حج کی موقوفیت اور ہمارے اعمال – ثمن عاصم




کرونا نے جہاں ہمیں جسمانی طور پر اثر انداز ہو کر متاثر کیا ، وہیں معاشی طور پر بھی اکثریت کی کمر توڑ دی ……… کسی نےاس بیماری کو ڈھونگ اور عالمی سازش قرار دیا تو کسی نے اسے اتنا سر پر سوار کر لیا کہ بیماری کا شکار تو نہ ہوا مگر ڈپریشن کا شکار ہو گیا۔۔
تمام لوگ اس بات سے قطع نظر کہ ہم اس بیماری یا وبا کو محض ڈرامہ سمجھیں یا حقیقت مگر اسکے زیرِ اثر ضرور آگئے ہیں ۔ کوئی بے روزگار ہوگیا ، کوئی بیماری کا شکار ہوگیا ……. بچوں کا تعلیمی نقصان الگ ہے۔ یہ نقصانات تو اپنی جگہ ہیں ہی مگر مساجد کی ویرانی ماہ رمضان میں اجتماعی عبدات پر پابندیاں اور اب ایک اور دلخراش اطلاع کے رواں سال حج پر بھی پابندی ہمیں جھنجھوڑ رہی ہے کہ کہیں ہم اپنی نافرمانیوں میں اتنا آگے تو نہیں بڑھ گئے کہ اس ذات کو ناراض کر بیٹھے جو ہماری خالق ہے۔ خدا کا وہ گھر جسکی رونقیں ہماری آنکھوں کا نور ہیں اور ہمارے ایمان کو جلا بخشتی ہیں ۔خداکا وہ گھر جہاں جانے اور اسے دیکھنے کی تمنا ہر دل میں ہوتی ہے آج اس گھر کی ویرانی تمام عالم اسلام کا دل کاٹ رہی ہے۔
حج اسلام کا پانچواں اہم رکن جس کے متعلق ہمارے نبی صلی الله عليه وسلم فرماتے ہیں کہ”جسکو کسی ظالم حکمران نے نا روکا ہو اور وہ صاحب استطاعت بھی ہو پھر بھی حج نا کرے تو چاہے وہ یہودی ہو کر مرے یا نصرانی ۔” ہر مسلمان کی دلی خواہش ہوتی ہے کہ وہ حج بیت اللہ کا شرف حاصل کرے۔ ان مقدس مقامات کو دیکھے جہاں سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے قدم رکھے ……. جہاں ہمارے نبی صلی الله عليه وسلم نے مناسک حج ادا کئے ۔ ہم میں سے کچھ ایسےبھی ہوتے ہیں جو صاحب استطاعت نہیں ہوتے مگر انکی تڑپ انکا شوقِ دیدار بیت اللہ انہیں اس گھر لے جاتا ہے جہاں جانے کی وہ استطاعت نہیں رکھتے ۔ بلاشبہ یہ بڑے کرم کے فیصلے ہوتے ہیں ۔ الله تعالیٰ جس کو بلانا چاہیں اسے کوئی روک نہیں سکتااور جس کا بلاوا نہیں آئے……. اسے دنیا کی کوئی طاقت وہاں پہنچا نہیں سکتی.
رواں سال حج کا موقوف ہونا ہمارے لیے سوچنے کا مقام ہے کہ کہیں ایسا تو نہیں کے خدا ہمیں اپنا مہمان بنانا ہی نہ چاہتا ہو ۔
اس میں کوئی شک نہیں وہ ذات……. مہربان بھی ہے رحیم بھی مگر اپنے بندوں پر مہربان رب بندوں کی مستقل نافرمانیوں سے نا راض بھی تو ہو سکتا ہے ۔ ہم اپنا محاسبہ کریں تو پتا چلے گا کہ جس بات پر رب العالمین نے قوم شعیب پر عذاب بھیجا ہم اس عمل سے برے سے برے حالات میں بھی باز نہیں آتے نچلے درجے کے دکاندار سے لے کر بڑے بڑے بیوپاری تک تمام ناپ تول میں ڈنڈی مارتے ہیں، ہم قوم عاد کی طرح اونچے گھر بنا لیتے ہیں تو دماغ بھی اونچا کر لیتے ہیں دنیا کی حقیقت سے بے خبر ہو کر ہر مظلوم کو پیروں تلے روندنے کی کوششیں کرتے ہیں، اقتدار ملتا ہے یا کوئی بھی رتبه ملتا ہے ہم فرعون بن جاتے ہیں، ہم وہ ہیں جو انجام قوم لوط سے واقف ہیں مگر ہم میں سے کچھ بدبختوں نے ہم جنس پرستی کا نعرہ لگایا تو ہم نے نے انہیں بزور قوت روکا نہیں ،ہم نے بنی اسرائیل کی طرح اہنے گناہوں کو گناہ سمجھا ہی نہیں خود کوامت محمدیہ صلی الله عليه وسلم کا فرد سمجھتے ہوئے اپنے لیے بخشش کو لازمی سمجھ لیا۔
انفرادی گناہوں کی فہرست تو الگ ہے۔ ہمارے انفرادی گناہوں پر الله تعالیٰ کی انفرادی پکڑ آتی بھی ہےہم سمجھتے ہیں اور استغفار بھی کرلیتے ہیں مگر حج ایک اجتماعی عبادت ہے اور اس سوچنا یہ ہے کہ کہیں اس پر بندش تو ہمارے اجتماعی گناہوں کے سبب نہیں آئی؟ اگر ایسا ہے تو آئیں اجتماعی توبہ کریں کہ پروردگار ہمیں معاف کردے ہماری سیئات سے درگزر فرما…… ہمیں بحثیت امت محمدیہ دنیا بھر کے لیے ایک مثال بنادے تو جو چاہے وہ ہو سکتا ہے ہم سے ہر ایک کو اپنے گھر کا مہمان بنا لے رب العالمین ۔آمین

اپنا تبصرہ بھیجیں