ارطغرل غازی کا سحراورامت مسلمہ پر اثرات ! – نوشابہ یعقوب راجہ




ارطغرل غازی سیریز نے تمام دنیا کی ڈرامہ اور فلم انڈسٹریز کو پیروں تلے روند ڈالا ہے اور تمام دنیا میں کامیابی کے جھنڈے گاڑ دیے ہیں. دن بدن نئے ریکارڈز قائم ہوتےجا رہے ہیں ۔ اس ڈرامہ کے مصنف اور پروڈیوسر مہمت بوزداغ نے جتنا خوبصورت یہ شاہکار تخلیق کیا ہے اور پروڈیوس کیا ہے.
اور جتنی شاندار کاسٹ لی ہے ہر شخص لگتا ہے بنا ہی اسی کردار کے لیے تھا یا پھر یہ اس کہانی کے اصل کردار ہیں ۔ ارطغرل غازی کا کردار کرنے والے ایکٹر ( انجین آلتان دوزیتان ) نے جس محبت اور اخلاص کے ساتھ یہ کردار نبھایا ہے اور ارطغرل غازی کا لقب پایا ہے وہ اپنی مثال آپ ہے۔ اس کردار نے دم ٹوڑتی امت مسلمہ کے دل میں اسلام سے محبت کی شمع روشن کی ہے۔ بچوں بڑوں بوڑھوں، مرد و خواتین میں اسلام سے محبت اور یکایک ایمان کی تازگی کا احساس جو اس ڈرامہ سیریز نے جگایا ہے …….وہ عرصہ دراز سے کسی معجزے کا منتظر تھا اور ارطغرل غازی وہ ٹائٹل اپنے نام کر گیا اس ڈرامے کا لطف ،اسکی مہک اور اس کا سحر اک مدت تک محسوس کیا جاتا رہے گا۔ یاد رہے یہ کردار ہمارے شاندار اسلاف کی ایک شخص کے اخلاق و کردار کی جھلک ہے جس نے تمام عالم کی آنکھیں چندھیا کر رکھ دی ہیں ۔ یہ اتنا شاندار کردار ہے جس نے تمام دنیا کی ڈرامہ و فلم کی صنعت میں خوفناک زلزلہ برپا کر کے رکھ دیا ہے۔ یہ ہمارے اسلاف کا ایک ٹریلر ہے …… پکچر ابھی باقی ہے میرے دوست!!
ایک عرصہ سے کسی ایسے مسیحا کا انتظار تھا جو ہماری اقدار اور روایات سے ہٹتی نوجوان نسل اور تمام امت کو کوئی ایمانی جھٹکا لگا سکے یہ اعزاز مہمند بوزدار اور انجین آلتان دوزیتان اور ارطغرل کی ٹیم کے نام جاتا ہے جاتا ہے۔ جنھوں نے رات کی نیند اور دن کا سکون سب چھین لیا جو ایک بار کائی قبیلہ میں گیا…… وہ پانچ سیزن ختم ہونے سے پہلے نہ لوٹا بلکہ کہاں پھر عثمان غازی کے ہمراہ ہو لیا۔یہ ڈرامہ درحقیقت ایک شاہکار اور سحر ہے جو موجودہ دور کی اہم ضرورت تھا۔ جب کہ تمام امت مسلمہ کے بچے غیر مسلم کلچر اور نام نہاد کارٹونز اور جعلی ہیروز کے پیچھے پڑے تھے انھیں اپنے مقام مرتبے کا کوئی ہوش نہیں تھا ۔ دیکھا دیکھی مسلم ممالک کے ڈراموں میں میں وہی ہندؤانہ تہذیب اور کلچر رچ بس رہی تھی ۔ ہماری پاکستانی ڈرامہ اور فلم میں اخلاق اور ہماری تہذیب اور اقدار کا جنازہ نکل رہا تھا۔ہر کوئی ماڈرن دور کے تقاضے کو پورا کرتے ہوئے بے حیائی اور بے غیرتی میں ایک دوسرے کو پیچھے چھوڑ رہا تھا ۔
پاکستان میں پرائیویٹ چینلز کی وجہ سے پی ٹی وی کافی خسارے میں جا رہا تھا…….. وزیراعظم عمران خان صاحب کی خواہش پر ارطغرل غازی کو پی ٹی وی پر اردو ڈبنگ کے ساتھ شروع کیا گیا اور دیکھتے ہی دیکھتے پی ٹی وی کی ریٹنگ آسمان کی بلندیوں کو چھونے لگی۔اکیسویں صدی کے ماڈرن بچے اور نوجوان اس ڈرامے کو بے حد پسند کرنے لگے ……. یہ صرف پاکستان نہیں دنیا بھر میں مختلف زبانوں میں ڈب ہو کر پیش کیا جا رہا ہے اور تمام عالم اسلام میں اس کی پسندیدگی کا یہی عالم ہے۔بڑی خوشی اور فخر سے یہ کہنے کو دل کرتا ہے اب ہمارے نوجوان ارطغرل ، ترگت ، باسمی ، روشان ،عبدالرحمان کو اپنا آئیڈیل سمجھتے ہیں۔ اور اب وہ ان جیسا بننا چاہتے ہیں۔ ہمارے کچھ فنکاروں اور کچھ طبقوں کو یہ ڈرامہ کی مقبولیت ہضم نہیں ہوئی اور اس ڈرامے کی بے پناہ مخالفت بھی کر رہے ہیں۔اس سے ہماری ڈرامہ انڈسٹری تباہ ہو گی یہ ہمارا کلچر نہیں ہے یہ اسلام نہیں ہے وغیرہ وغیرہ ۔
یہ 100% اسلام نہیں ہے 5% اسلام کے شعائر کے خلاف بھی چیزیں ہو سکتی ہیں ۔ کچھ فکشن ہو سکتا ہے….. کچھ تاریخ سے ہٹ کر ڈرامے کی ڈیمانڈ کے مطابق ردوبدل ہو سکتا ہے۔ میرا پوچھنا یہ ہے کیا جو کچھ ہمارے چینلز ڈرامے اور فلمیں انڈین ڈرامہ اور کارٹونز دکھاتے ہیں کیا وہ سب شریعت کے مطابق ہے۔ ہمارے بچوں کے اخلاق و کردار کو تباہ کر کے رکھ دیا گیا ہے۔ نہ معاشرے کو اعتبار کے قابل چھوڑا گیا نہ گھروں کے ماحول کو پاکیزہ رہنے دیا گیا۔ یہ ڈرامہ ہمارے فلم اور ڈرامہ کی صنعت سے کروڑ گنا شاندار اور قابل تحسین ڈرامہ ہے۔ اس ڈرامے کی سب سے خوبصورت بات والدین اور بڑوں کا احترام، بچوں کا بڑوں کا اجازت مانگ کر خیمے میں آنا ، اختلاف یا بات مزاج کے خلاف جانے کے باوجود والدین کا احترام اور ان کی بے پناہ عزت کرنا،مشورہ کرنا جرگہ بلانا ، ایک دوسرے سے محبت اور احساس، اللہ پر تو کل اور اسکی رضا کا حصول ، اپنے قبیلے کی محافظت، اپنی اسلامی اقدار اور روایات کی پاسداری، محنت اور اللہ پر بھروسہ، نبی مہربان حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر اور سینے پر ادب اور عقیدت سے ہاتھ رکھنا ، مرد و خواتین کا باعزت اور اپنی حدود اور دائرے میں رہ کر کام کرنا، اس ڈرامے نے دکھایا عورت پورے لباس اور حجاب کیساتھ بھی شہزادی اور مرد داڑھی اور باوقار کردار کیساتھ شہزادہ لگ سکتا ہے۔ محبت ایک فطری جذبہ ہے مگر اسلامی حدود و قیود میں رہ کر اسے حلال رشتے نکاح میں کیسے بدلا جا سکتا ہے۔
حائمہ آنا ک شاندار کردار ایک بیٹی، بیوی، ماں، ساس، قبیلہ کا شاندار انتظام، قبیلے کے لوگوں کا احساس اور ان کا خیال ، مشکل مواقع پر دشمن سے تلواروں سے لڑنا اور دفاع کرنا، بہو کی موت کے بعد اپنے پوتوں کی شاندار پرورش کرنا، مشکل وقت کا دلیری سے مقابلہ کرنا،ہر حال میں اللہ کا شکر ادا کرنا، شاندار مہمان نوازی اور مہمانوں کی عزت اور تکریم، اپنے قبیلے میں پناہ دینے والے مہمانوں کے لیے ہر مصیبت کا ڈٹ کر مقابلہ کرنا، اندرونی بیرونی سازشوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرنا، اسلامی روایات کی پاسداری، مظلوم کی حمایت اور مدد کرنا چاہے کیسی دشواریوں کا سامنا کیوں نہ کرنا پڑے۔ ظالم اور جابر کے سامنے کلمہ حق بلند کرنا چاہے اس کی بڑی سے بڑی قیمت ادا کرنی پڑے،مشکل اور آسانی میں عہد کی پاسداری کو نبھانا، زندگی میں جب کوئی فیصلہ کر لیں تو اسے پوری ایمانداری سے نبھائیں نتائج اللہ پر چھوڑ دیں.
کوشش اور محنت ہماری کامیابی اللہ کی، خواتین کا احترام اور ان سے مشاورت،بچوں کو رزق حلال کھلانا اوران کی شاندار پرورش …… اس ڈرامہ میں مجھے ارطغرل غازی اور ان کے بیٹوں گندوزو ، ساوچی اور عثمان سے بچپن سے لیکر جوانی تک تربیت اور آئیڈیل رشتے کی خوبصورتیاں بہت پسند آئیں۔ ایک باپ کا رشتہ اپنے بچوں سے بالکل ایسا ہونا چاہیئے۔ بھائیوں کا احساس اور محبت کا خوبصورت رشتہ،اسلام کے دفاع اور سربلندی کی خاطر کسی طرح کی جانی و مالی قربانی سے دریغ نہ کرنا، ریاست اور قبیلے کے باغیوں، سازشییوں کا عبرت ناک انجام تک پہنچانا ، مظلوم لوگوں کا تحفظ اور ان کی مدد اور ان کا خیال رکھنا، ارطغرل غازی کے اخلاق و کردار سے متاثر ہو کر آرس کا قبول اسلام اور اسلام کی خاطر خدمات اور شہادت ۔ یہ سب ہماری اسلامی روایات زندگی ہیں غرض یہ کہ یہ سیکھنے والوں کے لیے شاہکار سیریل ہے کم از کم اسے دیکھ کر ہمارے بچے ایمان کی بتی جلائیں گے اور اقوام عالم کو روشن کریں گے یہ ہمارے اسلاف کے ایک جگنو کی روشنی ہے…….
ہمارے پاس دنیا کو دکھانے اور اپنے بچوں کو سکھانے اور بتلانے کو قیمتی خزانہ ہے ۔امت کے خزانے کا منہ کھول دیا گیا ہے ….. اب نایاب لوگ آگے آئیں اور شاندار کرداروں پر ڈرامہ اور فلمز بنائیں اور مزید اسلامک ہیروز سے دنیا کو متعارف کروائیں۔ہماری شاندار اسلامی تاریخ ہمارا اثاثہ ہے اور اس کی حفاظت اور امت مسلمہ کو وہ وراثت منتقل کرنا ہمارا فرض ہے۔اگر بری ڈرامہ اور فلمز اخلاق بگاڑ سکتی ہیں تو اس انڈسٹری کا ارطغرل غازی جیسا استعمال نوجوان نسل کو سنوار بھی سکتا ہے ۔ بہت ہی شاندار کردار ابن عربی کی تعریف نہ کرنا بہت زیادتی ہو گی،ابن عربی کی شاندار تربیت اور رہنمائی ارطغرل غازی سےاسلامی ریاست کی وہ مضبوط بنیادیں رکھواتی ہے جو وہ قائی قبیلہ جس کے پاس ایک انچ اپنی زمین نہ تھی انھیں اللہ ایسی شاندار زمین سوگوت میں عطا کرتا ہے جو اسلامی سلطنت عثمانیہ کی بنیاد بنتی ہے اور آگے چل کر اللہ رب العزت اس کی نسل سے عثمان اور پھر اس کے بیٹے اوور خان سے فتوحات کرواتے ہیں اور یہ سلسلہ چلتا رہتا ہے بالاخر دنیا کے تین براعظموں میں یہ سلطنت 600 سال تک قائم رہتی ہے،اللہ سے مبحت اور توکل کرنیوالے اور اس کی راہ پہ چلنے والوں کو اللہ دنیا و آخرت تمام کامیابیوں سے نوازتا ہے۔ ارطغرل غازی کا یہ سبق اور مشن ہمیشہ یاد رکھا جائے گا ہر ایک کی سماعتوں سے یہ آوازیں ہمیشہ ٹکراتی رہیں گی اور ایمان جگاتی رہیں گی۔
” منزلیں مارتے برق رفتار شہسواروں کی قسم ……… کوسوں دوڑتے سِموں سے اُڑتی چنگاریوں کی قسم ……. اپنی ناموس کی خاطر
اسلاف کے نام کی خاطر ………. کسی جنگ میں اگر میں پیٹھ دکھانے کا سوچوں بھی تو ……… خدا مجھے کسی نوآموز کی تلوار سے نیست و نابود کردے ………… مجھے سینۂ ارض پر کہیں پناہ نہ ملے ……….. تاریخ کے ورق سے میرا نام ہمیشہ کیلئے مٹ جائے …….. اپنے عظیم آباء و اجداد کے نام سے ……….. اپنے قبیلے کے نام سے ……… مجھے تا اَبَد کوئی نہ پہچانے ……… ربِ ذو الجلال ہر معرکے میں مجھے فتح مند فرمائے۔”
مجھے ارطغرل ڈرامہ میں ایک اور بات جو سب سے اچھی بات لگی وہ انکا دعا مانگنا کا طریقہ ہے…… جب بھی دعا مانگتے ہیں۔ کہتےہیں
یا ﷲﷻ….. ! حضرت ابراہیمؑ کو آگ سے محفوظ رکھنے والے…..حضرت یوسف ؑ کو اندھیرے کنواں سے نکالنے والے …… حضرت یونس ؑ کو مچھلی کے پیٹ میں محفوظ رکھنے والے ……. حضرت موسیؑ کو فرعون سے بچانے والے ….. ہمیں بھی تمام مشکلات ۔پریشانیوں سے ایسے ہی محفوظ فرما ۔جیسے تونے اپنے بندوں کو محفوظ فرمایا ۔ اور ابن العربی کا جب بھی کسی بیمار کا علاج کرنا تو کہنا یا شافی اسم کی برکت سے اس مریض کو شفا ملے گی ۔ یہ دوا میں یا شافی اسم کا ورد کرتے ہوئے بنائوگا تو یہ دوا مریض کو جلدی شفا دیگی۔
بہت خوبصورت طریقہ انداز دعا ۔
آئے ہم سب بھی ایسی ہی دعا کرتے ہیں کہ
یا ﷲﷻ
حضرت ابراہیمؑ کو آگ سے محفوظ رکھنے والے
حضرت یوسف ؑ کو اندھیرے کنواں سے نکالنے والے
حضرت یونس ؑ کو مچھلی کے پیٹ میں محفوظ رکھنے والے
حضرت موسیؑ کو فرعون سے بچانے والے
ہمیں بھی تمام مشکلات ۔پریشانیوں سے ایسے ہی محفوظ فرما ۔جیسے تونے اپنے بندوں کو محفوظ فرمایا ۔ یہ جو کرونا کی وبا پھیلی ہوئی ہے یا شافی اسم کی برکت سے ہمیں اس وبا سے محفوظ فرما ۔ ہمارے گناہوں کو معاف فرمادیں ۔ ہمیں بخش دیں ۔ اپنے پیارے حبیب ﷺ کے صدقے میں ہم پر کرم فرما ۔ ہم پر رحم فرما۔
آمین ثمہ آمین

اپنا تبصرہ بھیجیں