دعاؤں کے حقیقی مستحقین – ثمن عاصم




غربت، بھوک ، اور افلاس سے خود کشی کرنے والوں کی خبریں شائع ہوتی ہی رہتی ہیں ۔ ہر مہینے کوئی نہ کوئی ایسی خبر نظر سے گزر رہی ہوتی ہے …… جس میں ایک تعلیم یافتہ نوجوان نوکری نہ ملنے پر حرام موت کو گلے لگا لیتا ہے یا پانچ بچوں کی بیوہ ماں بھوک سے تنگ آ کر بچوں سمیت خود کو آگ لگا لیتی ہے۔۔۔
آج سے کچھ عرصہ قبل پیش آنے والا یہ واقعہ بھی ذہن پر نقش ہے کہ ایک میڈیکل کے طالب علم نے کمرہ امتحان میں دیر سے پہنچنے پر محض اس لیے خود کو آگ لگا لی کہ کمرے میں موجود استاد نے اس کو پیپر دینے نہیں دیا۔۔۔ فیسبک وال دیکھی تو پتا چلا کہ کسی سوشانت سنگھ نامی اداکار نے خود کشی کر لی بظاہر ایک کامیاب اور مشہور انسان کی خود کشی کا معاملہ سمجھ سے باہر ہے …. وہ انسان جو دولت اور شہرت دونوں ںسے مستفید ہو وہ بھلا اس دنیا کی رونقیں سے کیوں کر منہ موڑ سکتا ہے؟ یقینًا کوئی بےچینی تھی جو بظاہر خوش قسمت دکھائی دینے والے اس شخص کو اتنا بے چین کیے تھی کہ اس نے دنیا سے منہ موڑنے میں عافیت جانی۔ اس طرح کے واقعات ہمیں بتارہے ہوتے ہیں کہ ہمیں ہر حال میں اپنے مالک کی طرف لوٹ کر جانا ہےاور دنیا کی بے ثباتی پر کوئی شک نہیں ۔ہمیں حسین ہوکر، امیر ہو کر، کامیاب ہو کر بھی جانا اسی اصل منزل کی طرف ہے۔۔۔
سوچنا یہ ہے کے ہماری تیاری کیا ہے؟ کیا ہم روز محشر لله رب العالمین اور محمد صلی الله عليه وسلم کا سامنا کر سکتے ہیں ؟ مگر افسوس ہم ایسے وقت میں اپنی فکرکے بجائے الله کے احکامات کی صریح نافرمانی کرتے ہوئے ایسے لوگوں کی تصاویر سے اپنے ڈی پیز سجا لیتے ہیں انکے لیے دعائے مغفرت مانگتے ہیں جنکے لئے اس دعا کا قرآن سورہ توبہ میں صاف منع کرتا ہے کہ”یہ بات نہ نبی کو زیب دیتی ہے اور نہ دوسرے مومنوں کو کے وہ مشرکین کے لئے دعا ئے مغفرت کریں ۔چاہے وہ انکے رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوں جبکہ ۔ان پر واضح ہو چکا و کہ وہ دوزخی ہیں “آیت نمبر 113……. ہماری دعاؤں کے اصل حقدار تو وہ لوگ ہیں جو دین کی سر بلندی کے لیے کبھی کشمیر کے سنگلاخ پہاڑوں پر گولیاں کھا کر شہادت کا مرتبہ پاتے ہیں تو کبھی مسجد اقصٰی کو ناپاک وجود سے چھڑوانے کے لیے اپنا سب کچھ قربان کر دیتے ہیں ۔۔۔ سوچیں ہم کتنی نمازوں میں ان مجاہدین کو یاد کھتے ہیں جو دین اسلام کی سربلندی کے لیے مصروف ہیں؟
ایسے لوگوں کے لیے دعائیں کر کے خود کو اور اپنے رب کو دھوکہ نہ دیں آپ کی دعاؤر کے اصل حقدار آپکی اپنی ذات، آپکے والدین اور آپکے عزیز واقارب ہیں ہیں کہ الله ہم سب کو ذلت، بےبسی اور بے حسی کی موت سے محفوظ رکھے اور سعادت کی زندگی اور شہادت کی موت نصیب کرے ہمارا خاتمه ایمان کی حالت پر کرے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں