دہلی کا درویش- عائشہ صدیقہ




اے نفس مطمئن، چل ……… اپنے رب کی طرف اس حال میں کہ تو اپنے نیک انجام سے خوش اور اپنے رب کے نزدیک پسندیدہ ہے. شامل ہوجا میرے نیک بندوں میں اور داخل ہوجا میری جنت میں……سورۃ الفجر
دلوں کو چیرتی یہ خبر بالآخر سماعت کا حصہ بن ہی گئی کہ سید بادشاہ اپنے رب کے حضور…..اس ملاقات کیلئے پہنچ ہی گئے، جسکی تیاری وہ برسوں سے کررہے تھے. موت سے کسی کو مفر نہیں!! نہ ایک لمحہ آگے نہ ہی پیچھے… مگر کچھ ہستیاں ایسی ہوتی ہیں جنکی موجودگی ، باعث رحمت اور چلے جانا محرومی در محرومی ہی ہوتا ہے. منور حسن صاحب مرحوم……. دین اسلام کے بے لوث سپاہی تھے . جو اپنے زبردست تقویٰ ، درویش صفتی، فہم قرآن اور زبردست تنظیمی مزاج کی بناء پر امیر جماعت اسلامی کے منصب تک جا پہنچے.. وہ ببانگ دہل اپنی بات کہنے اور اس ہر قائم رہنے والے ، باطل کے آگے ڈٹ جانیوالے اور قرون اولیٰ کے صف اول کی یادیں تازہ کرنے والے مجاہد تھے!!!
ویسے تو جماعت اسلامی کا ہر رہنما ہمارے لئے مشعل راہ ہے ……. مگر آپ کی زندگی ہر نظر ڈالی جائے تو انہوں نے گویا اپنی زاتی زندگی تحریک پر قربان ہی کر ڈالی تھی…….. انکی رفیقہ حیات محترمہ عائشہ منور صاحبہ نے ایک دفعہ بتایا کہ اکثر دونوں کی ملاقات ائرپورٹ پر ہوا کرتی تھی ، جہاں وہ دونوں تحریکی کاموں سے مختلف شہروں میں جارہے ہوتے. انکے بچوں کی شادیاں تحریک اسلامی کے کارکنان کیلئے بہترین نمونہ عمل ہیں، جو سادگی اور قناعت کی منہ بولتی تصویریں ہیں!!! بائیں بازو کی تنظیم NSF سے اپنےنظریاتی سفر کا آغاز کرنیوالے شخص نے جب مولانا مودودی رح کے لٹریچر سے واقفیت حاصل کی تو گویا تمام کشتیاں جلا کر.. ماضی کا ترقی پسند طالبعلم رہنما، تحریک اسلامی کا ایسا سرگرم کارکن بنا کہ ایک وقت میں ، اس کے جاندار اور بھرپور مؤقف کی گونج ایوان اقتدار میں بھی سنائی دی..اور اسکا اس وقت کا مؤقف.. وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بالکل درست ثابت ہوا…
سید صاحب دہلی کے خانوادے سے تعلق رکھنے والے…….. بہترین اردو بولنے والے ، سخن کی بلندیوں پر براجمان افراد میں سے تھے. جب بات کرتے تو گویا سارے مجمع کے دل و دماغ انکی مٹھی میں ہوتے ، وہ الفاظ بولتے نہیں تھے……. بلکہ انکو یادگار بنا دیتے تھے!!! ہر لفظ اس انتظار میں رہتا کہ منور صاحب اسکو شرف خطابت بخش کر ایک ایسی خوبصورت لڑی میں پرو جائیں جو باکمال اور بے مثال ہوتی. دائیں اور بائیں بازو کے نظریاتی لٹریچر کے ساتھ ساتھ انکو تاریخ ، شعر و ادب سے بھی قلبی لگاؤ تھاجسکا اثر انکی تقاریر میں خوب جھلکتا. رب زوالجلال کابندہ اسکے حضور پہنچ چکا ہے، ہماری سیاست سے سنجیدگی اور ڈنکے کی چوٹ پر حق کو حق کہنے والی زبان خاموش ہوچکی ہے، آپکی کہی ہوئی باتیں اور نظریات فی زمانہ ایسی سچائی اختیار کرچکے ہیں، جن سے اختلاف کی کسی کو جراءت نہیں!!! رب العالمین آپکو علیین کے بالاخانوں میں رکھے.. آمین ثم آمین
عجب قیامت کا حادثہ ہے،کہ اشک ہے آستین نہیں ہے
تیری جدائی سے مرنے والے، وہ کون جو حزیں نہیں ہے
اتر گئے منزلوں کے چہرے، امیرکیا؟ کارواں گیا ہے
تیری لحد پہ خدا کی رحمت، تیری لحد کو سلام پہنچے

اپنا تبصرہ بھیجیں