ظلم کی رات کو اب مٹ جانا چاہیے – عائشہ بتول




اس دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ جب جب بنی نوع انسان نے قدرت کے کاموں میں دخل دیا،اس کے توازن کو بگاڑا ہے تب تب یہاں کے باسی ذلت و مصیبت کا شکار ہوئے ہیں ۔ اس کائنات کا توازن جن عناصر پر منحصر ہے اس میں “انصاف” کی حیثیت سب سے اہم ہے، حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ کا مشہور قول ہے کہ “نظام کفر کے ساتھ چل جائے گا لیکن بے انصافی کے ساتھ ناکام ہو جائے گا۔”
اور اگر بات ہو امت مسلمہ کی تو ذمہ داری اور بڑھ جاتی ہے ،قدرت کے اس توازن کو برقرار رکھنا ،ظلم کے خلاف ڈٹ جانا مسلمانوں کا دینی فریضہ ہے جس کی ہدایت اللّہ تعالیٰ نے ہمیں قرآن پاک میں دی اور امت مسلمہ جس نبی پاک صلی اللّہ علیہ وسلم کی پیرو کار ہے انھوں نے تو اس حوالے سے شاندار مثالیں پیش کی ہیں لیکن وہ جو شاعر نے کہا ہے کہ
دلوں کی تیرگی کا کچھ کرو اے اہل کاشانہ
فقط جشن ِچراغاں سے یہ کاشانہ نہ بدلے گا
منظر ملاحظہ کیجیے………. ایک مخزومی عورت نے چوری کی اور رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا ،لوگوں نے سفارش کے لیے اسامہ بن زید کی خدمات حاصل کی کیونکہ اللہ کے نبی ان سے بہت محبت کرتے تھے اور امکان تھا کہ وہ ان کی سفارش کو رد نہ کریں گے ۔ اس موقع پر نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ پر غور کریں ……. آپؐ نے فرمایا تم سے پہلے جو امتیں گزریں وہ اسی وجہ سے تو تباہ ہوئیں۔ وہ کم حیثیت (غریب آدمی) پر تو (شرعی) حد قائم کرتے تھے اور طاقتور اور پیسے والے کو چھوڑ دیتے تھے۔ قسم اس پروردگار کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر فاطمہؓ (میری بیٹی) بھی چوری کرے تو میں اس کا بھی ہاتھ کاٹ ڈالوں۔ (بخاری و مسلم) اللہ کے نبی صلی اللّہ علیہ وسلم نے پوری زندگی ظلم کے نظام کے خاتمے کے لیے جدوجہد کی اور انسانیت کو سکون و راحت کا ،راستی ک پیغام دیا ۔
اب اس منظر سے بار بار گزرنے والے افراد اور قوم نے کیا سیکھا یہ اس وقت پتہ چلتا ہے جب کوئی چچا اپنی معصوم بھتیجی کو شور مچانے کہ جرم میں قتل کر دیتا ہے اور آزاد پھرتا ہے ،جب مالک اور مالکن اپنی کمسن ملازمہ کو طوطے اڑا نے کے جرم میں تشدد کر کے ہلاک کر دیتے ہیں اور ان کی ضمانت ہو جاتی ہے ۔ یہ ہمارا چہرہ ہے اتنا بد صورت اتنا مکروہ ،ہمارا جو جھوم جھوم کر نعتیں پڑھتے ہیں اور حوض کوثر پر رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے دیدار کی تمنا رکھتے ہیں ۔ ہم سے تو کہیں اچھے وہ غیر مسلم ثابت ہوئے جنہوں گورے کالے کے تعصب کی وجہ سے ہونے والی اپنے بھائ کی ہلاکت پر بھر پور احتجاج کیا اور پوری دنیا کے سامنے اس واقعہ کو لانے کا سبب بنے۔ ان کے واقعے میں فرد کا اور معاشرے کا کردار جھلک رہا ہے ،انھوں نے مہذب دنیا کو جھنجھوڑا ہے لیکن ہمارے تعفن زدہ بے حس معاشرہ میں شاید سب بد روحیں رہتی ہیں اس لیے “انسان” کا کردار اب تک سامنے نہیں آیا ۔ یاد رکھیں تاریخ شاہد ہے کہ قدرت کبھی کسی قوم کہ اجتماعی گناہ معاف نہیں کرتی ۔
میں حیران ہوں کہ پاکستان میں قالین بافی میں بچوں کے استحصال پر آواز اٹھانے والی تنظیمیں کہاں ہیں ۔ “میرا جسم میری مرضی “والی معاشرے کی بااثر آنٹیاں کہاں ہیں ؟مدینے کی ریاست کا والی کہاں ہے ؟ میری آنکھوں کے سامنے پھر رہیں ہیں سیاسی مظاہرے ،دینی جلوس اور میری آنکھیں ڈھونڈتی ہیں عمر بن خطاب کو ،نور الدین زنگی کو،حجاج بن یوسف کو ۔ میں کس کو اپنی انگلیاں کاٹ کر خون سے خط لکھوں ؟اور کیا اس خط کا جواب آئے گا محمد بن قاسم کی صورت ؟ نہ جانے ہم، ہمارا معاشرہ اتنا بے حس کیوں ہے؟ اور نجانے ایسی کتنی ملازمائیں روز مرتی ہوں گی ؟ من حیث القوم اپنی ذمہ داری ادا کرنا قوم کی ذمہ داری ہے صاحب اقتدار کو اس کی ذمہ داری یاد دلانا قوم کی ذمہ داری ہے ورنہ ورنہ
رب کعبہ کی قسم آندھیاں آئیں گی ضرور
ہر اس بستی میں جہاں بیٹیاں یوں بے موت مریں
تم ہو خاموش ، بے بس، تو بس میری اتنی سن لو
ابابیلوں کے جھنڈ وہاں آئیں گے ،جہاں بیٹیاں یوں بے موت مریں ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں