کرونا کی نئی قسم انسانوں‌ سے جانوروں‌ میں‌ منتقل ہونے لگی، تشویشناک خبر –




روم: اٹلی کے ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ کرونا کی نئی قسم سے جانور بھی متاثر ہونے لگے ہیں۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹ کے مطابق اٹلی میں ایک پالتو بلی کو کرونا وائرس کی نئی قسم کی تشخیص ہوئی ہے، اس کیس کے بعد ماہرین نے لوگوں کو بہت زیادہ احتیاط کرنے کا مشورہ دے دیا ہے۔

ماہرین کے مطابق بلی کا مالک حال ہی میں یورپ سے واپس اٹلی پہنچا، اس دوران وہ برطانیہ بھی گیا تھا، واپس آنے کے بعد اُس کی طبیعت خراب ہوئی جس کے بعد ٹیسٹ کیا گیا تو اُسے کرونا کی نئی قسم کی تشخیص ہوئی۔

ماہرین کے مطابق برطانیہ میں‌ پھیلنے والی کرونا کی نئی قسم کا وائرس مالک سے بلی میں منتقل ہوا جو بہت ہی خطرناک بات ہیں۔

رپورٹ کے مطابق بلی اور اس کے مالک دونوں کو سانس لینے میں دشواری کا سامنا تھا جسے طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا۔ ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ اب دونوں کی طبیعت تیزی سے بہتر ہورہی ہے۔

جانوروں کی صحت پر نظر رکھنے والے ادارے ’اینیمل ہیلتھ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ‘ کے ماہرین نے کہا کہ  یہ بات ثابت ہوگئی کہ وائرس مالک سے بلی میں منتقل ہوا ہے کیونکہ بلی اٹلی میں ہی تھی اور اُس کی طبیعت بھی ٹھیک تھی۔

کرونا کی نئی قسم کیا ہے؟

امریکی میڈیا رپورٹ کے مطابق برطانیہ میں سامنے آنے والی کرونا وائرس کی نئی شکل یاقسم کو ‘وی یو آئی 202012/01’ کا نام دیا گیا ہے۔ ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ وی یو آئی کرونا کے مقابلے میں 70 فیصد تیزی سے پھیلتا ہے۔ کرونا کی نئی شکل یا قسم کا پہلا کیس تیرہ دسمبر کو برطانیہ کے جنوبی علاقے کاؤنٹی کینٹ میں رپورٹ ہوا تھا۔

بعد ازاں جنوبی افریقہ میں بھی کرونا وائرس کی  نئی قسم کی تشخیص ہوئی جسے عالمی ادارۂ صحت کے ماہرین نے وی یو آئی سے مختلف قرار دیا۔

نئی قسم زیادہ مہلک ہے؟

طبی ماہرین کے مطابق کرونا وائرس کے مقابلے میں وی یو آئی میں 23 نئی تبدیلیاں دیکھی گئیں، جن میں متاثرہ شخص کا پروٹین بڑھنا اور ایک سے دوسرے انسان میں تیزی و آسانی کے ساتھ منتقل ہونا شامل ہے۔

برطانوی وزیر صحت میٹ ہان کا کہنا تھا کہ ’وی یو آئی کرونا کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے پھیل رہا ہے، مشرقی برطانیہ اور دارالحکومت میں نئے کیسز تیزی سے سامنے آئے ہیں، یہ قسم ویکسین کے خلاف مزاحمت کرسکتا ہے۔

برطانیہ کے چیف میڈیکل آفیسر کرس وٹی کا کہنا تھا کہ ’وی یو آئی کی وجہ سے زیادہ اموات کا کوئی ثبوت نہیں ملا، اس حوالے سے ماہرین نے شواہد اکھٹے کرلیے ہیں اور اب ہم اس پر تحقیق کررہے ہیں تاکہ اصل صورت حال کو جان سکیں‘۔

نئی قسم کے خلاف کرونا ویکسین کارآمد ہوگی؟

برطانیہ کے طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ’کرونا ویکسین کے مؤثر ہونے کے حوالے سے تحقیقات جاری ہیں جس میں دو ہفتے لگ سکتے ہیں، مگر امید ہے کہ کرونا کی نئی قسم ویکسین کی افادیت کو کم نہیں کرے گی‘۔

بچوں اور بڑی عمر کے افراد کے لیے نئی قسم خطرناک ہے

برطانیہ سے تعلق رکھنے والے ماہرین سمجھتے ہیں کہ جس طرح کرونا بچوں اور بڑی عمر کے لوگوں کے لیے خطرناک ثابت ہوا بالکل اُسی طرح نئی قسم بھی انہیں متاثر کرسکتی ہے کیونکہ وی یو آئی کے جو نئے کیسز سامنے آئے اُن میں بچوں اور بڑی عمر کے لوگوں کی تعداد زیادہ تھی۔

Comments

اپنا تبصرہ بھیجیں