فادرز ڈے تو روز ہی ہوتا ہے – بنت شیروانی




20 اور 21 جون کو بہت جوش و خروش سے فادر ڈے منایا گیا ۔ اپنے والد محترم کے بارے میں بہت سارے افراد نے اچھی اچھی باتیں بتائیں …… اور ساتھ والد کے بارے میں احادیث اور اچھی اچھی باتیں پڑھنے کو ملیں۔ اور میرا دماغ اس وقت اپنے پیدا کرنے والے نظام حیات کی حکمتوں کو سوچنے لگا۔
مجھے اس وقت ” احکام یتامی ” یاد آنے لگے ۔ مجھے حلال کاموں میں سب سے زیادہ نا پسندیدہ عمل “طلاق” کو کہنے کی وجہ سمجھ میں آنے لگی- مجھے اس وقت جس نے نکاح کر لیا اس نے اپنا آدھا دین مکمل کر لیا ……. کی حکمت سمجھ آئی اور اس وقت وراثت کے قوانین سمجھ میں آۓ۔ مجھے لگا کہ ہاں اسلام ایک صرف ، مذہب نہیں بلکہ ایک مکمل طریقہ زندگی ہے …… کہ جس میں سونے ، جاگنے سے لے کر تہواروں ، خوشی ، غمی سب کا طریقہ کار بتا دیا گیا ہے۔ اور جس کو اپنانے میں میری بھلائی ہے ….. کی حکمت سمجھ آئی ۔ “زنا” پر سنگسار کرنے کی حکمت سمجھ آئی ۔ تو سمجھ آیا یہ کہ پوری نسل کی خرابی پھر کیا ہوتی ہے ۔ پھر تو رب کی یہ بھی حکمت سمجھ آئی کہ حلال روزی کمانے پر ثواب کیوں رکھا گیا ہے۔ پھر یہ بھی سمجھ میں آیا کہ والدین کے لۓ “اُف” تک نہ کہو۔
یہ کیوں چودہ سو سال پہلے میرے پیدا کرنے والے نے اپنی کتاب میں لکھ دیا ۔ صرف والدہ کے لۓ نہیں لکھا یا صرف والد کے لۓ بھی نہیں ، بلکہ دونوں کے لۓ لکھنے کی وجہ سمجھ میں آنے لگی …… اور پھر میں سوچنے لگی اپنے والد کے بارے میں بھی کہ بیس جون کو تو فادرز ڈے منایا گیا تھا ۔ میرے لۓ تو ہر روز فادرز ڈے ہے ….. لیکن سوچا کہ کیا ایسا کروں کہ والد کے نام ہوجاۓ ۔ ویسے تو ہر اچھے کام کا ثواب والدین کو جاتا ہے ۔ پھر میں نے اپنے ابو کی خوبیاں دیکھیں اوربہت سی خوبیوں میں سے ایک خوبی کہ “میرے ابو کھانے میں عیب نہیں نکالتے”اس خوبی کو اپنانے کا ارادہ کیا۔
اور اس وقت مجھے اپنے سسر بھی یاد آۓ کہ وہ بھی میرے باپ تھے۔ اور جہاں ان کے لۓ دعاۓ مغفرت کی وہاں اُن کی خوبی اپنانے کا سوچا کہ “وہ دوسروں کے لۓ اپنے دسترخوان کو کُھلا رکھتے تھے۔ان دونوں خوبیوں کو اپنانے کا ارادہ کیا …… کہ فادر ڈے تو میرے لۓ روز ہی ہوتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں