؟میں نے کہا ۔۔”بیٹی۔۔عقیدہ عمارت سے زیادہ پائیدار اور انسان مینار سے کہیں زیادہ قدآور ہوتا ہے۔”مینار کے اطراف سے سینکڑوں گاڑیاں گزر رہی تھیں۔۔ان میں سے کتنے راہ گیر سوچتے ہوں گے کہ پچھلی نسل کے نمائندوں نے یہاں قرارداد منظور کر کے جب مینار کا سنگ بنیاد رکھا ہوگا تو اس مٹی پر سجدے کیے ہونگے۔آسمان کی سمت دیکھ کر التجا کی ہوگی کہ یہ کاغذ کا پرزہ (قراداد)خواب کی تعبیر بنے۔بیٹی بولی..” ایک مینار کی برکت سے لاکھوں مینار اور ہزاروں مسجدیں بنیں ناں۔”
میں نے کہا۔”میری بچی۔۔۔ مسجدیں تو انڈیا میں بھی بہت ہیں یہاں تو ہم نے مدینہ کی اسلامی ریاست بنانا تھی۔”تب مجھے خیال آیا کہ 1940 سے 1947 ۔محض سات سال کے عرصے میں سب دعائیں پوری ہوگئیں۔اور آج سات عشرے گزرنے پر ہمیں لگتا ہے کہ استحکام پاکستان کے لیے کی گئی دعائیں قبول ہی نہیں ہوتیں۔

جس مٹی پر سجدے کرکے مینار کی بنیاد رکھی گئی اگلی نسلیں اس پر سجدہ سہو کریں گی پچھلی نسلوں کے کفارے ادا کرنے کے لیے۔غفلت کو نہ تاریخ معاف کرتی ہے نہ شریعت۔۔بیٹی بولی۔۔”تحریک آزادی کی علامت بھی کتنی خوبصورت بنائی ہمارے بزرگوں نے۔”میں نے کہا..” وہ جہاں دیدہ تھے، جہاں آرا اور جہاں بان بھی۔وہ جانتے تھے کہ مینار مسلمانوں کی سرفرازی کی علامت ہے اللہ کے مقدس گھر مسجد کی پہچان ہوتے ہیں مینار۔۔ اس کا نام مینار پاکستان رکھا گیا۔۔مینار تو ایک ہی رہے گا مگر پوری ریاست مسجد جیسی پاکیزہ ہوگی۔۔ہماری نسلیں ان شاءاللہ ہمارے اسلاف کے خوابوں کی تعبیر ضرور دیکھیں گی۔۔۔جب عدل ہو گا،انصاف ہوگا اور ریاست سچ مچ ماں کے جیسی ہوگی

اپنا تبصرہ بھیجیں