ابو – بنت شیروانی




زندگی میں ہمیں بہت سے افراد کی قدر نہیں ہوتی…… یا ہمیں اتنا احساس نہیں ہوتا کہ وہ ہمارے لۓ کتنے اہم ہیں۰لیکن ان کے جانے کے بعد ان کی قدروقیمت پتہ چلتی ہے۰ ایسے ہی میرے سسر “شیخ غلام حسین” تھے …….. جنھیں ہم ابو کہ کر پکارتے تھے۰ابو کی بہت سے اچھی عادتیں تھیں۰
ابو غصہ نہیں کرتے تھے۰لیکن جماعت اسلامی کے خلاف کوئی بات کردے ، پھر ابو پورے دلائل سے اسے جماعت کی طرف لاتے۰اور اس وقت لگتا تھا . ایک “نوجوان “ہیں۰کھلانے پلانے کے شوقین تھے۰جس بچے کو یا جس بہو کو جو چیز پسند ہوتی وہ لے کر آتے۰ جماعت کے کاموں کے لۓ کبھی منع نہیں کیا۰دوسروں کا خیال رکھنے والے اور دوسروں کے کام آنے والے انسان تھے۰حکمت سے کام لینے والے تھے۰
ایک دفعہ کسی کی شادی میں تحفہ دینے کے لۓ “emergency lights “لے کر آگۓ۰ہم نے کہا ابو شادی میں یہ والا تحفہ کون دیتا ہے۰کہنے لگے کہ شادی والے گھر میں لائٹ چکی گئ تو موم بتیوں میں کیسے تیار ہو جایا جاۓ گا ؟؟؟؟؟(اس وقت UPS اور جنریٹر اتنے عام نہیں ہوۓ تھے)۰انھی کے ولیمہ میں جب ہم گۓ تو انھوں نے بتایا کہ وہ لاءٹس بہت کام آئیں۰سبزی والوں سے بھی ان کے گھر والوں کی خیر خیریت دریافت کرتے۰اور اُن کے بچوں کے تعلیمی اخراجات پورے کرتے۰نماز کے پاپند تھے۰آخر وقت تک نماز نہیں چھوڑی۰
میری ساس امی کا انتقال پہلے ہوگیا تھا۰تو اپنی بیوی کے رشتہ داروں اور اُن کی سہلیوں کے گھروں کی خیر خبر رکھتے۰ اللہ تعالی میرے سسر کی مغفرت فرما،اُن کی قبر کو جنت کے باغوں میں سے ایک باغ بنا،اُن کی ہر چھوٹی بڑی غلطی کو معاف فرما اور اُن کے ہر نیک عمل کو قبول کر لے اور ہمیں اُن کے لۓ صدقہ جاریہ بنا۰

اپنا تبصرہ بھیجیں