سیدزادہ چلا گیا – ہارون رشید




منور حسن چلے گئے، سیدزادہ چلا گیا …… سیاست سے نظریئے کا حوالہ چلا گیا…
سیاست میں بھی اور خود آج کی جماعت میں بھی کوئی ایسی شخصیت باقی نہیں رہی. جس کو اپنے موقف کے صحیح ہونے کا اتنا یقین ہو جتنا سید صاحب کو تها، اسی لیے جب ایک ادارے نے ان سے ان کے بیان پر معافی مانگنے کا مطالبہ کیا تو ببانگ دہل سید صاحب نے کہا کہ ادارے کو سیاست میں مداخلت کا کوئی حق نہیں ہے.. جب سب کی زبانیں کانپ جاتی تهیں تو سید زادہ للکار کر گمشدہ افراد کے whereabouts کے بارے میں سوال کرتا تها…
ایک وقت تها کہ اکیلے سید صاحب وار آن ٹیرر کو امریکہ کی جنگ قرار دیتے تهے تو ریاست، ریاستی ادارے، ان کے گماشتے اور میڈیا منور صاحب پر پل پڑتے تهے لیکن سید صاحب کے موقف میں ذرہ برابر بهی کبهی فرق نہیں آیا اور پهر ایک وقت آیا کہ منور صاحب کا موقف ریاستی بیانیہ قرار پایا اور ریاستی اداروں نے نہ صرف دہشتگردی کے خلاف جنگ کو پرائی جنگ قرار دیا بلکہ آیندہ بهی کرائے پر کسی کو خدمات نہ دینے کا اعلان کر دیا… یہ منور صاحب کی اخلاقی فتح تهی اور ان کے مخالفین کی اخلاقی پستی کا یہ عالم تها کہ ان پر لعن طعن کرتی گزگز بهر لمبی زبانوں میں سے کسی ایک کو بهی توفیق نہ ہوئی کہ اس اٹهتر سالہ بوڑهے پر کی گئی دشنام طرازی پر معافی یا ندامت کا کوئی ایک حرف ہی بول دیتے. منور صاحب جب بولتے تهے تو محسوس ہوتا تها کہ جیسے الفاظ ہاتھ باندهے ان کے سامنے کهڑے ہوں، زبان میں ایسی روانی کسی اور کے ہاں کم ہی دیکهی، اردو بول سکنے والوں میں ایک اور شخص کی کمی ہو گئی …
منور صاحب بڑے صاحبِ تقوی بهی تهے…….. منصورہ کی مسجد میں ایک بار نماز پڑهنے کا موقع ملا، سلام پهیرا تو قریب ہی منور صاحب نماز ادا کر رہے تهے، میں ان کی نماز دیکهتا ہی رہ گیا… محسوس ہوتا تها کہ نماز پڑهتے ہوئے منور صاحب اس دنیا میں موجود ہی نہ ہوں، ایسے ڈوب کر اور جذب کے عالم میں نماز ادا کرتے کسی اور کو نہیں دیکها. جب ایم کیو ایم اور الطاف حسین کا نام لیتے وقت لوگوں کی زبانیں لڑکهڑا جایا کرتی تهیں اس وقت کراچی میں رہ کر ایم کیو ایم کی دہشتگردی کو جس طرح منور صاحب للکارتے تهے، یہ بهی انہی کا حوصلہ تها… دریا میں بهی رہے اور مگرمچھ سے بهی کبهی نہ گهبرائے یہاں تک کہ مگرمچھ اپنے انجام کو پہنچ گیا تو پهر سب کی زبانیں کهل گئیں…
آج رب کا بندہ اپنے رب کے حضور پہنچ گیا… زہر ہلاہل کو کبهی قند نہ کہہ سکنے والی زبان آج خاموش ہو گئی… سیاست سے نظریہ، بہادری، متانت، سنجیدگی، تہذیب اور کردار سب اُن کے ساتھ رخصت ہو گئے۔۔ اُن کی سیاست سے کسی کو اختلاف ہو سکتا ہے لیکن کیا کوئی ایک بھی ہے جو اُن کے اجلے کردار پر سوال اٹھا سکے؟
اناللہ واناالیہ راجعون…. اللہ سید صاحب کا معاملہ انبیاء، صدیقین اور شہداء کے ساتھ کریں. آمین

اپنا تبصرہ بھیجیں