اس شور میں – حمیرا حیدر




8 مارچ کو دنیا بھر میں خواتین کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں دو تین سال سے عورت مارچ کا بہت شور اٹھا ہے۔ نت نئے مطالبات ہیں جو بینرز پلے کارڈز پر آویزاں ہیں۔ وہ جائز ہیں ناجائز ہیں  اس کے حق میں اور خلاف لکھنے والوں نے کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے کہ اس پر مزید لکھا جائے۔ میں اس وقت صرف اپنے معاشرے کی چند جھلکیاں دکھانا چاہتی ہوں۔

یہ وہ رستے ناسور ہیں جن کو  علاج کی ،دوا کی، پھاہے کی ضرورت ہے. یہ وہ حقیقی مسائل ہیں جن سے نظریں چرانے کے لئے سڑکوں پر نکل کر فقط شوروغل مچایا جاتا ہے۔  ۔ ۔ ۔ ۔
(نوٹ: کردار فرضی مگر کہانیاں حقیقی ہیں)
   
        ————————-

عاصمہ کے والد سرکاری ملازم تھے۔ والدہ بچپن میں فوت ہو گئی تھیں ایک دن والد بھی ہارٹ اٹیک سے اچانک فوت ہو گئے۔ وہ ایک اچھے ایماندار انسان تھے اپنی محنت کی کمائی سے گھر بنایا جس میں سب بیٹے رہائش پذیر تھے۔ عاصمہ کی ابھی شادی نہیں ہوئی تھی۔بھائیوں کے تیور بدلنے لگے اور بھابھیوں کو وہ بوجھ لگنے لگی۔ ان سب حالات کو بھانپتے ہوئے اس نے جائیداد میں اپنا حصہ لینے کی سوچی اور یہی سوچ گویا اپنے پاوں پر کلہاڑی مارنا تھی۔  اس کا ساتھ سوائے بڑی بہن کے کوئی دینے والا نہ تھا۔ پہلے تو بھائیوں نے زبانی کلامی خبردار کیا پھر بات مار کٹائی تک آ گئی۔ ایک دن کمرے میں بیٹھی تھی کہ اچانک بھائی دو تین ہٹے کٹے مردوں کے ساتھ آ گیا۔ ان کو کمرے میں بھیج کر خود باہر نکل گیا انہوں نے اسے جکڑ لیا اور کوئی انجیکشن زبردستی لگا دیا جس سے اس کا دماغ سن ہو گیا اور بے ہوش ہو گئی۔ ہوش آیا تو خود کو ایک کمرے میں پایا جہاں اور بھی بہت سی لڑکیاں عورتیں تھیں۔

پتا چلا کہ اس کے بھائیوں نے اسے ذہنی امراض کے ایک کیئرنگ سنٹر میں ڈالا ہے۔ بظاہر تو یہ ایسا ادارہ تھا کہ جہاں ذہنی امراض کا علاج ہوتا ہے مگر وہاں موجود عورتوں میں سے کوئی ذہنی معذور نہ تھی بلکہ انہوں نے جائیداد میں حصہ مانگا تھا۔۔۔ تو یہ ادارہ دراصل مافیا کا لائسنس شدہ  اڈا تھا۔ یہ وہاں موجود عورتوں کو گولیاں اور ٹیکے لگاتے جن سے ان کے سوچنے کی صلاحیت سلب ہو جاتی۔ تشدد کیا جاتا۔ یہ لوگ گھر والوں کی مرضی سے گویا اغوا کر کے لاتے تھے۔
     
        
  ——‐————————–
فرزانہ کی عمر سات سال تھی وہ معصوم سی شرارتی سی ہنس مکھ بچی تھی۔ خیبر پختونخواہ کے دور افتادہ پہاڑی گاوں میں رہتی تھی اسے باہر کی دنیا کا کوئی علم نہ تھا۔ سارا دن اپنی سہیلیوں کے ساتھ کبھی پہاڑی پگڈنڈیوں پر اچھلتی کودتی پھرتی۔ ایک دن ماں نے اسے نئے کپڑے پہنائے گئے بالوں میں تیل ڈال کر چوٹی گوندھی آنکھوں میں سرمہ ڈالا۔ وہ ماں سے پوچھنے لگی کہ کیا آج عید کا دن ہے؟ ماں خاموش تھی بس اسے تیار کئے جا رہی تھی اتنے میں باہر کچھ لوگ مٹھائی لے کر آئے اسے دوپٹے کا گھونگھٹ نکال کر بٹھا دیا گیا۔ وہ چھوٹی سی بچی تھی اسے یہ بس کھیل لگ رہا تھا جیسے وہ اپنی سہیلیوں کے ساتھ کھیلا کرتی۔ مگر عورتوں کی باتوں سے پتا چلا کہ اس کی شادی کی جا رہی ہے  وہ بھی ساٹھ سال کے بوڑھے سے جس کی پہلے بھی بیوی بچے موجود ہیں۔  دراصل اس کا باپ اس بوڑھے کا مقروض تھا۔ قرض ادا کرنے کی سکت نہ تھی تو اس کا مطالبہ تھا کہ اب بیٹی قرض کے بدلے دی جائے۔یہ سب سنتے ہی اس نے رونا شروع کر دیا کپڑے نوچ کر پھینکنے لگی مگر اس کو مار پیٹ کر خاموش کرا دیا اور تھوڑی دیر میں رخصت کر دی گئی۔۔۔
      
–‐———————–

بختو ماسی لوگوں کے گھروں میں صفائی اور برتن دھوتی تھی۔ اس کا شوہر نائی تھا ( گاوں میں نائی شادی بیاہ پر دیگیں بھی بناتے ہیں) ان کی دو بیٹیاں اور تین بیٹے تھے۔ ہر ماں کی طرح بختو ماسی کو بھی اپنے بیٹوں کی شادی کا شوق تھا۔ اس نے قرضے لے کر بڑے بیٹے کی شادی کی۔ کچھ دن امن رہا پھر وہی ساس بہو کا جھگڑا اور بیٹے کا رن مرید ہونے کی کہانی۔ آخر وہ بیٹا الگ ہو گیا۔ کچھ عرصے بعد دوسرے بیٹے کی شادی کا ارمان اٹھا اور اسی طرح قرضے لے کر شادی ہوئی اور پھر وہی سب ہوا۔ اس نے اس دوران بیٹیوں کی شادی کر دی۔ قرض پر قرض بڑھتا گیا ۔ تینوں بیٹوں کی شادی ہو گئی سب اپنے گھر میں خوش بختو ماسی ساری زندگی محنت کرتی رہی مگر اب ہمت جواب دے گئی تھی۔ اور بیمار بھی رہنے لگی تھی۔ ایسے میں بیٹے پوچھنے بھی نا آتے ۔جن کے لئے خود کو قرضوں میں پھنسا لیا تھا ایک دوسرے پر زمہ داری ڈال رہے۔۔قرض خواہ الگ مطالبے کر رہے۔ دونوں کا کوئی پرسان حال نہیں۔۔۔
    
    ————————–

رانی بچپن ہی میں چچازاد سے منسوب کر دی گئی۔اسکی منگنی آٹھ سال رہی اور پھر اسکی شادی اس کے یورپ میں مقیم چچازاد سے ہو گئی۔ وہ چھٹی پر آیا تھا کچھ ماہ گزار کر واپس چلا گیا اور وعدہ کیا کہ جلد ہی اس کے کاغذ بنا لے گا اور اسے بھی لے جائے گا۔ رانی ساس سسر دیور نندوں کی خدمت کرتی گھر کے کام کرتی اس امید پر کہ جلد ہی اس کی خدمت کا صلہ ملے گا۔ ہر دو سال بعد اس کا شوہر چھٹی گزارنے آتا اور وعدے تھما کر چلا جاتا۔ ابھی تک گود بھی سونی تھی ایسے میں رانی چڑچڑی ہو گئی۔ شوہر تک خدمت گزاری کی خبریں تو نہیں پہنچیں مگر لڑائی جھگڑے ضرور پہنچتے۔ اس دوران شوہر کی اپنے دوست کے گھر اس کی سالی سے ملاقات ہوئی، نئی کہانی شروع ہو گئی اور وعدے قسمیں ہوئیں بات شادی کے پروپوزل تک پہنچ گئی تو اس نے شرط رکھی کہ پہلی بیوی کو طلاق دو گے تب شادی کروں گی۔ یوں رانی کو طلاق دے دی گئی اور وہ واپس اپنے باپ کی دہلیز پر آ بیٹھی ۔۔۔
         ————————-
سعدیہ ایک ہنس مکھ خوبصورت لڑکی تھی۔ والد بیرون ملک ہوتے تھے۔ وہ جب آٹھویں کو پہنچی تو اسے سکول سے اٹھا لیا گیا۔ پڑھائی میں واجبی تھی مگر کبھی سوچا نہیں تھا کہ سکول کو یوں ہی خیر باد کہنا ہو گا۔ بھائی کو پسند نہیں تھا کہ وہ مزید آگے پڑھے سو اس نے خط لکھ کر والد صاحب کو بھی قائل کر لیا اور یوں سعدیہ آٹھ جماعتیں بھی مکمل نہ کر سکی۔۔۔۔۔ جلد ہی اس کی منگنی بغیر اس کی مرضی جانے  طے کر دی گئی اور کچھ عرصے بعد شادی کر دی گئی۔۔۔
            
    ——————–

حسن جان کی کوئی اولاد نہ تھی اس کی کم عمری میں ایک بڈھے سے شادی کر دی گئی۔ پچیس سال کی عمر میں وہ بیوہ ہو گئی۔ اولاد تھی نہیں  والدین بھی فوت ہو گئے تھے ایک بھائی تھا وہ بھی عین جوانی میں فوت ہو گیا۔ بہنیں اپنے گھروں میں آباد مگر ہر طرف غربت ہی تھی۔ دیوروں  نے اس مکان اور زمین پر نظریں جما لیں جو شوہر کے مرنے کے بعد اسے ملی تھی۔ اسے وہاں سے نکلنے کا کہا مگر وہ کہاں جاتی؟ کچھ سال زور زبردستی کے گزارے مگر پھر اس کی بھینس گھر اور زمین پر جیٹھ نے قبضہ کر لیا اور اسے مار پیٹ کر نکال دیا گیا۔۔۔ گاوں دیہاتوں کی پنچائیت اور جرگے بھی جس کی لاٹھی اس کی بھینس کی طرح زور آور کے حق میں ہی فیصلہ کرتے ہیں اس کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا اور وہ گاوں چھوڑ کر وہ بہن کے پاس آ گئی۔ بہن کا اپنا گھر نہیں تھا اور وہ بھی جوانی میں بیوہ ہو گئی تھی۔ مگر جن کے پاس وہ رہتی تھی وہ بہت اچھے لوگ تھے۔ انہوں نے حسن جان کا سارا مسئلہ سنا دوبارہ جرگہ بلایا گیا۔ شاطر سسرال نے اسی پر اپنے پیسے کا دعوا کر لیا۔  اب کچھ کہنے کو بچا نہیں تھا۔ ان صاحب نے حسن جان کو اپنے گھر کے ملحقہ گھر رہنے کو دیا اور کہہ دیا کہ جب تک زندہ ہو یہیں رہنا۔  فکر نہ کرو اللہ کی پکڑ سے کوئی نہیں بچ سکتا۔۔۔
   
      ———————

مائدہ سات بہن بھائیوں میں چوتھے نمبر پر تھی اس کا ایک ہی بھائی تھا ارشد۔ اکلوتا ہونے کی وجہ سے وہ لاڈلا نکما  اور آوارہ تھا۔ باپ نے زور زبردستی کر کے حجام کا کام سکھا دیا اور ایک دکان بھی کھول دی۔ دکان کے پاس ہی ایک بیوہ عورت دو بیٹیوں کے ساتھ رہتی تھی اسکی بڑی بیٹی اور ارشد کا افیئر شروع ہوا۔ بات جلد ہی پھیل گئی پہنچتے پہنچتے بات لڑکی کے چچاوں تک پہنچی  جو کہ قتل در قتل کے سلسلے میں مفرور تھے۔ اس لڑکی کے والد بھی دشمنی میں قتل ہوئے تھے اور یہ سلسلہ چلتا آ رہا تھا۔ چچا جب آئے تو ارشد کے باپ کو کہا کہ تمہارے بیٹے نے ہماری عزت خراب کی ہے اب ہرجانہ ادا کرنا ہو گا۔ اور ہرجانے کے طور پر مائدہ  اس چچا سے بیاہ دی گئی جو پہلے سے ہی دو شادیاں کر چکا تھا۔۔۔ اس طرح ارشد کی جان بچ گئی۔۔
        
  ———————–

حلیمہ پار گاوں میں بیاہی گئی تھی۔ اس نے شوہر کے کہنے پر بھائیوں سے جائیداد میں حصہ لینا چاہا ۔ ہمیشہ کی طرح اس کے مطالبے کو کوئی مان نہیں رہا تو عدالت کا در کھٹکھٹانے کی سوچی تو بھائیوں نے عزت کے خوف سے خود ہی حصہ دے دیا۔ حصہ تو اسے مل گیا مگر بھائیوں نے اس کا بائکاٹ کر لیا گویا اپنا جائز حق لینے سے وہ میکے سے محروم ہو گئی۔  اس کا نام خاندان میں بھائیوں کو رسوا کرانے والی ہو گیا اور اب اس خاندان کی باقی عورتوں نے اس سے عبرت لی اور ایسے مطالبات سے توبہ کر لی۔۔۔۔۔
       
    —————–

خنساء ایک لائق لڑکی تھی اس کو پڑھائی کا بہت شوق تھا۔ بی اے میں تھی کہ ایک رات والدہ ایسی سوئیں کہ پھر نہ اٹھیں۔ بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹی تھی ماں اور باپ دونوں کی لاڈلی اس لئے ماں کی وفات کا زیادہ صدمہ اسی نے لیا ۔ سال بعد والد نے دوسری شادی کر لی۔ ہر کہانی کی طرح سوتیلی ماں اسے پسند نہیں کرتی تھی اس نے آہستہ آہستہ باپ کی بھی برین واشنگ کرنی شروع کی۔ خنساء نے خود کو مصروف کرنے کے لئے تعلیم میں پناہ لی۔ شادی کی عمر نکلتی جا رہی تھی مگر گھر میں کسی کو یہ احساس نہیں تھا۔ وہ جس نے خود کو تمام منفی رویوں سے بچانے کے لئے مصروف کیا تھا اب سب اسی تعلیم کو اس کی شادی کی راہ میں رکاوٹ کہہ رہے تھے۔ ہر آنے والے رشتے کو سوتیلی ماں کچھ ایسی من گھڑت کہانی سناتی کہ وہ واپس پلٹ کر نہ آتے۔۔ والد ذمہ داری سے گویا واقف ہی نہ تھے۔۔۔
       
  ——————-

فضیلہ کی شادی اس کے رشتے کی خالہ کے گھر میں ہو گئی تھی۔ فضیلہ ایک سرکاری سکول میں پڑھاتی تھی۔ جس شحض سے شادی ہوئی وہ کوئی کام نہ کرتا تھا۔ شادی کرنے کا مقصد دراصل بیٹھ کر بیوی کی کمائی کھانا۔ اور وہ ڈھٹائی سے کھا رہا۔۔ فضیلہ صبح کام نپٹا کر سکول جاتی واپس آ کر گھر اور بچوں کو دیکھتی اور شام کو بچوں کو ٹیوشن پڑھاتی۔ شوہر نہ گھر کے کام کرنے کو تیار اور باہر جا کر کمانے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ آخر تنگ آ کر فضیلہ نے خلع لینے کا سوچا مگر ایسے وقت میں باپ بھائی ماموں آڑے آ گئے کہ خاندان رسوا ہو جائے گا۔۔
     
   ———————-

روبینہ کی دو چھوٹی چھوٹی بچیاں تھیں۔ اس نے گھرمیں ہی پارلر کھول رکھا تھا۔ شوہر سارا دن گھر پر بیٹھا دوستوں سے سکائیپ اور واٹس اپ پر گپیں ہانکتا۔ گھر روبینہ کی ہی کمائی سے چلتا تھا۔ دو بار وہ پیسے جمع کر کے کچھ قرض لے  شوہر کو اچھے دنوں کی آس میں بیرون ملک بھیج چکی تھی کمائی کے لئے مگر دونوں دفعہ ہی وہ خالی ہاتھ پہلے سے بڑھ کر قرضے چڑھا کر آ گیا تھا۔ اسے عادت ہی نا تھی کام کرنے کی اور باہر جا کر تو کام اور بھی مشکل ہوتے ہیں ۔۔۔

———————————-

گلنار کی کم عمری میں ایک بھرےپورے خاندان میں شادی ہو گئی۔ وہ بہت دھان پان سی لڑکی تھی۔  ۔شادی کے چار سال میں ہی وہ اوپر تلے تین بچوں کی ماں بن چکی تھیاس کے لئے بچوں کو سنبھالنا اور گھر کے سب افراد کو راضی رکھنا بہت مشکل ہوتا جا رہا تھا ۔  اسے اپنا اور بچوں کا ہوش ہی نہ رہتا ۔خوراک کی کمی کی وجہ سے صدیوں کی بیمار لگتی تھی بچوں کو دودھ کیسے پلاتی۔ خوراک بہتر کرنے اور کام کا بوجھ کم کرنے کی بجائے حل کے طور پر دکان سے ملنے والے ٹی وائٹنر( جس پر واضح لکھا تھا یہ دودھ نہیں) پلانے کا مشورہ ملا، جس کی وجہ سے آئے روز بچے بیمار ہو جاتے۔ شوہر کا کام بھی واجبی سا تھا۔ بچے بھی بے حد کمزور سارا دن ادھر ادھر رلتے رہتے اور ماں  سارا دن گھر کے کاموں سے فارغ نہ ہو پاتی۔ 

—————————————-

ثمن نے ایک معروف تعلیمی ادارے سے اعلی ڈگری حاصل کی اور اب وہ ایک اچھی جگہ بہترین تنخواہ میں نوکری کر رہی تھی۔ شکل صورت کی بھی اچھی تھی۔  خاندان میں اس جیسا پڑھا لکھا کوئی نہیں تھا اس لئے وہاں تو شادی کا سوال پی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ باہر کے جو رشتے آتے ان کی نظر صرف کمائی اور جہیز پر تھی۔ شادی کی عمر نکلتی جا رہی تھی مگر کوئی مناسب رشتہ نہ آتا۔

—————————————————

آمنہ ایک پڑھی لکھی واجبی صورت کی مگر  اچھے خاندان کی لڑکی تھی۔ اس کی شادی کی عمر ہو چلی مگر جو بھی رشتہ آتا وہ اس کی ذہانت اور خاندان کے بجائے اس کی صورت کی وجہ سے اسے مسترد کر کے چلے جاتے۔ اب تو اسی کی دوسری بہنیں بھی اس کے برابر کی لگنے لگیں تھیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں