میرے دوست – عیشا الیاس




منہ میں جانے ہی والے نوالے کو
جو اپنی قسمت میں لکھ لیتے ہیں
بس یہی تو میرے دوست ہیں

جب کوئی استاد بہت مشکل سوال پوچھتے ہیں
ہماری حالت سے واقف لوگ جو انہیں باتوں میں الجھا لیتے ہیں
یہ لوگ دوست کے نام سے پہچانے جاتے ہیں

مجھے بہلا کر باتوں میں جو کلاس چھڑواتے ہیں
لیکچر کے دوران جو باتیں سناتے ہیں
اسی روایت کی بنا پر یہ دوست کہلاتے ہیں

بیماری کے دوران بھی جو اتنا ہنساتے ہیں
ایسے لوگ ہی یہاں دوست جانے جاتے ہیں

ہمارے والدین جنہیں بہت معصوم مانتے ہیں
ان کی اصلیت تو صرف ہم ہی جانتے ہیں
کیونکہ ہم ان کے پوشیدہ چہرے پہچانتے ہیں

جو غیروں کو اقبال و ارسطو دکھتے ہیں
ہمیں وہ اپنے عجیب و غریب دوست لگتے ہیں

ہفتے میں ایک بار جن سے ہم خوب لڑتے
پھر ڈھٹائی سے سب کچھ بھلاۓ بات بھی کر لیتے ہیں
ایسی مخلق کو ہم دوست کہتے ہیں

بہت اچھا کچھ کرو یا کرو کچھ خوب برا
اس کا جو مزاق اڑاتے ہیں بد قسمتی سے
وہ بھی ہمارے دوست ہیں

جن کے ہونے سے کسی دشمن کی کمی محسوس نہ ہو
جو گردے میں پتھری کی حیثیت رکھتے ہوں
انہیں ہم دوست کہہ کر متعارف کرواتے ہیں

اب ہم اتنے بھی بے قدرے نہیں ہیں طالعہ
ہمیں اپنے دوست ہمارے دل گردے لگتے ہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں