نو جتھےدار – کرن وسیم




حضرت صالح علیہ السلام کی اونٹنی کو مارنے والے نو افراد کے بارے میں قرآن پاک میں ارشاد ہوا ہے…….. “اس شہر میں نو جتھے دار تھے جو ملک میں فساد پھیلاتے تھے اور کوئی اصلاح کا کام نہ کرتے تھے.”(النمل- ۴۸) ……
“نو جتھےدار” یعنی قوم کے ایسے بااثر افراد جو عوام کی بڑی تعداد کے حمایت یافتہ (سیاسی و مذہبی لیڈران) تھے..ہر ایک اپنے ساتھ حامیوں(فالوورز) کا ایک گروہ کثیر رکھتا تھا..انکے درمیان سیاسی و ذاتی مفاد کی بنیاد پر کئ اختلافات تھے مگر فساد فی الارض اور مخالفت حق میں یہ سب یکجان و یکسو ہوجایا کرتے تھے..بالآخر اس سرکشی کی سزا عذاب کی صورت اس پوری قوم کو بھگتنی پڑی جو انہیں رہنما مانتی تھی… کیا ہم نے کبھی غور کیا اپنی قوم کے جتھےداروں کے اخلاق اور رویّوں پر!!!
۱)سودی معیشت جاری رکھنے پر یہ سب متفق…
۲)شراب پر پابندی کی مخالفت پر سب متحد…
۳)شرعی قوانین کے نفاذ اور آئین کی اسلامی شقوں کےخلاف سازشوں میں سب ایک دوسرے کے مددگار..
۴)غیرمسلم اقوام کی ذہنی غلامی اور مرعوبیت پر سب یکسو…
۵) ریاستی مال میں اسراف اور خیانت میں ایک دوسرے کے ہم خیال…
پھر بھی عوام الناس کی بڑی تعداد انکی حمایت اور تقلید پر کمر بستہ ……. کیا پھر اللہ کی ناراضگی و غضب کو دعوت تو نہیں دی جارہی؟؟؟ “اور اعراف والےدوزخ میں بڑی بڑی شخصیتوں کو دیکھ کر پکاریں گے جنہیں وہ ان کی پیشانی سے پہچانتے ہوں گے، کہیں گےآج تمہارے جتھے تمہارے کسی کام نہ آئے اور نہ سازوسامان جس پر تم تکبر کیا کرتے تھے”.(الاعراف- ۴۸)

اپنا تبصرہ بھیجیں