8 مارچ ۔۔۔۔۔عافیہ صدیقی کے نام کیا – مدیحہ صدیقی




میں عافیہ ہوں
کوئی سُنے تو
اسے بتاوُ
میں عافیہ ہوں
سُنا ہے عورت کا دن منانے کو
سب چلے ہیں
ذکر میرا کہیں نہیں ہے!!!
اکیلی,تنہا میں
قید خانے میں
ٹوٹی سانسوں میں
بکھری گنتی جو کر رہی ہوں
میں اپنے آنسو میں
عکس اپنے
جگر کے ٹکڑوں کا
دیکھتی ہوں
یہاں کے روزن
مرے تشخص کی کرچیوں کے
گواہ ٹھہرے
یہاں کے چہرے
عجیب وحشت
درندگی کا نصیب ٹھہرے
میری سوچیں ٹپک ٹپک کر
خموشیوں کا جمود توڑیں
یہاں کے دیوار و در کو تکتے
زمیں سے آہٹ
میں چنُ رہی ہوں
میری جانب جو قہقہے ہیں
ان ہی میں لاووُں
کی حدّتیں ہیں
اندھیرے منظر ,
طویل راتوں کی سسکیاں
تم سے پوچھتی ہیں
کیا چپُ رہوگے !!
کہو گے کیا تم ؟؟
جواز ہوگا
خموشیوں کا ؟؟
کوئی جو حجت
جو پیش کردو ؟؟
تمہارے کھاتے میں
آہ ہوگی
فغاں ہوگی
اُداس اجڑی
ایک عافیہ کا وجود ہوگا
شکستہ ٹوٹی
لرزتے ہونٹوں
برستی آنکھوں سے
وہ مجسم سوال ہوگی
قصور میرا ؟؟؟
کہ جیتے جی ژندہ لاش تھی میں
کیوں مجھ کو غم کی دیوار میں
تم نے چن دیا تھا !!
بتاوُ
کیا تم
حساب
اپنا
چُکا سکو گے ؟؟

اپنا تبصرہ بھیجیں