ایک قابل نفرت حقیقت – جویریہ سعید




جو لوگ معشوقہ ، گرل فرینڈ اور بیویوں سے متعلق “لطیفوں” اور “مذاقیہ” اور زومعنی جملوں پر ہنستے ہیں ……. مجھے ان کی طبیعت کی نظافت پر شک ہوتا ہے۔ ان میں وہ بھی ہیں جو عورت کو جھنجھلاہٹ میں بھی میاں کو برا بھلا کہنے پر “عورت مارچ” اور “مغربی فیمنزم” کا طعنہ دے کر احادیث مبارکہ یاد دلاتے ہیں۔
خصوصا دینداروں کے ایسے لطائف شئر کرنے اور ان پر ہنسنے پر مجھے تعجب ہوتا ہے۔ اور سوچتی ہوں کہ اب حیا کا سبق کہاں گیا یا وہ صرف عورت کے لیے مخصوص ہے۔ اب سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا حوالہ کہاں گیا ۔ کیا آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محفل میں اس دوسری عورت کے بارے میں اپنی چھپی حسرتوں اور بیوی جیسی مصیبت کا “مزاخ” کر کے قہقہہ لگا سکتے تھے؟ عورتیں تو ناشکری ہیں جناب کہ آپ کے تھپڑوں اور طعنوں کے جواب میں بھی اپنی سہیلیوں یا گھر والوں سے آپ کی “غیبت” کی مرتکب ہوتی ہیں۔۔۔ اس لیے دوزخ میں جانے کے فتوے زبانوں پر دھرے ہیں۔ آپ مگر جو “مزاح” کرتے ہیں، اس پر جنت کی ضمانت ملتی ہوگی؟ فرائڈ تو گندی ذہنیت کا مالک تھا جو کہہ گیا کہ ہمارا مزاح ہماری ان کہی خواہشات کا لاشعوری اظہار ہے۔ مگر آپ بڑے پاکیزہ ہیں جو دوستوں کے حلقے میں بیٹھ کر عورت کے تصور یا حقیقی پرائی عورتوں کے بارے میں “مزاخ” کرتے پھرتے ہیں۔
اگر یہ ایسی ہی عام سی بے ضرر بات ہوتی تو اپنے ہی جس دوست یا جاننے والے کے ساتھ آپ خواتین کے بارے میں ذو معنی لطائف اور گفتگو کرتے پائے جاتے ہیں، اپنے گھر کی خواتین کو ان سے فاصلے پر رہنے کی ہدایت نہ کرتے۔ مزاح انسان کی شخصیت اور اس کے باطن کا آئینہ دار ہوتا ہے۔ پیارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حس مزاح پر تھوڑا سا مطالعہ فرما لیجیے۔ کسی بھی صنف ، رنگ ، نسل، زبان کے بارے میں تضحیک آمیز گفتگو کے لیے ……… ZERO TOLERANCE !!
شائستگی، ذوق مزاح اور اعلی جمالیاتی ذوق انسان کے مقام مرتبہ اور طبیعت کی نظافت کا آئینہ دار ہے۔ پھر پرواہ نہیں کہ اس کے پاس کیسی اور کون سی ڈگریاں ہوں۔ ایسے ہی تو تعلیم گاہوں، جائے ملازمت، گھروں اور بازاروں میں ہر سطح کی تعلیم و فن و ادب کے حامل افراد کے ہاتھوں خواتین کی بے حرمتی کے واقعات نہیں سنتے ۔
ہم خواتین کو پردہ اور حیا سکھاتے ہیں آپ بھی حضرات کو قلب و نگاہ اور گفتار و کردار کی پاکیزگی اور شائستگی سکھائیے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں