سر زمینِ انبیاء بلا رہی ہے – لائبہ شاہد




تم کہاں کھو گئے ؟ تم کہاں سو گئے ؟

حشر میں قدس کے خدا کوتم کیا منہ دکھاؤ گے ؟

یوں بے بسی کی آڑ میں ، تم کہاں کھو گئے ؟

ساعتیں ، آہٹیں کرب میں بدلنے لگی ہیں 

درد،سسکیاں چیخوں میں ڈھلنے لگی ہیں

یوں بے حِسی کا لبادہ اوڑھ کر،تم کہاں کھو گئے

صفیں ہوگئیں ہیں ویراں کس قدر

کتنی آنکھیں ہیں ویراں تمہیں کیا خبر

خودغرضی کے تم تو مہمان ہوگئے ، تم کہاں کھو گئے ؟

دکھ بھلانے سے بھی یہ جاتا نہیں

صبر آتا نہیں،چین آتا نہیں۔۔۔

نیند ابدی وہ جاں نثار سو گئے،تم کہاں کھو گئے ؟

قدس کی زمین پہ دیکھو۔۔

حسرتوں،ظلمتوں کا ٹھاٹ ہے۔۔

نظر خالی ہوئی،دل ویراں ہو گئے،تم کہاں کھو گئے۔۔۔۔؟؟

تم کہاں کھو گئے۔۔۔۔۔۔۔۔؟

اٹھو کہ تم کو سر زمینِ موسیٰ بلا رہی ہے

چلو کہ تم کو سر زمینِ انبیاء بلا رہی ہے۔۔۔۔”

اپنا تبصرہ بھیجیں