فاطمہ کے والد منورحسن – افشاں نوید




میں ان دنوں جامعۃ المحصنات کراچی میں پرنسپل تھی۔ ان کی بیٹی فاطمہ کا وہاں سال اول میں داخلہ ہوا تھا ۔ ان کا منصورہ لاھور میں قیام تھا۔کراچی آتے تو فاطمہ سے ملنے ہاسٹل آتے تھے۔ پہلی بار مجھے ان سے ملاقات کا موقع ملا۔ ہم نے انہیں جامعہ کا وزٹ کرآیا اور ادارے کے مشکلات و مسائل پر بات کی۔
وہ مشورے دیتے رھے۔میں ان کی اعلی درجے کی اردو اور اظہار بیان کی خوبی سے اتنا ہی متاثر تھی جتنا کوئی دوسرا۔ شوراؤں میں خطاب ,اسٹیج پر تقریر کرتے ہوئے انھیں الفاظ ڈھونڈنا نہ پڑتے۔ بہترین الفاظ جذبات میں گندھے ان کے سامنے ہاتھ باندھے کھڑے رہتے۔ اس ملاقات میں میرے گمان کے برعکس انھوں نے بہت سادہ آسان سے پیراۓ میں بات کی۔ بہت چھوٹے چھوٹے جملے۔ انکی گفتکو میں اتنا ٹہراؤ کہ آپ آرام سے اپنی بات کرسکتے تھے۔ کچھ لوگوں سے آپ گفتگو کریں تو انتظار کرنا پڑتا ہے کسی کامہ یا فل اسٹاپ کا کہ کس طرح آپ اس گفتگو میں میں داخل ہوں۔ وہ ٹہر ٹہر کر بامعنی گفتگو کرنے والے ……. آج مجھ جیسے ہزاروں سوچ رہے ہیں کہ ہم نے کیا سیکھا اس مرد مجاہد سے۔
ہاں تو ذکر تھا باپ بیٹی کا ……. اسی دوران فاطمہ ان سے ملنے آ گئی۔ وہ اجازت لے کے پرنسپل روم میں آئی تو منور صاحب یک دم کھڑے ہو گئے۔ چند قدم آگے بڑھ کر اس کی پیشانی پر بوسہ دیا ……. اس کو گلے لگایا اور پھر اس کے ساتھ بیٹھ گئے۔ میں کمرے سے نکل گئی کہ باپ اور بیٹی ملاقات کرلیں …… مجھے فاطمہ پر بڑا رشک آیا اور حضرت فاطمہؓ کے باپﷺ کے فاطمہؓ کو بوسہ دینے کی سنت زندہ ہونے کا منظر میرے ذہن پر ہمیشہ کے لئے نقش ہو گیا۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں