ایک پردیسی اور پاکستان – بنت شیروانی




آج نہ جانے کیوں ؟ مجھے قائد اعظم بہت یاد آرہے ہیں ……. حالانکہ آج نہ تو۱۱ستمبر ہے اور نہ ہی ۲۵ دسمبر. آج تو اپنے اس قائد کی تصویر کو بھی نہ دیکھا…….. لیکن آج ان کے ہم پر کۓگۓ احسانات یاد آرہے ہیں- آج تو چودہ اگست بھی نہیں لیکن آج پاکستان بنانے والوں کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرنے کو دل کرتا ہے.
آج اپنے بانی پاکستان قائد اعظم تو شاعر مشرق علامہ اقبال تو پاکستان کا نام تجویز کرنے والے چودھری رحمت علی اور ان جیسے نہ جانے کتنے ان گنت مسلمانوں کو بڑے بڑے تمغے دینے کا دل کیا ….. جنھوں نے اس وطن کو حاصل کرنے کے لۓ ان گنت قربانیاں دیں، اپنا گھر بار، زمین جائدادیں ، پُر آسا ئش زندگیوں کو ایک زمین کا ٹکرا حاصل کرنے کے لۓ چھوڑا.عورتوں کے زیورات غائب ہوۓ. سب سے بڑھ کر عزتیں لٹیں . کتنا آسان ہے یہ سب کچھ پڑھنا……. کبھی ذہن میں آتا تھا کہ پوچھوں کیوں حاصل کیا یہ پاکستان ؟؟ اس پاک سرزمین تک پہنچنے والے لٹے پٹے مہاجرین سے پوچھوں کہ کیا ضرورت تھی اتنی قربانیاں دینے کی؟؟ کبھی من کرتا تھا کہوں کہ آپ ہندو مسلمان ساتھ کیوں نہیں رہ لۓ؟ لیکن آج اس سوال کا جواب بھی مل گیا.آج جب میں ہندوستان میں مسلمانوں کے ساتھ کۓ جانے والے یہ ناروا سلوک دیکھتی ہوں تو مجھے اپنے سوالوں کا جواب مل جاتا ہے۰کہ قائد اعظم نے صحیح کہا تھا کہ میں یہ ملک آج کے مسلمانوں کے لۓ نہیں آنے والی نسلوں کے لۓ بنا رہا ہوں.
آج جب میں سعودی عرب سے بھی پچاس اور پچپن سالوں کی زندگیاں گزارنے کے بعد خارجی ہونے،ہزاروں ریال ان خارجیوں پر لگنے والے ٹیکس کو دیکھتی ہوں تو پھر مجھے اپنے سوالوں کا جواب ملتا ہے…… اور اسی طرح دبئ ہو کہ بحرین ،قطر ہو کہ کویت ان تمام ممالک میں بھی میں “اجنبی”ہوں۰مجھے شہریت یہ لوگ بھی نہیں دیتے تو پھر میں اپنے سوالوں کے جواب ڈھونڈ لیتی ہوں….. ہاں امریکہ، کینیڈا ، آسٹریلیا جیسے ممالک دیتے ہیں ….شہریت لیکن جب سب سے پہلے انسان جب اپنوں کو چھوڑ کر، اکثریت اپنا کُل مال و اسباب لگا کر،اپنی حسین یادوں کو چھوڑ کر جاتی ہے تو کیا آسان ہوجاتا ہے وہاں رہنا؟؟کیا جاتے ہی ہرا کارڈ مل جاتا ہے؟؟کیا اس ہرے کارڈ کے انتظار میں گودوں میں کھلائ بہن ،اپنے ساتھ سلاتے بھتیجے اور ان جیسے پیارے رشتوں کہ بھائ تو بھانجی،بھتیجی تو چھوٹے چاچا تو پیارے ماموں کی شادیاں نہیں ہو جاتیں؟ تو کیا اپنے کسی خالو تو ہر دل عزیز چاچا ، مامو، پھوپو کا انتقال نہیں ہو جاتا ؟؟ اور بسا اوقات خدانخواستہ ماں یا باپ بھی اس دنیا سے کوچ نہیں کر جاتے؟؟کیا آسان ہوتا ہے ایسے وقتوں میں اپنے آپ کو سنبھالنا ؟؟؟؟؟؟
خوشیوں کے موقعوں پر دل کا اچھلنا، کبھی اس موقع پر خود بخود آنسوؤں کا اس خوشی کی کیفیت کو صرف”محسوس” کرنے پر نکلنا اور غم کی خبر آنے پر اندر ہی اندر خود بھی مرجانا، بے بسی محسوس کرنا…… اور دل کا بس یہ چلنا کہ میرے اپنے سکون میں ہوں.غم کی یہ کیفیت ہونا کہ بس کوئ کہ دے کہ یہ خبر غلط تھی. یہ کیفیت ہوتی ہے ایک پردیسی کی ….. اور تہواروں عید ہو کہ بقراعید وہ پردیسی خیالوں میں اپنے ہی ملک میں موجود ہوتا ہے۰بقرا عید کے موقع پر وہ نوجوان پردیسی مرد کبھی بیٹھے تو کبھی لیٹے گاۓ ،بکر وں کے ساتھ ہوتا ہے . اور اس کے ان قربانیوں ،اپنوں سے دوری کے غموں کو سہنے کے بعد وہ سبز رنگ کا کارڈ ہاتھ میں آتا ہے۰اور اس کے بعد بھی اپنے بچوں کے تو اپنی نسلوں کے ایمان کو بچانے کی فکر،حلال رشتوں ،حلال گوشت،حلال کھانے بتانا نہ جانے اس طرح کی کتنی فکریں سب سے پہلے تو یہی کہ آنے والی نسلیں مسلمان رہ جائیں۰
اور ان اب سوچوں کے آنے کے بعد اسے سمجھ میں آیا کہ اسے اپنے بانئ پاکستان کی یاد کیوں آرہی ہے۰وہ کیوں قدردان ہے ان ملک بنانے والوں کی اور وہ کیوں شکر ادا کر رہی ہے اس ملک کے ملنے پر…… کہ پاکستان تو پھر اسی کا ملک ہے، اسی کا وطن ہے اسی کی سرزمین ہے…… یہ وطن ہمارا ہے ہم ہیں پاسباں اس کے

اپنا تبصرہ بھیجیں