تنبیہات – قانتہ رابعہ




نہ چاہتے ہوے بھی کرونا موضوع بن جاتا ہے ۔ لگتا ہے ہر اہم اورغیراہم موضوع پیچھے چلا گیا ہے بس کرونا کرونا اور کرونا ۔۔۔۔شاعر نے کہا تھا ۔ دل چاہتا ہے وپی فرصت کے رات دن بیٹھے رہیں تصور جاناں کئے ہوئے سچ پوچھیں تو تصور جاناں……! اب بس کرونا سے پہلے کی زندگی ہے ۔ انسان ہے ہی ناشکرا …..
2019ء تک بس فرصت کی تلاش تھا اپنا آپ بھولے ہوئے تھا …..کہاں جانا ہے ، کہاں سے آیا ہے ، کہ متعلق سوچنے کا موقع ہی نہیں مل پاتا تھا. دنوں کو پہیے لگے ہوے تھے صبح ہوتی ہے شام ہوتی ہے ۔ ایک پاون گھر میں تو دوسرا بازار میں یا ایک دفتر میں تو دوسرا بازار میں ۔ آپس میں مل بیٹھ کے بات کرنے کو انسان ترسا ہوا تھا . اب جب 2020ء کے آغاز ہی مین تبدیلی کا سامنا کرنا پڑا ۔۔۔وہ فرصت جو عنقا تھی اب سنگئ ساتھی بن گئ ۔ اب گھروں میں رہئیے۔ باہر جانے والے خواب سہانے بیت گئے مگر ایک بات مین کئ مرتبہ سوچ چکی یون اللہ رب العزت بار بار قرآن میں تمثیلوں سے بات واضح کرتا ہے ۔ عقائد ثلاثہ یعنی توحید جیسے نازک اور آخرت جیسے ہولناک موضوعات کو بھی مثالوں سے بیان کرتا ہے ۔ اسے انسان سے اپنے خلیفہ سے اپنے نائب سے پیار ہے ہر بچہ ایک ہی انداز میں بات نہیں سمجھتا اللہ رب العذت نے بھی کہیں واقعات سے کہیں مثالوں سے اور کہیں گزشتہ اقوام کے قصے بیان کئے قوم عاد قوم ثمود قوم نوح کے قصے ……. کیوں ؟؟؟
صرف اس لئے کہ انسان اس سے سبق حاصل کرے…… اپنی دنیا سنوار لے…… رب کا مطیع بن کے اپنا انجام بھی بہترین کرلے ۔۔۔انسان کی فطرت میں ہے وہ بس اپنے متعلق ہی سوچتا ہے اسے ماضی میں گزر جانے والوں یا مستقبل میں آنے والوں سے کوئی دلچسپی نہین ۔۔بالکل اس طرح جیسے کھلنڈرے لاپرواہ بچے کو اپنے مستقبل کی پرواہ نہیں ہوتی والدین ہی اس کے لئے فکرمند ہوتے ہیں. پیار سے لالچ سے ڈرا دھمکا کے اسے بہترین مستقبل کے لئے تیار کرتے ہیں ……. پچھلی اقوام میں تباہی کی بے شک ایک ہی وجہ تھی کہ وہ معیار بندگی کی بجاے معیار زندگی کو حاصل حصول سمجھ بیٹھے ۔ خالق کی اطاعت اور مخلوق کی خدمت بھلا بیٹھے…… مگر ان کی تباہی اور ہلاکت ایک جیسی نہین تھی ۔۔کہنے کو تو وہ مرگئے مگر ان کی موت ان کے اعمال کے حساب سے مختلف تھے مثال کے طور پر اپ قوم نوح کے عذاب کا جائزہ لین یہ سینڈی سونامی تو اس کے مقابلے میں کچھ بھی نہین جو ان پر پانی مسلط ہوا
وجہ ۔۔۔۔۔ صرف ایک کہ اس قوم نے نوح علیہ السلام کو بے بس کردیا تھا ۔ سو دو سو نہیں ساڑھے نو سو سال وہ ایک آس امید کے ساتھ قوم کو رب سے جوڑنے کے لئے گھر سے نکلتے مگر رات گئے بے بسی کی حالت میں واپسی ہوتی ۔۔۔۔ہر روز نئ صبح نی امید کے ساتھ طلوع ہوتی مگر شام ایک جیسی ہوتی ۔ ساڑھے نو سو سال بے بسی کے دکھ کو اللہ نے بھی ۔ کرب عظیم کہا ہے ……. آپ کبھی ایک دو منٹ کے لئے اپنے اوپر آنے والی سنگین آزمائش یا ٹینشن یاد کرین ۔۔کرب اور وہ بھی عظیم ۔۔۔ان سے کہین اذیت ناک ہوتا ہے ساڑھے نو سو سال کی بے بسی کا اختتام قوم کی اچانک موت پر نہیں ہوا کہ زلزلہ آتا تو دھنس گئے بلکہ پانی میں ڈوب کے مرنے والا ڈبکی لگاتا ہے اوپر آتا ہے امید پانی میں جاتا تو بے بسی ۔۔یہ موت نوح کی بےبسی کے موافق تھی . اسی طرح قوم عاد ۔۔لم یخلق مثلھا فی البلاد ۔۔اس جیسی قد آور ہنر مند توانا قوم پہلے پیدا ہوئ مہ قیامت تک ہوگی ان کو اپنے بڑے بڑے قد اور مضبوط جسامت کا غرہ تھا ۔
انہوں نے احساس برتری کو تکبر میں بدل ڈالا ۔۔ہر ہنر ۔۔اپنی ذات سے منسوب کیا ۔۔ہم جیسا کون ہوسکتا ہے کا غرور اس زہریلی ہوا نے توڑا کہ ہفتہ بھی وہ ہوا میں معلق رہے ۔۔اپ اس کیفیت کا اندازہ لگائیے تیز آندھی میں شاپر ہوا میں بس چند سیکنڈ معلق رہتے ہین پھر تیز ہوا انہیں زمین پر پٹخ دیتی ہے …… اللہ کی پناہ ان کی اوقات کاغز کے ردی ٹکڑوں جتنی بھی نہیں رہی تھی ۔۔۔آپ تصور کی آنکھ سے ان کے لمبے لمبے قد مضبوط جسموں کو پورا ہفتہ ہوا میں معلق دیکھئے پھر جب ہوا نے ان کو ان کی چھتوں پر اوندھا پٹخا تو قرآن کے الفاظ میں کانھم اعجاز نخل خاویہ …… جیسے کھجور کے مردہ تنے ۔ فٹ بال میں ہواہو تو اوپر ہوا نکل جاے تو پچک کے نیچے ۔۔۔ہوا نے سارے کس بل نکال دئے کہ وہ بےجا شو بازی میں مبتلا ہو گئے تھے ۔۔۔بہت بڑی عمارتیں ناخنون سے پتھروں کو تراشنا اور ذوق کی تسکین کے لیے اسی مین مگن رہنا کون سا خدا اور کون سی اگلی زندگی ۔۔پیغمبر کی بات پر کس نے کان دھرے ؟؟؟
قوم لوط ….. عمل لواطت ہم جنسی یا ہومو سیکسولیئٹی …! یہ غیر فطری عمل ان کے شیطانی دماغوں نے سوچا ۔ ہاتھ سے لکھنے اور پکڑنے کے علاوہ بے شمار کام ہوتے ہیں لیکن اگر کوئی ہاتھوں کو پاوں کی جگہ لے آئے اور ہاتھوں کے بل چلنا شروع کردے ۔ پاوں سے لکھنے پڑھنے کے علاوہ بھی ہاتھوں والے کام لے تو اسے پاگل کہتے ہیں. انہوں نے جنسی ضرورت کو پورا کرنے کے لئے غلط طریقہ استعمال کیا….. جو ان کے دماغوں کی خباثت تھی، تو ٹہر کے سوچئیے ۔ سجیل منضود پکے ہوے پتھر ۔ہر پتھر پر اس کا نام لکھا جس کو ہلاک کرنا تھا خواہ وہ تہہ خانے میں کیوں مہ چھپا ہوا ہو ۔۔وہ پتھر رب کے حکم سے ان کے سروں پر لگے ۔ پیٹ یا ٹانگوں پر نہیں ۔ کیوں؟؟ دماغ ہی تو بگڑ گئے تھے اب انہی دماغوں سے بھیجے نکل کے بکھرے ہوے تھے . آمدم برسر مطکب …… ہم نے بھی ان اقوام والے اعمال بد میں کوی کسر مہیں چھوڑی ۔۔
ان کا گناہ ہم سے بڑا ہوتے ہوے بھی خدا کی قسم چھوٹا رہے گا کہ وہ امت محمدیہ میں سے نہیں ہیں …… ان کا مربی ان کا محسن محبوب خدا نہی ہے یہ تو ہمارے مقدر کا ستارہ چمکا ہمارے بخت روشن ہوئے ۔ اعزاز بڑا ہے تو پھر نافرمانی کی سزا بھی زیادہ ۔۔سینما میں شراب پینے اور خانہ کعبہ میں شراب پینے کا گناہ ایک جیسا نہیں ۔ تم کہتے ہو کرونا وائرس ہے …… یہ وائرس ہو یا نہ ہو اس نے تمہاری خوشیوں کے رنگ پھیکے کردئیے اس نے تمہاری اموات پر تمہیں رب کی ناراضگی کا اشارہ دے دیا ۔ سگے بھائی کے مرنے پر سگی بہن کے مرنے پر اپنے پیاروں کی موت پر جاتے ہوے تم سوچو جائیں یا نہ جائیں ۔۔۔اور تم نہیں جا پاتے تم غم میں کندھا نہیں ڈھونڈ سکتے تو اس رب نے تمہیں یہ بتا دیا ہے کہ آخرت میں کیسے ایک دوسرےکے کام ائین گے یہاں نادیدہ جراثیم نے پیارون کے جنازوں کو کندھا دینے سے روک دیا تو جہنم کی آگ دیکھ کر تم ان کو کیسے بچا سکو گے .
سچ ہے ……. الہامی کتاب کا فرمان کہ روز قیامت ہر رشتہ دوسرے سے فرار مانگے گا ۔ میں کہتی ہوں یہ کرونا اسی کا ٹریلر ہے، ابھی بھی وقت ہے ہاتھ جوڑ لو رب کو منالو ۔۔۔ اپنے آپ کو ہر شخص اپنے طور پر تبدیل کر لے جس سائنس پر وہ اتراتا تھا آسمان پر تھگلی لگاتا تھا اب وہی سائنس بے بس ہوچکی ہے ۔ پس خدارا …! امت مسلمہ کو بیدارکرنے کا یہی طریقہ ہے کہ خود بیدار ہوجاو اور قرآن سے جڑ جاو.

2 تبصرے “تنبیہات – قانتہ رابعہ

  1. بہت بہترین ۔۔۔
    دیکھنا تقریر کیلذت کہ جو اس نے کہا
    میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں