جنت کے زخمی پھول – ثمن عاصم




دو دہائی قبل کی با ت ہے کہ جمعرات کے روز ہم گھر میں ہوتے تھے ……. مگر کان باہرلگے ہوتے تھے اور جیسے ہی….” آؤ بچوں شِیرنی لو” کی آواز آتی تھی ، ہم گلی کے تمام بچے وہیں اکھٹے ہو جاتے تھے . ایک ایک جلیبی کبھی کبھار…… ایک یا دو ٹافی یا کبھی برفی کا ٹکڑا ہمیں خوش کردیتا تھا .
بانٹنے والے کا بھی یقین ہوتا کہ بچے خوش ہو کردعائیں دینگے .کسی کسی کی کوئی بڑی مراد ہوتی تو وہ کھانا کھلا دیتا بچوں کویہ کھانا معصوم بچوں کا کھانا کہلاتا. مقصد یہاں بھی یہی ہوتا کہ چونکہ بچوں کی دعائیں رد نہیں ہوتیں ….. لہٰذا بچے خوش ہو کردعا کرینگے اور ہماری مراد ضرور پوری ہوگی۔ آج یہ ٹرینڈ تو نظر نہیں آتا مگر بچوں سے محبت آج بھی لوگوں کی ختم نہیں ہوئی ہے .آج بھی کسی معصوم بچے کی کوئی ویڈیوشیئر ہو تو ویوز ملینزمیں آجا تےہیں ۔ ہم میں سے ہر ایک کو رب کعبہ اپنا گھر اور نبیؐ کا روضہ دیکھنا نصیب کرے جو بھی اس گھر کی زیارت کر چکا ہے وہ بخوبی واقف ہوگا کہ وہاں بھی آنے والے ہر رنگ ونسل کے لوگ بلا امتیاز بچوں سے کس طرح محبت کرتے ہیں آپ منع کرتے رہ جائیں مگر وہاں سنت نبوی صلی اللہ کی پیروی میں ہر شخص بچوں سے پیار کا مظاہرہ کرتے ہوئے ….. انہیں کچھ نہ کچھ دیتا ہوا ہی آگے بڑھتا ہے۔
بچوں سے محبت خود ہی ہو جاتی ہے بچہ چاہے جانور ہی کا کیوں نہ ہو اس پر پیار آ جاتا ہے……. مگر نجانے وہ کون سفاک لوگ ہوتے ہیں جو معصوم پھولوں پر ترس نہیں کھاتے ……. حال ہی میں ہونے والے دو واقعات نے دماغ ماؤف کر دیا۔ کہ ایک بے حس اور بے ضمیر شخص نے محض چند پرندوں کے اڑ جانے کے نقصان پر معصوم کلی جیسی بچی پر تشدد کر کے اس کی جان لے لی ۔ دوسرا دلخراش واقعہ یہ پیش آیا کہ ایک اور معصوم جو گھر سے روزی کے حصول کے لیے غبارے فروخت کرنے نکلا تھا اس پر کسی بے ضمیر اور بد خصلت شخص نے کتے چھوڑ دئے…… بے حسی ،بےضمیری اور ظلم کی انتہاء کو پہنچے …..ان لوگوں کے سینے میں دل نہیں شاید یا شاید قرآن کی یہ آیت کہ” ان کے دل پتھروں سے بھی سخت ہیں” ان ہی جیسے ظالموں کے لیے اتری ہے۔ہم تو اس نبی کے امتی ہیں کہ جس سے کسی نے دریافت کیا کہ ملازمین کو کتنی دفعہ معاف کریں؟ کچھ توقف کے بعد جواب آتا ہے” ہر دن میں ستر مرتبہ “.اور ملازم اور خادم بچوں سےآپ کا حسن سلوک یہ تھا کہ حضرت انس رضی اللہ کہتے ہیں کہ میں دس سال کی عمر سے آپ صلی الله عليه وسلم کا خدمت گزار تھا نہ کبھی مجھے ڈانٹا گیا نہ کوئی سختی کی گئی.
دنیا یہ بھی دیکھا کہ حضرت زید بنحارث غلام کی حیثیت سے نبی اکرم کے پاس آئے اور پھر انکے حسن سلوک کے اس قدر گرویدہ ہو گئے ….. کہ اپنے ماں باپ پر آپ صلی الله عليه وسلم کو فوقیت دی اور آپ کے پاس ہی رک گئے ۔: حضرت عمر فاروق آدھی دنیا پر جنہوں نے فتوحات کے جھنڈے گاڑ دیے .وہ بھی جب ایک بچے کو بھوک سے بلکتا دیکھتے ہیں. تو اپنی کمر پر سامان خوردونوش رکھ کر اس کے گھر چھوڑ کر آتے ہیں طاقت کے نشے میں چور ان ظالموں کو جان لینا چاہئے کہ اگر اس دنیا کی کسی بھی عدالت نے انہیں کسی بھی وجہ سے سزا نہ بھی دی تو بھی ایک عدالت روز محشر بھی لگے گی.
جہاں کسی نے ذرا برابر بھی برائی کی ہوگی تو وہ رسوا ہو کر رہے گا ۔اس جہاں میں جب یہ معصوم اپنا مقدمہ رب کے سامنے رکھیں گے تو ظالموں کو چھپنے کی کوئی جگہ نہیں ملے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں