ذرا سوچیے – نبیلہ شہزاد




سوشل میڈیا کھولیں یا پھر کوئی چینل آن کریں ایک ہی خبر چل رہی ہے اور وہ ہے کرونا وائرس۔ سننے والے بے اختیار دل کو تھامنے کی کوشش کرتے ہیں کہ کس ملک یا شہر میں کتنے مریض رجسٹر ہو گئے ؟ کتنی ہلاکتیں ہوئیں اور کتنے لوگوں نے شفا پائی ؟تازہ تازہ اعدادوشمار ہر چینل پر موجود۔
اس بڑی خبر کے پردے پیچھے باقی ہر خبر نے دم توڑ دیا ہے۔سب کو دنیا میں صرف ایک ہی مسئلہ نظر آ رہا ہے اور وہ ہے کرونا۔ کہا جاتا ہے کہ اس عالمی وبا کی جائے پیدائش اٹلی کا شہر کرونا ہے۔اس لیے اسے کرونا وائرس کا نام دیا گیاہے ۔ لیکن موجودہ پھیلنے والی وبا کا آغاز چین کے صوبہ ووھان سے ہوا۔ ابتدائی طور پر میڈیا نے یہی خبر دی کہ اس وائرس کی بنیادی وجہ حرام جانورں کا گوشت کھانا ہے۔لیکن بعد میں چین کی گورنمنٹ کی طرف سے اعلان کیا گیا کہ اس کی وجہ امریکہ ہے ۔یہ مین میڈ وائرس ہے اور امریکی فوجی مشقوں کے بعد جاتے ہوئے یہاں یہ وائرس چھوڑ کر گئے ہیں۔ چائینا میں پہلا مریض سامنے آتے ہی امریکہ کے زر خرید میڈیا نے اس کی خوب تشہیر کی اور خوف و ہراس پھیلا یا ۔ مقصد چین کی معیشت تباہ کرنا تھا۔بہر حال حقیقت جو بھی تھی لیکن ایسا ضرور ہوا کہ ایک وقت میں چین ساری دنیا میں اچھوت بن گیا ۔ اب چین کے بعد یہ وائرس دنیا کے بیشتر حصّے میں پھیل چکا ہے۔
اور اکثر ممالک میں لاک ڈا‌ون جاری ہے۔ چین نے تو چند ہزار جانی نقصان کے بعد اپنی دن رات کی محنت سے اس وائرس پر قابو پا لیا ہے لیکن اٹلی بیچارے کو اس کا کافی خمیازہ بھگتنا پڑا ہے۔ اور کرونا کی وجہ سے ہونے والی ہلاکتوں میں اٹلی کا سب سے بڑا حصہ ہے لیکن اب اس نقصان میں امریکہ بھی پیچھے نہیں۔ اب آتے ہیں پاکستان کی طرف۔ پاکستان میں اس کے ابتدائی دو مریض کراچی میں رجسٹر ہوے لیکن ان دو مریضوں کے منظر عام پر آنے سے پہلے ہی کراچی میں دو ہزار اور پورے ملک میں دو لاکھ سے زائد کرونا کے ماہرین اور طبیب پیدا ہو چکے تھے۔ کالم نگاروں کو لکھنے کے لیے ایک اچھوتا موضوع مل گیا۔ نامہ نگاروں کے لیے کرونا کے علاوہ اور کوئی خبر ہی نہ رہی حتی کہ کرائم رپورٹروں کے لیے بھی موضوع سخن کرونا ہی بن گیا۔ ملک کے تمام چھوٹے بڑے ٹی وی چینلز نے بھر پور محنت کر کے اتنی دہشت پھیلائ کہ ہر کوئ ایک دوسرے کو مشکوک نگاہوں سے دیکھنے لگا کہ کہیں کوئ دوسرا فرد کرونا کا ہی شکار ہو نہ صرف وہ کرونا وائرس کا شکار ہے بلکہ اس کی وجہ سے عنقریب میں بھی اس وائرس کا شکار ہونے والا ہوں۔ ہر کوئ ایک دوسرے سے چھپتا پھر رہا ہے کہ مجھے کسی دوسرے فرد سے ملنا نہ پڑ جائے۔
ادھر میری ایک ملنے والی کا بیٹا ٹیکسٹائل مل کے آرڈر بک کروانے سپین گیا واپسی پر اسے سردی کی وجہ سے نزلہ زکام ہو گیا۔خوف و ہراس میں مبتلا فیملی نے فوراً اس کا کرونا وائرس ٹیسٹ کروایا، اسے ایک کمرے میں بند کر دیا۔ اسکے گھر میں داخل ہوتے ہی بیوی اپنا دو سالہ بچہ لے کر میکے چلی گئ۔ ماں ڈسپوزیبل برتنوں میں کھانا ڈال کر اس کے کمرے کے دروازے کے باہر رکھ آتی۔ کمرے سے باہر نکلنے کی اسے اجازت ہی نہ تھی۔ ٹیسٹ رپورٹ کرونا وائرس سے پاک آئ لیکن گھر والوں کا خوف اتنا کہ اسے زبردستی چودہ دن قرنطیہ میں رکھا گیا۔ یہ تو ایک چھوٹی سی مثال ہے لیکن یہاں اکثر اسی طرح کے مناظر دیکھنے کو مل رہے ہیں جس کی منظر کشی اللہ تعالی نے ساڑھے چودہ سو سال پہلے قرآن مجید کے پارہ نمبر 30 میں کر دی ہے، فرمایا
یوم یفر المرء۔۔۔۔ جس دن آدمی دوڑے گا اپنے بھائی سے
و امہ و ابیہ۔۔۔۔ اور اپنی ماں اور اپنے باپ سے
و صاحبتہ و بنیہ۔۔۔۔ اور اپنی بیوی اور اپنے بیٹے سے
رشتے ناطے، دوستیاں محبتیں ختم۔ ہر ایک کو اپنی جان کی فکر پڑ گئ۔ ہر کوئ اپنی حفاظت میں مشغول۔ لیکن کاش۔۔۔۔۔۔ اس فانی قالب کی حفاظت کے ساتھ ساتھ اپنی روح کی حفاظت پر بھی تھوڑی سی توجہ دے دیں۔ اور تقوی کے سینی ٹائزر کے ساتھ گناہوں کے جراثیم ختم کر لیں۔ توبہ کے ڈیٹول سے ذخیرہ اندوزی، بے ایمانی اور دوسروں کی حق تلفی جیسی غلاظت کو دھو ڈالیں۔
پھر دیکھنا ہم روح و قالب دونوں کو جہنم کی وبا سے کیسے محفوظ کر لیتے ہیں؟؟ انشاءاللہ ۔لیکن عمل شرط ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں