سورج گرہن اور وزیر سائنس کا ٹوئٹ – ثمن عاصم




کہتے ہیں جیسی عوام ہوتی ہے ویسے ہی حکمران ان پر مسلط ہوتے ہیں ۔ عمر فاروق رضی اللہ جیسے حکمران جس عوام پر برسراقتدار تھے تو وہ عوام ایسی تھی کہ ایک مرتبہ مال غنیمت سے ملے کپڑے سے بنا سوٹ وہ زیب تن تھے تو بھرے مجمعے میں ایک شخص اٹھتا ہے اور کہتا ہے کہ عمر فاروق آپ کا قد لمبا ہے …… جتنا کپڑا تمام مسلمانوں کو ملا ہے آپکا سوٹ اس کپڑے سے نہیں بن سکتا تھا؟
آپکا یہ سوٹ کیسے بنا؟ حضرت عمر کے بیٹے کی گواہی پر کہ ان کے بیٹے نے اپنا حصہ اپنے والد کو دے دیا تھا پر وہ شخص مطمئن ہوا ….. اسی طرح تاریخ بھری ہے ایسے واقعات سے کہ جہاں اور جب کسی حکمران نے کوئی غلط حکم دیا تو اسےوہیں روکا گیا کبھی نصیحت کی گئی، کبھی الله سے ڈرایا گیا اور وہ حکمران تب بھی نہیں مانا تو اسکا تختہ ہی پلٹ دیا گیا ۔ آج ہمارے اعمال کی شامت کے نتیجےہمیں ہم پر ایسے حکمران مسلط ہی جو سورہ فاتحہ اور سورہ اخلاص پڑھنا نہیں جانتے۔ بڑے بڑے عہدوں پر فائز لوگ جب بات کرتے ہیں تو یہ نہیں جانتے انکی کونسی بات کب گستاخی کے زمرے میں آجاتی ہے۔کچھ ایسی بونگیاں مار دیتے ہیں کہ ہم سر پیٹ کر رہ جاتے ہیں اور وہی بات دنیا بھر میں ہماری جگ ہنسائی کا سبب بن جاتی ہے۔
کوئی کہتا ہے ڈگری ڈگری ہوتی ہے چاہے وہ جعلی ہو یا اصلی ۔ کوئی کہتا ہے کہ بارش ہوگی تو پانی آے گی…… ذیادہ ہوگی تو ذیادہ پانی آئے گی.! افسوس کا مقام یہ ہے کے مسلم اکثریت والے اس ملک میں کئی بار ختم نبوت پر ڈاکہ پڑا ہے…… مگر ان نا اہل لوگوں کو یہ نہیں پتہ کے یہ دین ایمان کا معاملہ ہے۔ ہماری بدقسمتی کے ہمارے وزیر سائنس جن کا سائنس کے ساتھ کوئی تعلق نہیں اسلامی مملکت میں رہتے ہوئے بھی ہمیشہ ایسے بیان داغتے ہیں جو انکی اسلام بیزاری اور دین سے تعصب پر مہر لگا دیتے ہیں۔ محترم کے عتاب کا نشانہ کبھی مدرسہ ہوتا ہے کبھی مدارس کے طلباء بقول انکے کہ مدارس سے فارغ التحصیل طلباء دہشت گرد بن جاتے ہیں .محترم کی یہ باتیں دینی طبقات کے لئے نشتر کا کام کرتی ہیں ۔ کبھی وہ عید کے چاند پر سنت رسول صلی الله کو ترک کرتے ہوئے سائنس کی ہانکتے ہیں۔ کبھی آسیہ ملعونہ کا ساتھ دے کر مسلمانوں کے جذبات سے کھیلتے ہیں ۔
حال ہی میں ہونے والے سورج گرہن پر محترم کےٹوئٹ نے ہر مسلمان کا دل دکھا یا ہے کہتے ہیں ” پہلے لوگ سورج اور چاند گرہن کو لے کر توہم پرستی کا شکار تھے، سائنس نے یہ قلعی کھولی تو یہ توہم پرستی ختم ہوئی ۔” جب کہ حقیقت یہ ہے کے آج سے چودہ سو سال قبل جناب محمد رسول اللہ یہ قلعی کھول چکے تھے ۔ جب محمد صلی الله عليه وسلم کے بیٹے کا انتقال ہوا تو اس روز سورج گرہن تھا…… لوگوں نےکہنا شروع کر دیا کہ سورج بھی غمزدہ ہے وہیں اسی وقت رسول الله نے فرما دیا کہ یہ سورج اور چاند الله کی نشانیوں میں سے ہیں . انکا گرہن لگنا کسی کی وفات سے مشروط نہیں یعنی توہم پرستی تو وہیں روک دی گئی…… مگر فواد چوہدری کو یہ اعتراف مشکل لگ رہا ہے۔ ہم ایک دین بیزار شخص سے اور امید بھی کیا کر سکتے ہیں؟ جو دین سکھانے والے مدرسوں کی کھل کر مخالفت کرتا ہو جو علمائے کرام سے کھل کر بغض کا اظہار کرتا ہو اور جو نام نہاد لبرل ازم کا فخریہ ساتھ دینے والا ہو ……اسکا رویہ یہی ہوگا۔
افسوس تو اسلامی جمہوریہ پاکستان کی مسلم عوام پر ہے جو ایسے شخص کو اور اسکے ارادوں کو جان کر بھی اسکی بر طرفی کے لیے آواز نہیں اٹھاتی۔ خدا ہمیں ایسے تمام فتنوں کو سمجھنے والا اور انکے خلاف کھڑا ہونے والا بنا دے۔آمین

اپنا تبصرہ بھیجیں