نگاہ مرد مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں – مدیحہ صدیقی




مومن کا اسباب پر بھروسہ نہیں ہوتا، وہ سامنے نظر آ نے والے وسائل کے مطابق اپنی پلاننگ و ارادے نہیں باندھتا، اس کی منزل کا تعین امکانات پر نہیں ہوتا ……. وہ تو
پرے ہے چرخ نیلی فام سے منزل مسلماں کی،
پر سوچتا اور قدم اٹھاتا ہے …………غزوہِ بدر محض ایک معرکہ نہ تھا زمین پر سجنے والا میدان جنگ نہ تھا ،اس کے رابطے آسمانوں سے مل رہے تھے اشارے اوپر سے آ رہے تھے…… نگاہیں سامنے متکبر دشمنوں کو دیکھ رہی تھیں مگر وہ ان کے لیئے ریت کے ذروں سے زیادہ نہ تھیں ادھر حوصلے چٹانوں جیسے ادھر دل رعب میں دبے جارہے تھے. یہ تین سو تیرہ مجاھدین چند اونٹ کچھ ہتھیار کسی کا کیا بگاڑ سکتے تھے ایک کثیر فوج ہتھیار سے لیس سامنے کھڑی تھی مگر ایمان تو نہ تھا . جس نے اسے بھس بنادیا نگاہیں جو دیکھ رہی تھیں وہ نہیں دیکھ رہی تھیں ،زمین کے اعداد و شمار اپنی حقیقت بھول چکے تھے کثیر اور قلیل کے معنے بدل چکے تھے سو نتایج بھی مختلف رہے….. اے ایمان والو اے مسلمانوں ہم کب رب پر توکل کریں گے ہم کب خم ٹھونک کر کھڑے ہوں گے باطل کے مقابل کیا اللّٰہ ہمارے لیئے کافی نہ ہو جائے گا
ہاں ہوجائے گا مگر وہ ایمان درکار ہے وہ یقین کہ وجود گواہی دیں کہ ہم تیرے ہیں اے اللہ ہم تیرے ہیں ،ہمارا جینا اور مرنا تیرے ہی لیئے ہے تو کیوں نہ اتریں …… فرشتے نصرت کو کیوں نا افلاک سے نالوں کا جواب آ ئے….. امت مسلمہ آ ج زخموں سے چور لہو لہو ہے ،دشمن کے لیئے تر نوالہ دنیا بھر کے فرعون ٹوٹ پڑے ہیں مجروح مسلمان پتھرائی آنکھوں سے راہ تک رہے ہیں اور امت کثیر تعداد میں ہونے کے باوجود سمندر کے جھاگ کی طرح،
نگاہ مرد مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں
وہ نگاہ مرد مومن تو لاؤ
دیکھنا دنیا زیر نگیں ہوگی
منظر نامہ ہی بدل جائے گا
ان شاءاللہ…!

اپنا تبصرہ بھیجیں