نہیں میڈم یاسمین راشد!نفیسہ بیگم جاہل نہیں تھیں – ڈاکٹر مریم خالد




ایمرجنسی کے آئی سی یو میں کام کرتے ہوئے دوپہر ہونے کو آئی تھی ۔ ایک کے بعد ایک مریض آ رہا تھا۔ سٹریچر پہ جو مریض آتا تھا، ہماری آنکھیں دور سے اس میں زندگی کی رمق تلاش کرتیں۔ پھر قریب جا کر ہم اس کی آنکھوں کی روشنی ڈھونڈتے۔ نبضوں پہ ہاتھ رکھتے، مگر خون کی خفیف سی بھی لہر نہ آتی۔ ای سی جی کرتے تو سیدھی لکیریں کاغذ پہ پیوست ہوئی نکلتیں۔
کہانی ایک ہی تھی، ” دو دن پہلے بخار ہوا، پھر کھانسی، آج سانس خراب ہوا، ہسپتال لاتے ہوئے راستے میں راستے جدا کر گئے۔” ایک مریض، دو، تین ….. کان ترس گئے کہ کسی اور مسئلے کے ساتھ بھی کوئی آئے۔ کوئی تو آئے چلتی سانسیں لے کر، دھڑکتے دل کے ساتھ جس کے زخم پہ مرہم رکھیں اور وہ زندگی کے ساتھ واپس لوٹے۔ دوپہر کو نفیسہ بیگم آئیں۔ گھر میں اچانک بیہوش ہو گئی تھیں۔ نوجوان بچوں نے آگے پیچھے سے گھیر رکھا تھا۔ اپنے دل کو راحت ملی، ایک زندہ مریض آیا تھا۔ دنیا بھی کیسے کیسے دن دکھاتی ہے۔ انہیں بخار نہیں تھا، کھانسی نہیں تھی۔ فوراً ان کا معائنہ کیا، علاج شروع کیا۔ گردے ٹھیک کام نہیں کر رہے تھے۔ خون میں آکسیجن کی مقدار کافی کم تھی۔ ایکس رے رپورٹ آئی، جیسے ہی ہماری نظر اس کی طرف گئی، آنکھیں وہیں پھیل گئیں۔ وہ سفید تھا، سارا سفید۔ یہ پھیپھڑوں میں پانی والا عکس نہیں تھا، گردوں کی خرابی کی وجہ سے یہ صورتحال ہو ہی نہیں سکتی تھی۔ اچانک طبیعت کی خرابی، خون میں آکسیجن کی کم مقدار اور سفید ایکس رے_اس سب کی ایک ہی وجہ ہو سکتی تھی، کورونا!
دل تکلیف سے بھر گیا۔ ایک مریض پہ تسلی ہوئی تھی کہ یہ کورونا کا نہیں ہو گا، اس پہ بھی اسی کا شبہ نکل آیا۔ عام لوگوں میں کورونا کی علامات کھانسی، بخار، گلا خراب ہوتی ہیں لیکن دل، گردے اور دوسرے پرانے امراض میں مبتلا مریضوں کو کورونا ہو جائے تو ان میں پرانی بیماری ہی شدید ہو جاتی ہے۔ نفیسہ بیگم کے ساتھ یہی ہوا تھا۔ ان کے گھر والوں کے سامنے کورونا کا شبہ ظاہر کیا تو نوجوان بچوں کی آنکھوں میں خوف کے سائے لرز گئے، “سرکاری ہسپتال میں ہر مریض کو کورونا بنا دیتے ہیں۔ نہیں ڈاکٹر صاحب! ہم نے علاج نہیں کروانا۔ ہمیں چھٹی دیں۔” انہیں بہتیرا سمجھایا کہ ایک ٹیسٹ کروا لیں۔ رپورٹ منفی آئی تو عام وارڈ میں بھیج دیں گے۔ لیکن اگر مثبت ہوئی تو اس کے آنے تک علاج میں خطرناک تاخیر ہو سکتی ہے۔ ان کے بچے جو ان کی تکلیف سے نکلتی ایک ایک سانس پہ آبدیدہ ہوئے جاتے تھے، بےیقینی کی اک عجب کیفیت میں آ گئے اور بضد چھٹی لے کر چلے گئے۔ مغرب کا وقت ہو چکا تھا، میں نے نماز پڑھ کے آئی سی یو میں قدم رکھا تو عجب اندوہ ناک آوازیں سماعت سے ٹکرائیں۔ ایک مریض کے بستر سے ای سی جی مشین واپس لائی جا رہی تھی۔ بیٹیاں نفیسہ بیگم کے اوپر جھکی پھوٹ پھوٹ کے روتی تھیں۔ ہر آنکھ گریہ کناں تھی، ہر دل نوحہ خواں! معلوم ہوا کہ راستے میں طبیعت بگڑنے پہ انہیں واپس لے آئے مگر ہسپتال پہنچنے سے پہلے وہ انتقال کر گئیں۔ عین نوخیز جوانی میں کسی دن اچانک ماں کی میت دیکھ لینے پہ کیا قیامتیں بیت جاتی ہیں، میرے سامنے محشر کا اک سماں تھا۔
کتنے خواب تھے دل میں کہ ڈگری مکمل ہونے کے بعد مسیحائی کے عملی میدان میں قدم رکھیں گے تو روح و بدن کے گھاؤ پہ اپنا ہاتھ مرہم بن کے لبوں پہ تازگی انڈیلے گا مگر ہمارے سامنے تو آیا بھی کیا ……. لاشیں۔ وہ مرض جو پہلی بار منظرِ عام پہ آیا اور عالم کو نگل گیا۔ ایسی بیماری جسے انتہائی کرب ناک ہوتے ہوئے بھی کوئی بیماری ماننے کو تیار نہیں ۔ سورج ڈوب چکا ہے اور کہیں دور بدلیوں میں دل بھی۔ صبح سے کتنے ہی ڈیتھ سرٹیفیکیٹ بنائے ہیں۔ اس قلم پہ ایسا وقت بھی آنا تھا؟ اتنا عرصہ کچھ لکھنے کی ہمت نہیں ہو پائی۔ بہت دل چاہا کہ کچھ امید افزا الفاظ آگے پہنچائے جائیں مگر تیرگی کی دبیز تہوں سے کدال لے کر سورج کھود لینا آسان کہاں ہوا کرتا ہے۔ آج میری بس ہو چکی ہے۔ موت کے اس رقصِ بے سُر کی ذمہ دار ایک وہی بھینس ہے جس کا نام حکومت ہے۔
کس نے ایران سے آئے زائرین کو پورے ملک میں اپنی زیرِ نگرانی پھیلایا، دور دراز قرنطینہ مراکز بنائے اور وہاں کا حال بھی جانوروں کے ڈربوں سے بدتر۔ کس نے حفاظتی سامان مانگنے پہ ڈاکٹروں کو جیلوں میں بھرا، کس نے لاک ڈاؤن کیا بھی تو کروڑوں غریبوں کو بھوکا مرنے کے لیے چھوڑ دیا۔ جب عرصہ سے بتایا جا رہا تھا کہ کورونا کی انتہا مئی کے اواخر تک آئے گی، کس نے عین اس وقت لاک ڈاؤن کھول ڈالا۔ دو ماہ کسی کو گھر رکھنے کے بعد عید پہ آزاد کیا جائے تو کون سا دنیا کا فرد ہے جو باہر نہ نکلے گا؟ ایک پوری منصوبہ بندی سے کورونا کو سازش اور جھوٹ قرار دینے کی مہم چلائی گئی، زہر کے ٹیکے، ایک لاش کے لاکھوں ڈالر، اعضاء کی فروخت کے فسانے عام کیے گئے۔ سرکاری سطح پہ فرقہ واریت کو شعلہ دکھایا گیا، مساجد کے ساتھ انتہائی نازیبا سلوک روا رکھا گیا۔ حکومت کہاں تھی؟ کس نے قوم کو آگہی دینی تھی؟ ٹی وی سکرین تقریروں کے شوقین وزیراعظم کی راہ دیکھتی رہی، مگر وہ قوم کی راہنمائی کے لیے نہیں آئے۔ بیس ہزار کا انجیکشن لاکھوں میں بھی نایاب ہو گیا، لوگ ایڑیاں رگڑتے رہے مگر اربابِ اختیار کو عید کے چاند پہ سیاستوں کے سوا کوئی شغل ہاتھ نہ تھا۔
میڈم یاسمین راشد! کس نے کہا تھا کہ صحت مند انسان کو ماسک پہننے کی ضرورت ہی نہیں۔ کس نے کہا تھا کہ محض یہ دیکھنے کے لیے کہ کورونا ہے یا نہیں، ٹیسٹ نہیں کیا جاسکتا۔ کس نے کہا تھا کہ ڈبلیو ایچ او جو مرضی کہے، ہماری صورتحال بہتر ہے۔ یہ جاہلانہ کلمات کس کے تھے، کس نے روزِ اول سے قوم کو گمراہ کیا، صورتحال بےقابو ہوئی تو بدک کے قوم پہ برس پڑے۔ کون سی نوخیز جوانیاں ہوتی ہیں جو عزیز از جان ماں کا لاشہ اٹھانے کا حوصلہ رکھتی ہیں۔ یہ قوم جاہل نہیں کہ ماں باپ، شوہر و اولاد کے جنازے دیکھنے کا شوق رکھتی ہو۔ یہ آپ ہیں جن کے منہ کو ایک نسل کا خون لگا ہے۔ ایک وقت آئے گا کہ اشکوں میں لہو بہاتی، بلکتی ہوئی نفیسہ بیگم کی بیٹیاں آپ کی سانسیں دبا کے غرائیں گی کہ جاہل کون تھا؟
(مریضہ کا نام فرضی ہے۔)

اپنا تبصرہ بھیجیں