سید منورحسن ایک عظیم انسان – بنت شیروانی




سید منور حسن ایسے انسان جنھوں نے واچپائی کی آمد کے موقع پر ڈنڈے بھی کھاۓ اور قیدوبند کی صعوبتیں بھی برداشت کیں ….. وہ مناظر اتنے تکلیف دہ تھے کہ جب ان لاٹھی کھاتے مناظر کو دیکھنے والے دیکھتے تو آنکھوں سے آنسو رواں ہو جاتے۔ ایسے انسان جنھوں نے جس وقت اپنی بیٹی کی شادی کی تو اس وقت امیر جماعت تھے۔
اور جب بیٹی کو لوگوں نے تحفے دیۓ تو وہ تمام تحفے جماعت کے بیت المال میں جمع کرا دیے کہ یہ میری بیٹی کو بحیثیت امیر جماعت ملے ہیں لہذا ان پر میری بیٹی کا یا ہمارا حق نہیں۔حالانکہ اُن تحفوں میں قیمتی چیزیں بھی تھیں ۔ سونے کے سیٹ بھی تھے لیکن اپنے پاس نہ رکھے کوئی بھی تحفے …….. ایسے انسان کہ جنھوں نے اپنے جوان بیٹے کا پاسپورٹ پھاڑ دیا کہ جب بیٹے نے مغربی ملک جانے کی خواہش کا اظہار کیا ۔ بیٹے نے کہا بھی کہ ابو پاکستان میں اس کی آگے پڑھائی نہیں۔ فیلڈ بدلنے کا کہہ دیا لیکن مغربی ملک میں نہ جانے دیا۔
ایسے انسان کہ جنھوں نے ایک سو بیس گز کا جب گھر لیا تو نہ جانے کتنے اجتماعات میں ان کا محاسبہ ہوا کہ کہاں سے لیا یہ گھر ؟؟ اور بنا ماتھے پر بل لاۓ……. ہمیشہ پوری بات بتائی کہ دوست نے کس طرح ساتھ دیا تو چھوٹا سا مکان خرید سکے۔ ایسے انسان جو کہ ممبر اسمبلی بھی رہے لیکن کرپشن کا داغ نہ لگا ۔ امانت و دیانت سے اس ممبر اسمبلی کی ذمہ داریاں پوری کیں۔
آج یہ سید منور حسن اپنے خالق حقیقی سے جاملے ہیں۔ایسے انسان جن کی تمام زندگی اپنے پیدا کرنے والے کے تحت گزری۔
خدا ان سے راضی ہو ۔اور ان کی تمام نیکیوں کو قبول کرے اور بحیثیت انسان جو بھی غلطیاں ہوئ ہوں انھیں معاف کرے اور جنت الفردوس میں جگہ دے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں