یوم پاکستان اور تجدید عہد – سعدیہ اعظم




آج کا دن اہل وطن یوم پاکستان کے نام سے مناتے ہیں ۔آیے آج ذرا اس لمحے کو محسوس کرنے کی کوشش کرتے ہیں جب آزادی کے متوا لے جذبوں کا سمندر لیے مسلم لیگ کے جلسے میں شریک ہیں۔

ذرا تصور کیجیے، شہرِ لاہور کا منٹو پارک ہے۔ تاریخ 23 مارچ 1940۔ بر صغیر پاک و ہند کے مسلمانوں کا جم غفیر۔ زبان اور نسل کے تعصب سے پاک، صرف ایک کلمہ کی پہچان لیے، آنکھوں میں علیحدہ وطن کے خواب سجائے، دلوں میں ہر قربانی کا جذبہ لیے، چہرے پہ اپنے قائدین کے لیے محبت کا جذبہ سجائے وہ لوگ موجود تھے۔ جی ہاں، وہ لوگ۔ وہ لوگ جن کی محنت اور قربانیوں کے طفیل آج میں اور آپ ایک آزاد ملک میں سانس لے رہے ہیں۔ 1930 میں علامہ اقبال نے تقسیم ہند کا جو نظریہ آلہ آباد میں پیش کیا، اسے قرارداد کی شکل دینے کے لیے یہ لاکھوں کا مجمع مسلم لیگی قائدین کی سربراہی میں اکٹھا ہوا۔ جانتے تھے کہ تحریکِ آزادی کا یہ موڑ زندگیوں میں نئی مشکلات کھڑی کر دے گا۔

حصولِ علم اور ملازمت کے جو راستے پہلے ہی بہت تنگ کر دیے گئے تھے وہ بند بھی کیے جا سکتے ہیں۔ کلمہ گوئی کی سزائیں مزید سخت بھی کی جا سکتی ہیں۔ گھروں اور دکانوں کو جلایا بھی جا سکتا ہے۔ پھر بھی جذبہ آزادی انہیں کھینچ کر منٹو پارک لے آیا تھا۔ محمد ظفر اللہ نےکس جذبہ کے ساتھ قرارداد کا متن تحریر کیا ہوگا۔ اے۔کے۔فضل الحق کے لیے اس لمحے کی کیا اہمیت ہو گی جب انہوں نے مسلم لیگ کے اس سالانہ جلسے میں یہ قرارداد پیش کی ہوگی۔ آج جس مینار پاکستان کی ہم سیر کرنے جاتے ہیں، یہی تو وہ یادگار ہے ان لمحوں کی جب چودھری رحمت کے تجویز کردہ نام “پاکستان” پہ سب متفق ہوے۔ قائد اعظم کی تقریر نے آزادی کے متوالوں کا لہو گرما دیا ہوگا۔

یہ ہے وہ پاکستان جس نے اک سفر طے کیا خواب سے تعبیر تک۔لیکن یہ سفر لاکھوں جانوں کی قربانیوں اور ہجرتوں سے گزرتا ہوا منزل تک پہنچا۔ یہی وہ پاکستان ہے جس کی شناخت لیے ہم پوری دنیا کا سفر کرتے ہیں۔ اب اس کہانی سے باہر آتے ہیں اور اپنا جائزہ لیتے ہیں کہ جس آزاد اسلامی مملکت کا خواب بر صغیر کے مسلما نوں نے دیکھا اور اس کے لیے اتنی قربانیاں دیں وہ مقصد حاصل کرنے میں ہم نے کیا کردار ادا کیا؟

اگر جواب نہ ملے تو آیے عہد کریں کہ اس ملک کو دنیا کے نقشے میں ہی نہیں بلکہ حقیقی معنوں میں آزاد اسلامی مملکت بنانے کے لیے اپنا تن ،من، دھن لگا دیں گے۔ ہم امین ہیں ان خوابوں کے اور تعبیر تک کا سفر ہمیں جاری رکھنا ہے۔ اس نظریئے کی حفاظت کرنی ہے جس کے لیے یہ ملک قیام ہوا۔قدر کیجیے اس آزادی کی اور محبت کیجیے اس ملک سے۔

ملی نہیں ہمیں ارض پاک تحفے میں
جو لاکھوں دیپ بجھے تو یہ چراغ جلا

اپنا تبصرہ بھیجیں