یاد کے بے نشاں جزیروں سے – ہمایوں مجاہد تارڑ




نگار خانہء ذہن میں سید منوّر حسن صاحب کا وہ باجمال رُوپ بسا ہے ۔ زمانہ طالب علمی میں ایک دوست کے ہمراہ جمیعت کے سالانہ اجتماع میں شرکت کی تھی ۔ جمیعت کا نظم و ضبط اور اخلاق دیدنی تھا ۔ مجھے اعتراف ہے میں خاصا متاثر ہوا۔ اِن کی نصابی کتب بھی رغبت سے پڑھیں چونکہ میں مطالعہ کا رسیا تھا …..

خیر، جب سٹیج پر دیگر مقررین کا خطاب جاری تھا تو نوجوان ایک دوسرے سے استفسار کرتے پائے گئے…… “منوّر حسن بھائی کب آئیں گے ۔۔۔؟” اور پھر وہ آ گئے۔ آواز اور لب و لہجہ دیکھ کر قدرے مایوسی ہوئی۔ معاً خیال آیا آپ کوئی ‘شعلہ بیان’ مقرر تو نہیں دِکھتے جو سب دوست اتنی وارفتگی سے انتظار کر رہے تھے۔ خیر، چند منٹ ہی گزرے تھے کہ لاکھوں کے مجمع پر موت کا سا سنّاٹا طاری ہو گیا۔ جی ہاں، یہ حقیقتاً لاکھوں نفوس کا مجمع تھا، اور بلا کا منظّم و باتہذیب۔ اسلامی جمعیتِ طلبہ پورے پاکستان سے اکٹھی ہوئی تھی۔ خیر، جو تھوڑا بہت شور تھا، وہ بھی fade away ہو گیا ۔ کامل سکوت جسے انگریزی میں پِن ڈراپ سائلینس کہتے ہیں۔ یوں لگا، منوّر حسن کوئی فزیکل وجود نہ ہوں، بلکہ سرتاپا فقط ایک احساسی وجود۔ جذبہ و احساس میں رچی، بےپناہ وفور کی حامل توانا و باتہذیب گفتگو ۔۔۔ ہر جملے میں غیر معمولی پن! منوّر حسن گویا ایک فسوں کار تھے، وہی لیجنڈری Piper جو بستی کے سارے بچوں کو اپنے میجِک پائپ کی دُھن پر بہا لے گیا۔

موضوع ‘کشمیر’ تھا۔ ایک پرسکون ندّیا کے بہاؤ ایسا خرام، کوئی چیخ و پکار، گھن گرج نہیں — مگر لفظوں اور فقروں میں فِگوریٹو لینگویج کے جملہ آلات کا ماہرانہ و بے خطا استعمال۔ ہر بات، ہر نکتہ ایک جداگانہ ادا لیے ہوئے۔ دھیمے لب و لہجہ میں معمولی زیروبم مگر بلا کا وفور ۔۔۔ لفظ خود شور مچاتے، دھماکے کرتے، آگ لگا دیتے۔۔۔۔۔ ایسا سحر انگیز بیان کم ہی سنا۔ منوّر حسن صاحب کا یہ روپ ٹیلی ویژن پر دِکھتی شخصیت سے قطعی مختلف تھا۔ انٹرویوز اور ٹاک شوز والے عمومی تاثر سے قطعی جدا وہ مزید بہت کچھ تھے۔ کچھ برس پہلے، کسی چینل پر ایک انگلش ٹاک شو میں انہیں اہلِ زبان کی سی روانی سے effortless انداز میں گفتگو کرتے دیکھا، تب حیرت ہوئی۔ ایک اچھا مسلمان جسے پاکستان سے محبت تھی، اور جس کا احساسی وجود مسلمانانِ عالم کے ہر دکھ درد سے جڑا رہا ۔۔۔

میری زندگی کا مقصد تیرےدِیں کی سرفرازی
میں اِسی لیے مسلماں ، میں اسی لیے  نمازی

اللہ کی رحمت سدا سایہ فگن رہے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون

اپنا تبصرہ بھیجیں