میرے دیس کا وہ مزدور سہی – فرح مصباح




وہ لوٹ کے گھر جب جاتا ہے
دہلیز کو اپنی پاتا ہے
خالی ہاتھ تو ہوتا ہے
نم آنکھوں سے مسکاتا ہے
بابا لائے ہو گڑیا کیا
بیٹی سے نظریں چراتا ہے
کیا میری گاڑی آئے گی
میرے دل کو بھائے گی
ایسے سوالوں کی زد میں
وہ مزدور جب آتا ہے
آنکھوں میں آنسو ہوتے ہیں
پر دھیرے سے سر ہلاتا ہے
دیہاڑی بنے جب معمولی سی
چٹنی روٹی کھاتا ہے
جب نہ ہو جیب میں ٹکا کوئی
بھوکا ہی سو جاتا ہے
میرے دیس کا وہ مزدور سہی
پر سب کے کام وہ آتا ہے
کبھی مالک کی جھڑکی پر
غمگین وہ ہو جاتا ہے
اس کے آنسو پونچھنے والا
کوئی نظر نہ آتا ہے
ہوتی ہے اس کی چھٹی
پر وہ نہیں مناتا ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں