آسمان تیری لحد پہ شبنم افشانی کرے – عالم خان




وہ صرف نام کا سید نہیں تھا ……… بلکہ کردار اور گفتار کا بھی تھا. وقت کے ظالموں کو مخاطب کرتے تو آواز میں اتنی قوت اور جلال ہوتی کہ مخاطبین کے پسینے ٹوٹ جاتے ۔ عجیب شخص تھا ڈرنے اور مفاہمت و منافقت کی سیاست سے نا آشنا تھا . حسینی کردار کا حامل تھا…! جو صحیح سمجھتا وہی بولتا. پورا ملک ادھر سے ادھر ہوجاتا لیکن اکیلا میدان میں کھڑا رہ کر اپنے موقف پہ ڈٹ جاتا تھا۔

کہتا ہوں وہی سمجھتا ہوں جسے حق
میں زہر ہــلا ہل کو کہہ نہ ســکا قند

سنجیدگی، سادگی اور اللہیت میں اسلاف کا نمونہ تھے . کوئی پراپرٹی تھی نہ بنک بیلنس…… منصورہ کے ایک چھوٹے کوارٹر میں مقیم تھا . وقت کے امیر جماعت تھے…….. بیٹی کی شادی تھی . کارکنان اور وابستہ گان جماعت کے علاوہ مہمانوں نے بیٹی کو قیمتی تحائف پیش کیے جوں ہی مہمان رخصت ہوئے ، سیرت عمر بن عبد العزیزؒ پر چلتے ہوئے بیٹی سے کہا ، بیٹی! یہ قیمتی تحائف سید منور حسن کی بیٹی کی وجہ سے نہیں بلکہ امیر جماعت کی بیٹی کی وجہ سے ملے ہیں ……. لہذا اس پہ ہمارا حق نہیں . وہ بھی سید کی بیٹی تھی بغیر تامل اور بحث ومباحثہ تمام تحائف بابا کے سامنے رکھ دیے جو انھوں نے بیت المال میں جمع کرکے پچپن (٥٥) لاکھ کی رسید وصول کی۔

خود داری اور اخلاص کا مظہر تھا . بیٹے کی شادی تھی شادی کارڈ کے بجائے ایک خط سادہ لفافے میں ڈال کر وقت کے وزیراعظم ، وزیروں اور مشیروں، بیوروکریٹس اور کاروباری شخصیات کو بھیجا اور جب مہمان آےُ تو ان کی تواضع مختلف اقسام کے کھانے اور مشروبات سے نہیں بلکہ ڈسپوزبل گلاسوں میں چائے اور سموسوں وغیرہ سے کی گئی لیکن کمال کا انسان تھا معاشرے کے تو تو میں میں سے آزاد کہ لوگ کیا کہیں گے خندہ پیشانی سے مہمانوں کا استقبال کرتا تھا ۔ زاہد فی الدنیا انسان تھے جب امارت کی زمہ داری پوری کی اور منصورہ سے نکلنے کا ارادہ کیا تو گھر کے سامنے سامان منتقل کرنے کے لیے ٹرک اور کٹینر نہیں بلائے گئے بلکہ کل اثاثہ جو چند کپڑے تھے……. ایک چھوٹے بیگ میں ڈال کر منصورہ کو الوداع کہا .

اس طرح آج بھی اس مرد درویش نے دنیا کو دھیمی مسکراہٹ سے الوداع کہہ کر……….. ہر ایک آنکھ کو اشکبار کیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں