اے مصطفوی خاک میں اس بت کو ملا دے – ریحام عبد العلیم




۲۰۱۹ء میں فلاح لولی وڈ فلم نے پاکستان کے سینما گھروں میں میدان مار لیا ……. جبکہ یہ اور یہ فلمیں بھی پیچھے نہ رہیں ۔ یہ تھی قومی اخبار کے صفحے پر منہ چڑاتی فخریہ خبر! اگر ہم اپنا اور اپنے ماحول کا تجزیہ کریں تو متعدد ایسے طریقے اور سرگرمیاں نظر آئیں گی جو اسلامی طریقے سے متضاد ہیں حالانکہ یہ تجزیہ مسلم معاشرے کا ہی ہے۔
یقینن مسجدوں میں بلخصوص جمعہ اور عیدین کی نماز میں رونق اس رونق سے کچھ کم نہیں جو ہمارے سینما گھروں میں پابندی کے ساتھ پائی جاتی ہے۔ یہی وہ نقطہ ہے جسکے سبب آج مسلمان کثیر التعداد ہونے کے باوجود بوجھل شناخت کے حامل ہیں اور وہ کسی آسمان پر سورج کی طرح نہیں چمک پاتے۔ “یعنی دو کشتیوں کی بیک وقت سواری۔” ہماری ایک ٹانگ ایمان کی اس کشتی میں ہے جسکی منزل رضائے الٰہی کی بلندی ہے اور زاد راہ تقویٰ ! مگر ذرا اس ٹانگ پر بھی نظر ڈالیے جو تقویٰ کو چاٹ جانے والی زنجیروں میں جکڑی ہوئی ہے اور اس کشتی میں سوار ہے جسکو یکے بعد دیگرے نفس کو بھٹکا دینے والے طوفانوں سے سابقہ پیش آتا ہے۔ ہماری بلند منزل کے لیے ناگزیر ہے کہ ہم ہر زنجیر کو نور لا الہ سے توڑ کر اپنی ساری متاع زاد راہ (تقویٰ) پر خرچ کریں۔
اگر ان زنجیروں کو توڑکر طوفانوں میں ڈگمگاتی کشتی کو چھوڑنا رضائے الٰہی کے حصول کے لیے اہم نہ ہوتا تو کیوں کر اللہ عزوجل سورۃ الکافرون میں ہم سے فرماتا۔۔ اے کلمہ طیبہ کے وارثوں اعلان کردو اور جم جاؤ!! ……. ” تمہارے لیے تمہارا دین ہے اور میرے لیے میرا دین”…….. یہی نفی، یہی پختگی، یہی علیحدگی تو اسلام کی شان ہے! یہی عزم تو درکار ہے! جن مسلمانوں کے سینوں میں یہ شناخت جڑ پکڑ کر ان کے خون میں رواں دواں رہے تو کوئی وجہ نہیں ہے کہ وہ پھر سے فضائے بدر پیدا نہ کرسکیں اور فرشتے ان کے ساتھی نہ ہوں۔ یہی تو ہمارے اسلاف کی شمشیریں تھی۔
بھلادی ہم نے جو اسلاف سے میراث پائی تھی
ثریا سے زمین پر آسمان نے ہم کو دے مارا
مگر جو مسلمان اس یکسانیت سے جی چرائے اور مخلوط طرزِ زندگی پر ہی اسرار کرے اسے ضرور یہ سمجھ لینا چاہیے کہ: “جو فرد دو کشتیوں کا سوار ہو ڈوبنا ہی اسکا مقدر ہے۔ نہ وہ خود کشتی چلانے کی استطاعت رکھتا ہے نہ کسی طوفان سے مقابلے کا جگر۔”

اپنا تبصرہ بھیجیں