احساس – صائمہ عبد الواحد




ہم دونوں بہنیں اور میری امی ……. گھر میں تین خواتین کی موجودگی نے ہمیشہ دل میں ایک بھرے گھر کی تصویر سجائے رکھی ۔ شادی کے بعد کچھ ادھورا سا احساس لگا ….. کیونکہ ہم عمر کوئی نہ تھا بات کرنے کو۔
ساس سے علیحدگی اور گھر میں بیٹی کے نہ ہونے کا احساس دل میں کسی شے کی کمی محسوس کرتا رہا مگر یہ احساس بھی ایسا تھا کہ کبھی ابھر کر سامنے نہ آیا ۔ اس بار لاک ڈاؤن میں میری خصوصی توجہ اس بات پر رہی کہ بیٹی کو پنج وقتہ نماز کی عادت ڈالی جائے کہ دس سال کی ہونے کو ہے …… مگر ہر بار نماز کو ٹال جاتی. کبھی اسکول کے کام کا بہانہ تو کبھی کھیل کا یا کارٹون کا ۔ یہ احساس رہا کہ بیٹے تو جلدی نماز پڑھنا سیکھ گئے تھے مگر یہ کس مٹی کی بنی تھی کہ ٹس سے مس نہ ہوتی ۔ اکثر میرے ساتھ درس میں چلتی تھی مگر نماز کے لئے سستی دکھا جاتی۔ لاک ڈاؤن کے دوران جیسے سکول بند ہوئے پہلے چار وقت کی نماز اور پھر بعد میں پنج وقت نماز کی عادت ڈالی ۔ اس بات کا میں تصور ہی نہیں کرسکتی تھی کہ اس کے ساتھ نماز ادا کرنے کا ایک الگ ہی مزہ آنے والا ہے مجھے نیت نہیں باندھنے دیتی جب تک خود جائے نماز بچھا کر ساتھ کھڑی نہ ہوجائے ۔ اگر کہیں چلی جائے تو کہہ کر جاتی ہے نماز نہیں پڑھنا ساتھ پڑھینگے۔ اگر میں ادا کر لوں تو منہ پھلا کر بیٹھ جاتی ہے کہ میرے بغیر کیوں ادا کی نماز ۔
بہن کے ساتھ نماز پڑھنے کا وہ احساس جو بچپن کی یاد میں کہیں دب کر رہ گیا تھا پھر سے جاگ گیا ۔ سنتیں فرائض نوافل اور اذکار اس کا ایک الگ ہی احساس ہے جو میں ہر بار محسوس کرتی ہوں ۔ ان دس سالوں میں آج سے پہلے میں نے کبھی نہ جانا کہ بیٹی کا ساتھ کس قدر حسین و خوبصورت احساس دلاتا ہے ۔ ماں بیٹی تو سہیلی ہوتی ہیں……. اگر کوئی جانے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں