وقت نہیں ہے – ردا فاطمہ




کبھی کبھی انسان دنیا کے جھمیلوں میں اس قدر غرق ہو جاتا ہے کہ اس کا مقصد اس کی نظروں سے اوجھل ہو جاتا ہے ۔ایسے انسان کو آپ چاہے اچھی سے اچھی سرگرمی کی دعوت دیں وہ جھنجھلا کر یہی کہے گا کہ “میرے پاس وقت ہی نہیں ہے”….. ضروری نہیں کہ اس عذر کی یہی ایک وجہ ہو ۔آئیے دیکھتے ہیں کہ وہ کون سے حالات ،عادات یا مصروفیات ہیں جو کسی انسان کو اہم معاملات میں بھی یہ عذر پیش کرنے پر مجبور کرتی ہیں ۔
ہمارے ارد گرد بہت سے ایسے افراد موجود ہیں جو وقت کی تنظیم ( time management ) کی اہمیت کو سمجھتے ہیں…… لیکن وہ موثر انداز میں یہ تنظیم کرنا ہی نہیں جانتے ۔ دوسرے قسم کے افراد وہ ہیں جو وقت کی تنظیم تو کر لیں گے لیکن ان کی یہ تنظیم تقریر و تحریر سے آگے نہیں بڑھ سکتی ،یہ لوگ ارادہ اور عزم کی کمزوری کا شکار ہوتے ہیں جو انہیں عملی میدان میں ناکام بنا دیتی ہے۔ اسی طرح کچھ لوگ وہ ہیں جو سستی کا شکار ہوتے ہیں اور وقت کی اہمیت کو جانتے ہوئے بھی اس کی تنظیم سے باز ہی رہتے ہیں اور اپنے ہی ہاتھوں اپنا وقت برباد کرتے ہیں۔ انہیں لوگوں میں ایک دلچسپ کردار ان لوگوں کاہے جو بڑی محنت سے وقت کی تنظیم کرتے ہیں ،مصمم ارادہ باندھتے ہیں اور پوری کوشش کرتے ہیں کہ سیکنڈ بھی ضایع نہ ہونے پائے لیکن عملی میدان میں ان کی گھبراہٹ اور خود کو غلطی کی گنجائش نہ دینا ان کو معمولی معاملات میں بھی صفر کر دیتا ہے…..
انہیں ہم perfectionist کہتے ہیں جو کامل ہونے کوشش میں کام شروع ہی نہیں کر پاتے۔ان سب افراد کی زندگیوں میں وقت کو ضایع کرنے کے ذرائع الگ الگ ہیں لیکن مجموعی طور پر ہم میں سے ہر شخص کو وقت ضایع کرنے والی عمومی وجوہات کا علم ضرور ہونا چاہیے اور ان چیزوں کو اپنا دشمن سمجھ کر ان سے ہر وقت ہوشیار رہنا چاہیے تاکہ ہم قیامت کے روز ان لوگوں میں شامل نہ ہوں جو یالیتنی کی صدائیں لگا رہے ہوں گے۔ان ذرائع میں یہ چیزیں شامل ہیں
سوشل میڈیا کا بے لگام استعمال
بے مقصد اور لایعنی گفتگو
یاسیت ( sadness )
ناشکری اور ہر وقت شکوے شکایات
خود ترسی
بری صحبت ( bad company)
خود کو غلطی کی گنجائش نہ دینا ( perfectionism)
زیادہ سوچنا اور کام کو شروع کرنے میں تاخیر کرنا ( procrastination )
یہ صرف چند وجوہات ہیں اور ضروری ہے کہ ہر شخص اپنے وقت کے دشموں کو پہچانے اور ان سے نجات پائے۔ حدیث کے مطا بق آپؐ نے جن پانچ چیزوں کو پانچ چیزوں سے پہلے غنیمت جاننے کا حکم دیا ہے ان میں ایک فراغت بھی ہے، جس سے مصروفیت سے پہلے فائدہ اٹھا نا چاہیے۔ اس موضوع پر قلم اٹھانے کے بعد لکھنے کو بہت کچھ ہے لیکن اپنے اور پڑھنے والوں کے وقت کی اہمیت کو مد نظر رکھتے ہوئے ” وقت کے بہترین استعمال ” کے چند ضروری لوازم مختصراً درج ہیں
بہترین اور عظیم مقصد کا چناو
مقصد پر نظریں جمائے رکھنا
باقائدہ پلاننگ : سال بھر کے goals نکالنا ……
مہینے میں ایک بار اپنی کار کردگی اور طریقے کار میں بہتری کے لیے عملی نکات پر غور کرنا اور ایک ایک دن کے حساب سے کاموں کی تقسیم
اہم افراد اور اہم کاموں کے لیے غیر اہم افراد اور کاموں سے معذرت کرنا سیکھنا۔
اس بات کا شعور کہ گزری ہوئی زندگی کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی اس بات کا تعین کیا جا سکتا ہے کہ عمل کے لیے کتنی زندگی باقی ہے
اپنی صلاحیتوں کا ادراک اور اپنے دن کے بہترین اور متحرک حصے کو اپنے اہم ترین کاموں کے لیے مختص کرنا۔
آخر میں آپ کے ذوق سخن کے لیے چند اشعار پیش خدمت ہیں ۔۔۔پڑھیے اور اسے اپنے لیے تحریک ( motivation) بنا لیں۔
۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔
شَراب و شِیشہ و ذِکرِ بتاں کا وقت نہیں
اُٹھو اُٹھو ، کہ یہ خَوابِ گِراں کا وقت نہیں
زَمانہ ڈُھونڈ رہا ہے عمَل کے شیدائی
خَطا معاف ، یہ حسنِ بیاں کا وقت نہیں
رَوِش رَوِش پہ خِزاں کے نَقیب ہیں یارو
چَمن بچاؤ غمِ آشیاں کا وقت نہیں
بڑھو، کہ بڑھتی چلی آ رہی ہے شامِ حَیات
عمَل کا وقت ہے ، آہ و فُغاں کا وقت نہیں
سُنو وہ نَغمہ جو رُوحِ حَیات گرمائے
سکُوں ہو جِس سے اب اُس دَاستاں کا وقت نہیں
وہ نبض ڈُوب چلی ہے ، وہ آنکھ پتھرائی
خُدا کا نام لو ، یادِ بُتاں کا وقت نہیں
شاعر۔ م۔ زکی کیفی

اپنا تبصرہ بھیجیں