ابھی مہلتِ عمل باقی ہے – بنت زہراء




وقت کا پہیہ اچانک الٹا گھومنا شروع ہوگیا ۔ دنیا نے دیکھا کہ ایک جمِ غفیر غیظ وغضب سے بھرا ہوا ہے ۔ ایک ہنگامہ برپا ہے “کس نے ہمارے خداؤں کا یہ حال کیا ؟ تو پکڑ لاؤ اس کو سب کے سامنے ! تا کہ لوگ دیکھ لیں کہ اس کی کیسی خبر لی جاتی ہے۔ جلا ڈالو اس کو۔”
اور پھر آگ جلانا بھول گئی ، سلامتی بن گئی ابراہیم کیلیے (اپنے رب کے حکم سے)۔
پھر آوازیں آنے لگیں …… “اے نوح! اگر تو باز نہ آیا تو پھٹکارے ہوئے لوگوں میں شامل ہو کر رہے گا ۔ ” وہ اس پر جھپٹے، اور مار مار کر بے ہوش کر دیا۔ پھر مردہ سمجھ کر چھوڑ کر چلے گئے۔ نوح نے فریاد کی ……”اے میرے رب میری قوم نے جھٹلایا، میری مدد کر”…… پھر ایک طوفان اور سیلاب نے تمام زمین کو آلودگیوں سے پاک کردیا، “اے نوح اترجا ہماری طرف سے سلامتی اور برکتیں تجھ پر”. پھر پلٹ کر دیکھا تو بڑے بڑے سردار ہیں ۔ آنکھوں میں خون اترا ہواہے۔ ” اےصالح! ہم تجھ پر ایمان لانے والے نہیں۔ اگر تو سچّا ہے تو نشانی لا کر دکھا۔” صالح بولا “یہ اونٹنی ھے اس کو بری نیت سے ہاتھ مت لگانا ۔” لیکن انہوں نے اونٹنی کو مار ڈالا۔ خبر ملی “بس اب تین دن رہ بس لو اپنے گھروں میں” ۔ یہ ایسی میعاد تھی جو جھوٹی ثابت نہ ہوئی ۔ دور پھینک دی گئی قوم ثمود…….
میں نے گھبرا کر بھاگنے کی کوشش کی تو کیا دیکھتا ہوں، ایک بپھرا ہوا نشے میں مست مجمع ہے۔ ایک گھر کی دیواریں اور دروازے توڑ رہا ہے اور ایک بزرگ درخواست کر رہے ہیں کہ “میرے مہمانوں کے بارے میں مجھے رسوا نہ کرو۔ کیا تم میں کوئی بھی بھلا آدمی نہیں ہے……. اے لوط ہٹ جا ہمارے راستے سے۔ بہت پاک باز بنتا ہے! ” ، ندا آتی ہے ……. “بس صبح ہونے میں دیر کتنی ہے”. اور پھر فیصلہ آ پہنچا…… بستی تلپٹ کر دی گئی۔ مٹی کے پتھر تابڑ توڑ برسائے گئے ۔ ہر پتھر نشان زدہ تھا۔ ایک کے بعد ایک قوم دھماکوں کی نذر ہوئی۔سخت دھماکو‌ں نےبستیوں کو بے حس و حرکت کر دیا ……. میں چیخ اٹھا!، “یہ کونسی دنیا ہے؟ میں کہاں ہوں؟ میں یہاں سے بھاگ جانا چاہتا ہوں! یہ کون لوگ ہیں جن کوکھلی نشانیاں نظرنہیں آئیں؟ کیوں نہ حق انکو سمجھ آیا؟”. اچانک مجھے خوش پوش افراد کا ایک گروہ نظر آیا جو قہقہےلگارہے تھے۔ مکروہ قہقہے۔ خوب چہک رہے تھے۔ “دیکھا معافی مانگ لی ہم جیت گئے۔ کہتاہے‌ہم جھوٹے ہیں, دشمن کے ایجنٹ ہیں ,اس کی مجال کیسے ہوئی؟”
یہ آوازیں کچھ شناسا تھیں ۔میں چند قدم آگے بڑھا تو کیا دیکھتا ہو‌ں ۔ ایک سفید لباس میں ملبوس باریش بزرگ ہاتھ جوڑےکھڑے ہیں بولتے جا رہے ہیں۔ بھائیو مجھے معاف کر دو ،مجھے معاف کردو۔ میں دہل گیا……… یہ تو طارق جمیل ہیں! آہ! قسم ہےزمانے کی انسان خسارے میں ہے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں