سوتیلی ہو یا ماں ہو؟ – شہلا خضر




آج  کراچی کے علاقے گلبرگ میں ، دو کم عمر بچوں  کے ساتھ انسانیت سوز سلوک کی وڈیو دیکھ کر آنکھیں نم ہو گئیں …… ان معصوم بچوں کو پانچ ماہ سے ان کی سوتیلی ماں نے جانوروں سے بھی بد ترحالت میں…. برہنہ زنجیروں سے باندھ رکھا تھا ۔ کسی محلے دار کو یہ دردناک نظارہ اپنے گھر کی کھڑکی سے دکھائی دیا ،تو اس نے علاقے کے تھانے کو مطلع کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سوتیلی ماں کا لفظ نہ جانے کس نے ایجاد کیا ۔ ماں تو صرف ماں ہوتی ہے ۔ ماں کا لفظ انتہائی مقدس اور قابل احترام ہے ۔ کیا سوتیلی کا لفظ لگتے ہی ماں سے جڑے تمام جزبے تمام احساسات مر جاتے ہیں ؟ کیا ایک عورت کا دل صرف اپنے بچوں کے لۓ ہی مامتا محسوس کر سکتا ہے ؟؟ کیا اتنے چھوٹے معصوم بچوں کو بھوکا پیاسا آہنی زنجیروں سے باندھتے ہوۓ …… اس بے رحم عورت کے ہاتھ نہ کانپے ہوں گے ؟؟ کیا ایسی سنگدل عورت کو ماں کا لقب دینا چاہیۓ ……. چاہے سوتیلی کے القاب سے جوڑ کر۔ ہی کیوں نہ ہو، میرے خیال میں تو اگر ماں کی طرح کوئ عورت کسی کے بچوں کی پرورش نہی کر سکتی تو اسے خواہ مخواہ ماں کا عہدہ  دے کر اس عظیم رشتے کے تقدس کو پامال نہہ کرنا چاہیۓ۔ بلکہ اسے کسی دوسرے نام مثلآ آنٹی وغیرہ سے پکارنا چاہیۓ ۔ اگر ہم چند روز کے لیۓکوئی جانور ،یا پرندہ بھی پالتے ہیں تو  اس سے انسیت ہو جاتی ہے ۔۔۔۔۔۔
ان بچوں کے  ہڈیاں نکلی لاغر جسم ، درد بھری آنکھیں ، اور سہمے مرجھاۓ  چہرے دیکھ کر اس سنگدل عورت کا دل کیوں نہ پسیجا ۔ ان بچوں کے والدین کی علیہدگی ہوئی اور پھر انہوں دوسری  شادیاں رچا لیں ۔ دونوں اپنی نئی شادی شدہ زندگیوں میں گم ہو گۓ ۔ ماں یا باپ دونوں کی غفلت اور غیر زمہ دارانہ روش کی وجہ سے سوتیلی عورت (ماں ) کو موقع ملا کہ وہ ان بچوں کو اپنے ظلم کا نشانہ بناۓ ۔ کیا ہمارے ملک کے فیملی کورٹس کی زمہ داری صرف علیحدگیاں اور طلاقیں کروانے تک ہی محدود ہے ؟؟ کیا ہمارے فیملی کورٹس کی زمہ داری نہی بنتی کہ وہ  ایسے ٹوٹے خاندان کے نا بالغ معصوم بچوں کی خبر گیری رکھیں ؟؟ کیا عدلیہ اور انتظامیہ صرف طلاق نامے تھما کر اپنی زمہ داری سے ہاتھ جھاڑ لیں گے ؟ ٹوٹے گھروں کے بچے ہم سب کی توجہ کے منتظر ہیں۔ ان کے ساتھ پیش آنے والے  ان  دلخراش  واقعات کے زمہ دار ہم سب بھی ہیں …! درد دل رکھنے والے با اثر افراد اس سلسلے میں کچھ عملی اقدامات کریں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ادرد گرد نظر دوڑائیں انگنت مظلوم بچے اسی نوعیت کے مسائل کا شکار ہیں … منظر عام پر آنے والے اس واقعے کو ہی “ٹیسٹ کیس” بنا کر مثالی حل پیش کریں اور آئندہ کے لیۓ کوئ مربوط منظم لائحہ عمل مرتب کرنے کے بعد ہی کسی خاندان کو طلاق یا خلع کا پروانہ تھمائیں ۔۔۔۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں