عظیم محسن – اسماء اشفاق




کیا ہوا تھا…….؟ واٹس ایپ پہ ایک میسج ہی تو دیکھا تھا کہ سیدی اب ہمارے درمیان نہیں رہے ، اللہ کے حضور جا چکے ہيں دل کی کیا کیفیت ہوئی آنکھوں سے اشک یوں ہی تو نہی آجاتے ۔ کوئی عزیز کوئی بہت ہی قریبی ساتھی کا دکھ ہی ……. آپ کی آنکھوں میں اشکوں کی لڑیاں پروتا ہے آپ کو یہ احساس دلاتا ہے کہ تم میرے پیچھے آنے والے ہو.

رب کے حضور حاضری کا احساس ، ندامت ، غفلت ، کوتاہی اور ہم کیا ہیں ……؟ کیا کررہے ہیں کیا کرچکے ہیں ۔ یہ سارے عنصر مل جواب دہی کا احساس نعمتوں کی جواب دہی عمر کی جواب دہی کا احساس بن جاتے ہیں. خوف خدا اور قربِ خدا کا سبب بنتے ہیں اور بے اختیار اپنے اگلے ، پچھلے ، جانے، انجانے سب گناہوں کی معافی طلب کرتے ہوئے ہمارے ہاتھ رب کی بارگاہ میں پھیل جاتی ہیں جہاں جانے والوں کےلیے دعائے مغفرت رب کی رضا اور جنت طلب کرتے ہیں وہیں اپنے گناہوں کی معافی کی درخواست بھی پیش کرتے ہیں۔ اے بخشنے والے مہربان بندوں سے قریب بندوں سے محبت کرنے والے رب ، بندوں کے حق میں نہایت شفیق رب خوف آتا یے آپ کی ناراضگی سے، آپ کی سزا سے، برے انجام سے مالک آپ غفور الرحیم ہیں آپ سے خطا بخشی کے طالب ہیں لبوں پہ بے اختیار یہ آیات جاری ہوجاتی ہیں ……… وَمَنّ یَغْفِرُ ذُّنُوبَ ِاللہ کون ہے اللہ کے سوا جو گناہ بخشے.

جس رحمان نے یہ آیت اتاری ہمارے لیے کہ ہم اپنے رب کے دامن مغفرت کو تھام لیں …….. اس کی طرف پلٹیں اس سے معافی طلب کریں ۔دل سے کہیں یہ آواز بھی آرہی ہے ، شہید کی جو موت ہے وہ قوم کی حیات ہے ۔ یہ حیات ہی تو ہے جو ہمیں رب سے قریب کرنے کا سبب ہے ۔جانے والا بھی شہید ہی تو ہے ۔ آج جبکہ ہمں وبا کا سامنا ہے ہمیں یاد رہے کہ وبائی امراض سے کسی کی موت. واقعہ ہو تو اللہ کریم اسے شہادت کے ایک درجہ عطا فرماتے ییں موت تو مومن کے لیے تحفہ ہے رب سے ملاقات کا زریعہ ہے اس مہر بان رب سے جس کی رضا کے لیے ہم لوگوں کی خطائیں معاف کردیتے ہیں ، بری خواہشات سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں ۔اور ہر اس کام کو کرتے ہیں جس کا علم ہوجائے کہ اس میں رب کی مرضی ہے ۔اور ہمارا رب کیسا مہر بان رب ہے کہ ہمیں اپنے کسی عزیز کی عیادت کے لئے جانے یا کسی دینی بھائی سے ملاقات کے لیے جانے پر کیا خوشخری اپنے رسولؐ کے ذریعے دیتا یے .

مفہوم حدیث ۔ کوئی مسلمان جب اپنے کسی بھائی کی عیادت کو جائے یا کسی دینی بھائی سے ملاقات کے لیے جائے تو ایک پکارنے والا پکارتا ہے تیرا چلنا مبارک ہو، تیری دنیاوی اور اخروی زندگی مبارک ہو تونے جنت میں ایک گھر حاصل کرلیا ہے۔

میں تجھے کس پھول کا کفن دوں
تو جدا ایسے موسم میں ہوا کہ درختوں کے ہاتھ خالی ہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں