ابرِنیساں – عالیہ زاہد بھٹی




عصر کے وقت یونہی بیٹھے بیٹھے میاں جی کو خیال آیا، چھت پر چلتے ہیں تازہ ہوا میں ……. میں نے فوراً بیٹے سے کہا کہ اوپر کمرے سے کرسیاں نکال کر رکھ دو. ہم آج چھت کو رونق بخشیں گے ……. بچے بہت خوش کہ آج مما ڈیڈی بھی شام ہمارے ساتھ چھت پر گزاریں گے.
اصل میں بے اردگرد چہار اطراف اونچی اونچی بلڈنگز کی وجہ سے بے پردگی کا احتمال رہتا ہے .جس کی بنا پر یہ واحد تفریح بھی حاصل کرنے سے محروم ہیں مگر آج میاں جی کے کہنے پر رہا نہ گیا اور ہم بھی چادر اڑھے نقاب کرکے اوپر جلوہ افروز ہوئے……. تازہ ہوا کے جھونکوں نے اک عجب فرحت کا احساس دیا . اپنوں کا ساتھ اور اس سب اپنوں سے بڑھ کر اپنے ربّ رحیم کی محبت کا بے پایاں احساس روح کی بالیدگی کا باعث بنا. گھروں میں مقید ہو کر جو زندگی نے اک عجب طرح کی پژمردگی سے دوچار کیا ہوا ہے …… اس سے نکلنے کا حل آج اسی رب نے دکھایا . ہر گھر میں اگر کھلا آسمان میسر نہیں بھی تو بھی کوئی روزن ، کوئی دریچہ ، کوئی درز تو ایسی ہو گی ناں کہ جہاں سے آسمان نظر آتا ہو…… بس اسی ننھی سی درز کو حاصل زندگی بنا لیجئے. یہ سوچ کر کہ ہم اس وقت کتنے خوش قسمت ہیں کہ یہ یہ روزن یہ درز، یہ جھری ہمیں میسر ہے.
کل اک وہ دن بھی آنے والا ہے کہ جب ہمیں زمین اندر گہرائی میں اس طرح ڈال دیا جائے گا کہ نہ وہاں سے آسمان کی جھلک ممکن ہو گی اور نہ کبھی وہاں سے رہائ کی امید مگر اس وقت اپنے اپنے جھروکوں سے ہم اس چھوٹی سی اندھیری کوٹھڑی کی روشنی کا سامان کر سکتے ہیں…… آئیں اپنے اپنے گھر کے دریچوں، آنگنوں اور روزنوں کو شام ڈھلے آباد کریں….. اللہ کے ذکر سے ! اپنی اپنی چائے ، جوس ، شربت کے گلاس اور کپ اٹھائیں اور اپنے پیاروں کے ساتھ بیٹھ کر اس سب سے زیادہ پیارے کا ذکر، اجتماعی ذکر کرکے اسے راضی کرنے کی کامیاب کوشش کریں . جانتے ہیں ناں کہ اجتماعی استغفار،اجتماعی ذکر اللہ کے غضب کو ٹھنڈا کرنے کا باعث ہوتا ہے….. تو چلیں آئیں اپنے بوجھل ، پژمردہ اور افسردہ سے لمحوں کو رنگین،حسین اور دلنشین بنا لیں . وہ کیا کہتے ہیں کہ آم کے آم گھٹلیوں کے دام
اجتماعیت کی برکت ،استغفار کی کثرت، اپنوں سے ملاقات کی لذت اور اندھیری قبروں کی مسّرّت یہ سب کی سب حاصل ہو سکتی ہیں شام کی اس فیملی ٹائم میں …. اور کتنے رونے روئیں گے حالات کے؟نہ تو ہم حالات کے ذمہ دار ہیں اور نہ ہی ان کو بدلنے پر قادر، ہاں ہم صرف اپنے لمحوں کو اچھا گزارنے پر ضرور قدرت رکھتے ہیں اور یہ لمحے عنایت کرنے والے رب کو راضی کرنے پر بھی قادر ہیں اور یہ سب صرف چلتی سانسوں تک ہے . بہت سے پیاروں کی سانسوں کی ڈور ٹوٹ چکی بہت سوں کی ٹوٹنے کے در پے ہے . ہمارے پاس یہ فی الحال فراوانی سے ہے . دیکھ لیں اس وبا کے دور میں بھی ہمارے پاس یہ سانسیں اور دھڑکتے لمحے فراوانی سے موجود ہیں ان کی قدر کریں انہیں ضرب دیں سو،سو کی تسبیحات سے ضرب دیں تقسیم وہ رب خود کردے گا انشاءاللہ …….! آئیں ابرِ نیساں بن کر دھرتی کی پیاسی پیشانی کو رب کی رحمت کے قطروں سے سیراب کر دیں
رونا دھونا پریشان ہونا چھوڑیں اپنے حصے کی خوشیاں ذکر اور استغفار کے ہتھیار سے کشید کر کے آگے بڑھیں . انشاء اللہ جلد ملیں گے رب کی قائم کردہ جنتوں میں . ہاں یہی وقت ہے اس جنت کو کمانے کا لگادیں ٹھکانے لگا دیں اپنے اپنے الفاظ کے خزینے….. بدلے میں دلوں کا اطمینان سکون اور دائمی جنت کا حصول….!

اپنا تبصرہ بھیجیں