جب تک لیبیا میں غیر ملکی افواج ہیں ترک فوج واپس نہیں آئے گی، صدر ایردوان




جب تک لیبیا میں غیر ملکی افواج ہیں ترک فوج واپس نہیں آئے گی، صدر ایردوان صدر رجب طیب ایردوان نے کہا ہے کہ جب تک تیل سے مالا مال شمالی افریقہ کے ملک لیبیا میں غیر ملکی افواج موجود ہیں اس وقت تک ترک فوج کو واپس نہیں بلایا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ ترک فوج لیبیا میں صرف اور صرف عالمی حمایت یافتہ گورنمنٹ آف نیشنل ایکورڈ کی افواج کو تربیت دے رہی ہے۔ لیبیا میں باغی ملیشیا کے سربراہ خلیفہ ہفتار نے جنجگووں کی ایک غیر قانونی فوج تیار کی ہے جو ملک میں خانہ جنگی کر رہی ہے جس سے اب تک لاکھوں شہری جاں بحق ہو چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ روس، متحدہ عرب امارات اور مصر لیبیا کی غیر قانونی باغی ملیشیا کو اسلحہ اور امداد فراہم کر رہے ہیں۔ ترک فوج کی مدد سے لیبیا کی آئینی حکومت نے ڈیڑھ سال بعد جنگجووں سے دارالحکومت تریپولی کا قبضہ واپس لیا۔ ترک فوج نے لیبیا کو ڈرونز، انٹلی جنس اور لاجسٹک سپورٹ فراہم کی اور اسے ضروری اسلحہ دیا ہے تاکہ باغی ملیشیا کے ساتھ مقابلہ کیا جا سکے۔

صدر ایردوان نے کہا کہ ترکی پر دباوٗ ڈالا جا رہا ہے کہ نیگورنو کاراباخ اور لیبیا سے اپنی فوج واپس بلائے۔ آذربائیجان نے آرمینیا سے 30 سال بعد اپنے مقبوضہ علاقوں میں فتح حاصل کی ہے۔ ترکی چاہتا ہے کہ آذربائیجان ان علاقوں کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں لے اور جب تک آذربائیجان ان علاقوں پر مکمل کنٹرول حاصل نہیں کر لیتا ترک فوج کاراباخ سے واپس نہیں آئے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں