خاندان میرا سائبان – حفصہ تیمور




میں اک عام سی لڑکی
بابا کے گھر کی شہزادی
خواب نگر میں رہنے والی
حیا پیکر مثل وفاداری
گھر کی لاڈ لی بیٹی ہوں میں
کھلی مجھ پر محبت کی پٹاری
بہت نازک مزاج فطرتا
اٹھائے بابا کے فخر کی تاج داری
کبھی خاص دوست کبھی لڑائی
بہت فرمائشوں پر ڈش بنائی
بڑی منت سماجت ہو رہی ہے
میرا سامان لا دو پیارے بھائی
کبھی ڈانٹیں تو بپا طوفان لگتے ہیں
میرے بھائی میرے لئے ارمان رکھتے ہیں
دنیا سے الگ دوستی ہماری
رکھے بھائی بہن کچھ رازداری
اک نئ دنیا کہیں بسائی
کسی انجان گھر بیوی بن کے آئی
بہو بھابی کے رشتے نبھا رہی ہوں
بن کے دیورانی جٹھانی گھر سجا رہی ہوں
دو گھرانے اک بنا گئی میں
کتنے انوکھے رشتے بنا گئی میں
کسی کی زندگی کا رنگ دھانی
اٹھائے عزتوں کی ذمےداری
میں خود کو اب اک جدا انسان لگتی ہوں
جب بھی تمھاری پیاری ماں لکھتی ہوں
فکرسے بوجھل پر مسکراہٹ سجا رہی ہوں
بن کے حوصلہ ہمتیں بڑھا رہی ہوں
منتظر ہوں ٹکائےنظر چوکھٹ پر
دعا میں عافیت مانگے جا رہی ہوں
کبھی بنت کبھی ام کبھی زوج بنی ہوں
ایسے قوس و قزاح رنگوں سے رنگی ہوں
 یوں ہی میں اپنی پہچان رکھتی ہوں
میں صورت خاندان سائبان رکھتی ہوں

اپنا تبصرہ بھیجیں