فحاشی اور ہمارا قانون – ڈاکٹر محمد مشتاق




سب سے پہلے تو دستورِ پاکستان کی طرف آئیے جو ملک کا بنیادی قانون ہے اور دیگر تمام قوانین کو تبھی درست مانا جائے گا جب وہ دستورِ پاکستان سے متصادم نہ ہوں۔ دستور کا دیباچہ قراردادِ مقاصد کہلاتا ہے جو ہمارے دستوری و قانونی نظام کے بنیادی خدوخال واضح کرتا ہے اور دستور کی ہر شق کی تعبیر قراردادِ مقاصد کی روشنی میں کرنی ضروری ہے۔

قراردادِ مقاصد میں سب سے پہلے تو یہ اقرار کیا گیا ہے کہ پوری کائنات پر اقتدارِ اعلی اللہ تعالیٰ کا ہے اور یہ کہ پاکستانی قوم اللہ تعالیٰ کے تفویض کردہ اختیارات اس کے مقرر کردہ حدود کے اندر ایک مقدس امانت کے طور پر استعمال کریں گے۔ اس کے علاوہ اس قرارداد میں تصریح کی گئی ہے کہ جمہوریت، آزادی، برداشت اور سماجی انصاف کے تصورات کی تعبیر یہاں نافذ ہوگی جو اسلام کے مطابق ہو۔ نیز یہ بھی قرار دیا گیا ہے کہ ریاست کی یہ ذمہ داری ہے کہ انفرادی اور اجتماعی دونوں دائروں میں مسلمان اپنی زندگی اسلام کے مطابق بسر کرسکیں۔ مزید یہ اعلان کیا گیا ہے کہ اظہارِ راے سمیت تمام حقوق قانون اور عوامی اخلاق کے اندر میسر ہوں گے۔
دستور میں مذکور بنیادی حقوق کی فہرست پر نظر دوڑائیے تو ان میں بھی انھی حدود اور قیود کی تصریح کی گئی ہے۔ (مثال کے طور پر اظہارِ راے کی آزادی کے حق کی حدود کےلیے دیکھیے: دفعہ 19۔) اس کے بعد ریاستی پالیسی کے رہنما اصولوں کے باب میں خصوصاً دفعہ 31 دیکھیے جہاں ریاست کی یہ ذمہ داری ذکر کی گئی ہے کہ وہ انفرادی اور اجتماعی سطحوں پر اسلامی طرزِ زندگی رائج کرنے کےلیے ضروری اقدامات کرے گی۔

پھر اگر فوجداری قانون (یعنی جرم و سزا کے قانون) کی طرف آئیں، تو مجموعۂ تعزیراتِ پاکستان میں آپ کو کئی دفعات ملیں گی، جیسے عوامی مقامات پر فحش حرکات اور گانوں یا فحش لٹریچر پر سزائیں۔ اس کے علاوہ متفرق قوانین میں آپ کو بہت کچھ ملے گا لیکن ایک اہم قانون پتہ نہیں کیوں لوگوں کی نظروں سے بالکل ہی اوجھل ہوگیا ہے۔ یہ قانونِ نفاذِ شریعت، 1991ء، ہے جس کی دفعہ 3 میں قرار دیا گیا ہے کہ شریعت اس ملک کا بالاتر قانون ہے اور پھر دفعہ 4 میں صراحت کے ساتھ کہا گیا ہے کہ عدالتوں پر لازم ہے کہ وہ قوانین کی تعبیر اسلامی احکام کے مطابق کریں۔ پھر دفعہ 5 میں کہا گیا ہے کہ مسلمان شہریوں پر لازم ہے کہ وہ شریعت پر عمل پیرا ہوں اور اس مقصد کےلیے پارلیمنٹ کی ذمہ داری ہے کہ وہ سرکاری عہدیداروں سے شریعت پر عمل درآمد کروانے کےلیے ضوابط بنائے۔ دفعہ 6 میں ریاست کی ذمہ داری ذکر کی گئی ہے کہ وہ شریعت اور اصول فقہ کی تعلیم اور تربیت کا بندوبست کرے، اس مقصد کےلیے ٹریننگ کورسز کا انعقاد کرے، قانون کی تعلیم کے نصاب میں شریعت کی تعلیم کا اہتمام کرے،

عربی زبان کی تدریس کا بندوبست کرے اور افتاء اور عدالتی نظام میں شریعت کے ماہرین کی خدمات حاصل کرنے کا نظام بنائے۔ آگے دفعات 7 اور 8 میں بالترتیب تعلیم اور معیشت کو اسلامی سانچے میں ڈھالنے کی بات کی گئی ہے۔ پھر دفعہ 9 میں ریاست کی ذمہ داری ذکر کی گئی ہے کہ وہ میڈیا کے ذریعے اسلامی تعلیمات کی نشر و اشاعت کرے اور یہ کہ میڈیا پر فحش پروگرامز کی روک تھام کرے۔ پھر خصوصاً دفعہ 12 میں ریاست پر فریضہ عائد کیا ہے کہ وہ فحاشی، عریانی اور دیگر اخلاقی برائیوں کے خاتمے کےلیے اقدامات کرے۔
یہ محض چند مثالیں ہیں۔ تھوڑی سی تحقیق پر مزید تفصیلات بھی مل جائیں گی۔ اس سب کچھ کے ہوتے کیسے یہ سوال پوچھا جاسکتا ہے کہ ریاست کا فحاشی کی روک تھام سے کیا لینا دینا؟ جب تک یہ قوانین موجود ہیں، جب تک یہ دستور موجود ہے، جب تک دستور کا یہ دیباچہ موجود ہے اور جب تک اس ریاست کے رہنے والوں کی اکثریت خود کو مسلمان کہتی ہے، اس ریاست پر یہ لازم ہے کہ وہ فحاشی و عریانی اور دیگر اخلاقی برائیوں کی روک تھام کےلیے اقدامات اٹھائے اور مسلمانوں کو انفرادی اور اجتماعی دونوں سطحوں پر اسلام کے مطابق زندگی بسر کرنے کے مواقع فراہم کرے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں