کرونا اور خود احتسابی – بشریٰ تسنیم




دن رات اور موسموں کی طرح انسان کے حالات بھی بدلتے رہتے ہیں ۔ عقل والے ہر قسم کے حالات میں اپنا جائزہ لیتے رہتے ہیں کہ ان کا مقام ومرتبہ اللہ تعالی کی نظر میں کیا ہے؟ اللہ تعالی کا بھی یہی منشاء ہوتا ہے کہ اچھے برے حالات کے ذریعے وہ اپنے بندوں کی جانچ پرکھ کرتا رہے کہ اس کے بندے اپنے کے ساتھ کیا رویہ رکھتے ہیں ۔
(وَنَبۡلُوكُم بِٱلشَّرِّ وَٱلۡخَیۡرِ فِتۡنَةࣰۖ وَإِلَیۡنَا تُرۡجَعُونَ) (الانبیاء – 35) ……..(اور ہم اچھے برے حالات میں مبتلا کرکے تمہاری آزمائش کرتے رہیں گے اور ہماری طرف ہی تم سب نے پلٹ کر آنا ہے).
ولنبلونکم بشئ من الخوف والجوع ونقص من الاموال والانفس والثمرات وبشر الصابرین (البقرہ) …….. (اور ہم نے ضرور آزمانا ہے خوف ، بھوک ، اموال اور جانوں اور ثمرات کے نقصان میں مبتلا کرکے اور خوشخبری تو صبر کرنے والوں کے لئے ہے ).
مومن کو ہر حال میں اس بات کی فکر ہوتی ہے کہ رب العلمین اس سے راضی رہے ۔ خوشحالی ہو یا بد حالی وہ رب سے قربت کا متمنی رہتا ہے ۔ اسے اس بات کی فکر رہتی ہے کہ رب ناراض نہ ہوجائے ۔ ہم آج کل جن حالات سے دوچار ہیں ان میں ہمارا طرز عمل ہی بتائے گا کہ ہم اپنے رب سے کیا تعلق رکھتے ہیں یا ہم اپنے رب کی نظر میں کیا مقام رکھتے ہیں ۔ ساری دنیا ایک وبائی موسم میں وقت گزار رہی ہے ۔ یہ وقت ساری دنیا پہ ایک جیسی آزمائش بن کر آیا ہے مگر یہ وقت ہر فرد کے اپنے عقیدے ،نظریے ایمان علم اور عقل و شعور کے مطابق نتیجہ خیز ہوگا ۔ ان حالات میں جب سارے ضروری غیر ضروری اخراجات ،مشاغل، بند ہیں ۔ ہم کس نہج پہ سوچتے ہیں؟ گزرے وقت کے بارے میں کیا خیال ہے؟جو وقت گزر رہا ہے یہ گذشتہ گزرے وقت سے بہتر ہو رہا ہےیا اس سے برا ہورہا ہے ۔۔ ؟گزری عمر کی خرافات پہ ندامت ہے یا فرصت کے اس وقت کو غنیمت جان کر پہلے سے زیادہ وقت برباد کیا جا رہا ہے ؟ آخرت کی فکر کرنے والے اور رب سے محبت اور قرب کی تلاش کرنے والے مومن کو غور کرنا چاہئے ۔
جب بندے کو گناہ برے لگیں اوروہ گناہوں کی طرف لوٹنے کو ناپسند کرےتو سمجھ لے کہ یہ وقت خیر اور نیک اعمال کی قبولیت کی علامت ہے، اورموجودہ آزمائش اسے رب سے قریب کر رہی ہے ۔ اور جب انسان اپنے گناہ یاد کرکے غمزدہ ، نادم اور حسرت زدہ ہو تواس کامطلب ہےکہ اس کی توبہ اور عبادت قبول کرلی گئ ہے.اسے پہلے سے بہتر کی طرف لے جایا جا رہا ہے۔ رب سے قربت کی نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ بندے کا اور زیادہ عبادت ، نیکیاں کرنے میں دل لگتا ہے اور نیکیوں میں تیزی اور جوش و جذبہ بڑھ جاتا ہے . حسن بصری رحمہ اللہ کہتے ہیں : نیکی کی جزا ایک نیکی کے بعد دوسری نیکی اور برائی کی سزا ایک گناہ کے بعد دوسرا گناہ کرناہے۔ نیکیوں کے کام کو مسلسل کرتے رہنااور ان پر ثبات انسان کے لئے خاتمہ بالخیر کا سبب بن جاتاہے اور پھر اسے اسی حالت میں موت آتی ہے، جواطاعت الہی پرزندگی بسرکرےتوالله تعالیٰ کی کرم نوازی یہ گوارا نہیں کرتی کہ اس کو برےخاتمےیانافرمانی پر موت آئے ۔
الله تعالیٰ کےلطف وکرم کی سنت ہےکہ جو جس حالت پرزندگی گزارتاہےاسی حالت پر اسکاخاتمہ ہوتا ہے ۔ جوجس حالت پر مرتاہے اسی حالت پر اسے قیامت کے دن اٹھایاجائےگا۔ مومن نیکیوں پر مضبوطی سے جمے رہنےاور تقرب الٰہی کے اعمال کرتے رہنےکےباوجود اپنے دل میں بہت زیادہ ڈرتارہتاہے، کہیں وہ قبولت سے محروم نہ کردیاجائے، یہ فکر بھی قربت الہی کا موجب بنتی ہے۔ عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللهﷺ سے اس آیت کے بارے میں پوچھا “وَالَّذِينَ يُؤْتُونَ مَا آتَوْا وَقُلُوبُهُمْ وَجِلَةٌ”…… “(وہ لوگ جو اللہ کےراستےمیں جوکچھ بھی دیتے ہیں جبکہ انکے دل ڈر رہے ہوتے ہیں)” ……کیا یہ وہ لوگ ہیں جوشراب نوشی کرتے ہیں اور چوریاں کرتے ہیں ؟آپﷺنے فرمایا نہیں اے صدیق کی بیٹی،،بلکہ یہ وہ لوگ ہیں جو روزے رکھتےہیں اور نمازیں پڑھتےہیں اور صدقہ کرتے ہیں اور ڈرتے رہتے ہیں نجانے یہ اعمال ان سےقبول کیے جائیں گےیانہیں،تو یہی لوگ نیکیوں میں سبقت لے جانے والے ہیں۔۔! فرصت کے ان لمحات میں نیکی کی طرف رغبت اور ان پہ ثابت قدمی،گناہوں پہ استغفار کی کثرت ہے تو یہ رب کی خصوصی نظر عنایت ہے۔
قرب الہی کی علامات میں سے ہےکہ مخلص اپنے اعمال کو حقیرجانتے ہیں ،ان کو کچھ نہیں سمجھتےنہ ان کا پرچار کرتے ہیں نہ ہی مغرور ہوتے ہیں وہ ڈرتے ہیں کہ کہیں ان کا اجر ضائع نہ ہوجائے۔ انکا اپنے اعمال کو حقیر جاننا دراصل معرفت الٰہی اور ربانی نعمتوں کا ادراک اور اپنے گناہ اور کوتا ہیوں کو یاد کرنے کی بنا پر ہوتا ہے ۔ اللہ تعالی کی نظر میں اس بندے کا مقام بلند ہے جس کا دل آخرت کے ساتھ معلق ہوجاتا ہے، وہ ہر وقت اللہ تعالیٰ کےحضور کھڑے ہونےاور اپنے اعمال کی جوابدہی کو یاد رکھتاہے ۔ تو جوابا اللہ تعالی بھی اسے یاد رکھتا ہے ۔ (فاذکرونی اذکرکم ) اور اسے گناہوں سے دور رکھتا ہے . اللہ تعالی کا محبوب بندہ آخرت میں عذاب سے ڈرتاہے اسلئے صغیرہ کبیرہ گناہوں پراپنا محاسبہ کرتارہتا ہے۔ اللہ تعالی کی نظر عنایت کی علامت میں سے ہےکہ اللہ تعالی اپنے محبوب بندے کے دل میں صالحین کو محبوب اورنافرمانوں کو ناپسندیدہ بنادیتے ہیں۔
بندے کااپنے تمام اعمال الله کے لیےخالص کرلینا اپنےخلوص میں شہرت اور ریاکاری کی ملاوٹ نہ کرنا ، اپنے عمل میں مخلوق میں سے کسی کو شریک اور حصہ دار ہر گز نہ بنانا ،دراصل اللہ تعالی کا پسندیدہ بن جانا ہے ۔ اپنی جان کو اور گھر والوں کی جانوں کو جہنم کی آگ سے بچانے کی فکر آج کی سب سے بڑی فکر عقلمندی کی دلیل ہے ورنہ سب احمق ہیں ۔ ان امتحان کے دنوں میں انسان کا برائیوں پر برقرار رہنااور حرام کاموں کی طرف رغبت رکھنا اور شرعی واجبات فرض نمازوں وغیرہ کو چھوڑدینا یا اپنی من مرضی کے مطابق شریعت کی پابندی کرنا، اعمال صالحہ میں پہلے کی طرح ہی سستی دکھانا اس بات کا مظہر ہے کہ بندہ وہ مخلوق ہے جس کو نہیں پتہ چلتا کہ “مالک نے اسے کیوں باندھ دیا کیوں چھوڑ دیا ” ایسا بندہ اللہ تعالی سے دور ہو رہا ہے ۔ اور ر ب نے دوستی کے لئے اپنا ہاتھ بڑھایا تھا مگر اس نے اسے جھٹک دیا ہے ۔ فاعتبروا یا اولی الابصار …….غور کرنے کا مقام ہے کہ گھر میں فرصت کا وقت کیسا گزر رہا ہے؟
صرف کھانا پینا، سونا ، ٹی وی پہ فلمیں ڈرامے دیکھنا ، موبائل کا بے جا استعمال نفسانی خواہشات کا غلبہ ہے ۔ رب کے سامنے کھڑے ہونے سے بے فکری بڑھ گئ ہے تو اپنے رب سے دعا کی جائے کہ وہ “دل بدل دے “۔ اگر فرائض میں زیادہ یکسوئ ،قرآن پاک کی تلاوت میں اضافہ ۔ اپنا محاسبہ کرتے ہوئے استغفار، بہتر سے بہترین اعمال صالح کی لگن ۔ انفاق فی سبیل اللہ میں کشادہ دلی ، گھر والوں کی اخروی کامیابی کی لگن کے ساتھ باہمی تعلقات میں نرمی آگئ ہے ۔مستقبل میں رجوع الی اللہ پہ ثابت قدمی کا عزم ہے تو پھر مبارک ہو اللہ تعالی سے قر ب کی راہ ہموار ہو رہی ہے ۔ گناہوں سے معافی مل رہی ہے گویا رب راضی ہوکر جنت کی بشارت دے رہا ہے ۔۔
ربنا تقبل منا انک انت السمیع العلیم ……. اللهم وفقنا لما تحب وترضى …….. ولا حول ولا قوة الا بك

اپنا تبصرہ بھیجیں