مَعْذِرَتً اِلٰی رَبِّکُمْ (تمہارے رب کے حضور معزرت) – بنت زہراء




نماز ادا کرکے جب میرے شوہر گھر میں داخل ہوئے تو کچھ ناراض تھے۔ پوچھنے پر انہوں نے بتایا کہ نماز کے بعد ہمارے ایک صاحب مسجد میں رمضان اور طاق راتوں کی اہمیت پر چھوٹا سا بیان دے رہے تھے، لیکن لوگوں نے سنا ہی نہیں، اٹھ کر جانے لگے۔ آخر انہیں جلدی ہی اپنی بات ختم کر کے بیٹھنا پڑا۔
ان کی اس بات سے میں بھی اداس ہو گئی اور اپنے کمرے میں جاکر بیٹھ گئی ۔ ابھی بستر سے ٹیک لگائی ہی تھی کہ کیا دیکھتی ہوں….. ایک بستی ہے، جس کے لوگ بہت خوش وخرم ہیں انہیں ہفتہ میں ایک دن کا کچھ خاص وقت اور سال میں ایک مہینہ دیا گیا ہے ،کہ اس ماہ میں وہ خاص رغبت سے رب کو راضی کرنے کی کوشش کریں گے اور وہ اسے پا کر بہت خوش ہیں ۔ پھر ان میں سے کچھ لوگ اٹھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہی تو مہینہ ہے…… جب انہیں کمانے کے مواقع ملتے ہیں اور وہ اب اس ماہ کے سارے پروگرام اپنی مرضی سے مرتب کریں گے ۔ پھر ان کے بازاروں میں رنگ برنگی خوبصورت مچھلیاں آنا شروع ہو جاتی ہیں۔ مختلف برانڈز کی مچھلیاں، سب لوگ ان کے خوبصورت رنگوں اور ڈیزاینوں کے دلدادہ ہوجاتا ہیں اور انکو حاصل کرنے کی تگ و دو میں شامل ہوجاتے ہیں۔ لوگوں کو ان مچھلیوں کا دلدادہ بنانے کے لیۓ بڑے بڑے شاپنگ مال بنائے جاتے ہیں۔
ان کو خوبصورتی سے سجایا جاتا ہے، بڑے بڑے ایئرکنڈیشنر لگا کر ان کو آرام دہ بنایا جاتا ہے۔ لوگوں کو وہاں بہت مزہ آتا ہے۔ لذیذ کھانے ان کے لئے رکھے ہوتے ہیں ۔سب ان چیزوں میں خوش اور مگن ہوجاتے ہیں۔ ان کے گھروں میں ہر سائز کی کھڑکیاں کھلتی ہیں جنہیں وہ L.E.D کہتے ہیں ۔ گھروں میں انکا زیادہ تر وقت ان کھڑکیوں کے سامنے گزرتا ہے۔ ان کے ہاتھوں میں بھی خوبصورت موبائل ہیں جن میں ان کے لئے netflix ، فیس بک، ٹویٹر اور دوسرے ناموں کی کھڑکیاں کھلتی ہیں۔ وہ ہروقت ان میں مگن رہتے ہیں۔ ان کے گلی کوچوں میں اکثر گانے گونجتے رہتے ہیں‌۔ شادیاں تو بغیر گانے اور میوذیکل نائٹس کے ہوتی ہی نہیں۔ ہر طرف ہنگامہ برپا رہتا ہے ۔ اچانک شور مچتا ہے کہ ایک وباء پھیل گئی ہے۔ سب گھروں میں بند ہو جاو! حکمران ان کے گھروں سے نکلنے پر پہرے لگا دیتے ہیں۔
اب سب بازار بند! میوزک پروگرام بند! مساجد بند! لوگ بھوک بھوک کا شور مچانے لگتے ہیں۔ اس بستی کے کچھ افراد مستحق گھرانوں کو کھانا کھلانے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن یہ سیر ہی نہیں ہوتے۔ کچھ تو اسی صدقے کے راشن کو جمع کر کے بیچنا شروع کر دیتے ہیں۔ایسا لگتا ہے جھپٹ رہے ہیں، ایک دوسرے پر لوٹ مار کا بازار گرم ہے کہ ایک جھٹکہ سے میری آنکھ کھل گئی۔ میں گھبرا کر اٹھ بیٹھی، ارد گرد دیکھا تو اللہ کا شکر اد کیا کہ یہ خواب تھا۔ اچانک میری بیٹی کمرے میں داخل ہوئی اور بولی: “امی PIA کا جہاز آبادی پر گر گیا ہے بہت ہلاکتیں ہوگئی ہیں، قیامت کا منظر دکھا رہا ہے ٹی وی. اناللہ واناالیہ راجعون بےاختیار میری زبان سے نکلا.
اللہ ہمیں اپنے غصّہ اور عذاب سے ہلاک نہ کر دینا۔ اس سے پہلے ہی عافیت میں لے لینا۔ (آمین

اپنا تبصرہ بھیجیں