مٹ جائے گی مخلوق تو انصاف کرو گے؟ – شہلا خضر




یہ بات صد فیصد درست کہ موت کا وقت اور دن مقرر ہے اور یہ کہ ﷲ کی مرضی کے بغیر ایک پتا بھی اپنی جگہ سے نہیں ہل سکتا …..
مگر وطن عزیز کے شہری ایک بار پھر المناک سانحے کا شکار ہوئے۔ یہ تو ﷲ پاک کا بہت بڑا احسان ہے کہ ہمارے اعلی دینی عقائد ہمیں ہر بار سہارا دیتے ہوئے ہمیں اتنے اندوہناک حادثات کے بعد بھی جینے کی امنگ اور حوصلہ دیتے ہیں۔
مگر قلیل عرصے کے بعد ایسا ہی حادثہ کسی نہ کسی صورت میں وقوع پذیر ہو جاتا ہے۔ چاہے وہ حال ہی میں درجنوں خاندانوں پہ قیامت صغریٰ بن کر ٹوٹنے والا پی آئی اے کا سانحہ ہو یا ماضی میں ہونے والا بوجا یا ائیر بلیو کا حادثہ ……. ایسے میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان حادثات میں مجرمانہ غفلت کے مرتکب اداروں سے کوئی حساب لینے والا موجود ہے کہ نہیں؟ کیا ارباب اقتدار کا فرض نہی کہ وہ حادثات کی مکمل اور شفاف تحقیقات کروائیں اور غفلت کے مرتکب اداروں کو کڑی سزائیں دلوائیں؟ پی آئی اے کا طیارہ مبینہ طورانجن میں خرابی کے باعث ایمرجنسی لینڈنگ کی کوشش میں تباہ ہوا لیکن وزیر ہوا بازی غلام سرور سارا الزا م ہوائی اڈے کے اطراف تعمیرات پر ڈال کر خود اپنی زمہ داری سے بچنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ غور طلب بات تو یہ ہے کہ یہ عمارات تو سالہا سال سے وہیں موجود ہیں لیکن سول ایوی ایشن نے کبھی اس مسئلے کی نشاندہی کی اور نہ ہی اس کی سنگینی کا احساس کرتے ہوئے اس کے سد باب کی کوشش کی۔
حادثے کے شکار جہاز نے مبینہ طور پرانجن خراب ہونے کی اطلاع کنٹرول ٹاور کو دی مگر یہاں بھی سول ایوی ایشن کی وہی مجرمانہ غفلت دیکھنے کو ملی۔ میری اطلاعات کے مطابق جناح انٹر نیشنل ائیر پورٹ پر کسی قسم کے حادثاتی لینڈنگ کے انتظامات نہ ہونے کی وجہ سے جہاز ہوا میں چکر لگاتا رہا اسی دوران نچلی سطح پر پرواز کے باعث پرندوں سے بھی ٹکرا گیا اور اس کے فوری بعد جہاز کے دونوں انجن بند ہو گئے اوروہ تباہی کا شکار ہوا۔ تین ماہ کے دوران مکمل رپورٹ بنانے کی یقین دہانی تو کروائی جا رہی ہے…… مگر سوال یہ کہ آج تک ہونے والے کسی ایک بھی حادثے کے ذمہ داران کو عوام کے رو برو پیش کیا گیا…… ؟ مارگلہ جہازکریش، چترال فوکر کریش، تیز گام آتشزدگی، رحیم یارخان آئل ٹینکر حادثہ اور بلدیہ ٹائون آتشزدگی جیسے ناقابل فراموش خوفناک حادثات میں سے اب تک کسی ایک کی بھی مربوط اور مفصل تحقیقاتی رپورٹس عوام کے سامنے پیش نہیں کی گئیں۔ اگر ارباب اختیار بحیثیت ملک کے “نگہبان و سرپرست” کے درد دل کے ساتھ تحقیقات کرتے تو شاید ایسے سنگین حادثات میں کسی حد تک کمی آجاتی مگر جب غریب عوام کا کوئی پرسان حال نہیں تو پھر اربوں کمانے والی کمپنیاں کیوں اپنا سرمایہ حادثات سے بچائو کے لئے صرف کریں؟
امید ہے کہ حکام بالا اپنی ذمہ داری کو سمجھتے ہوئے جلد از جلد طیارہ حادثہ کی مکمل مربوط اور شفاف رپورٹ منظر عام پر لا کر عوامی امنگوں کی نہ صرف ترجمانی کریں گے بلکہ اس میں ملوث افراد کو نشان عبرت بھی بنائیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں