فیضِ منور کو جاری رکھنا – محمدعبدالملک




سید منور حسن ……… اسم بامسمٰی ، اجلا اجلا , سفید پوش , اندر اور باہر سے ایک…….! ڈر تو منور حسن سے ڈرتا تھا ….. وہ صبح منور شام منور تھے . روشن تیرا نام منور……
جو رکے تو کوہِ گراں تھے ہم ، جو چلے تو جاں سے گزر گئے. رہِ یار ہم نے قدم قدم تجھے یادگار بنادیا …….. کون کہتا ہے کہ,موت آٸی تو مرجاٶں گا ……. میں تو دریا ہوں, سمندر میں اتر جاٶں گا……
وہ بولتے تو سارے مجمع کے دل و دماغ ان کی مٹھی میں ہوتے ……… وہ الفاظ بولتے نہیں انہیں یادگار بنادیتے تھے . دوران خطابت کبھی جھرنا, کبھی چنگھاڑتا,شور و تلاطم دریا. کبھی اتنے وسیع ہوجاتے لیکن اوجھل کبھی نہیں ہوتے …… خوف کیا ہوتا . اس کا مفہوم سید صاحب کو دیکھ کر اور سن کر آیا.
ہم ……سید صاحب، تم سے محبت کرتے تھے اور کرتے ہیں . اے میرے رب سید منور حسن کے فیض کو جاری رکھنا,

اپنا تبصرہ بھیجیں