ہوائی گاڑی کے بعد اب ہوائی ٹیکسی متعارف




اگر ہوائی ٹیکسیاں نقل و حمل کا ایک قابل عمل طریقہ کار بن جاتی ہیں تو اوک ریج نیشنل لیبارٹری کے محققین نے اندازہ لگایا ہے کہ ٹریفک کی بھیڑ کو ختم کرنے کے ساتھ ساتھ وہ ایندھن کی کھپت کو بھی نمایاں طور پر کم کرسکتے ہیں۔

ایئر ٹیکسیاں جو پوائنٹ ٹو پوائنٹ آن ڈیمانڈ ٹریول فراہم کریں گی، کا مقصد وقت اور ایندھن کی بچت کرنا ہے تاہم کئی ماہرین کا خیال ہے کہ ایندھن کی بچت ابھی بھی قابلِ بحث ہے۔

او آر این ایل کے مطالعے میں شہر لاس اینجلس اور لاس اینجلس انٹرنیشنل ائیرپورٹ کے مابین ہوائی ٹیکسیوں کے ذریعہ استعمال ہونے والی توانائی پر روشنی ڈالی گئی۔ یہ وہ راستہ ہے جس میں مخصوص اوقات کے دوران ٹریفک شدید ہوتی ہے۔

او آر این ایل کے ژنہونگ لن نے کہا  ہے کہ ہماری ہوائی ٹیکسی کاماڈل اگر کامیاب ہوجاتا ہے تو اس سے 3-20 فیصد ٹریفک کم اور ایندھن کا استعمال 15 سے 74 فیصد تک کم ہوسکتا ہے۔ چند مخصوص علاقوں میں مسافروں کا تھوڑا سا حصہ بھی اگر ہوائی ٹیکسیوں کو استعمال کرنے لگ جائے تو معیشت اور ماحولیات کے لئے  سود مند ثابت ہوگا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں