مومن کی یہ پہچان – افشاں نوید




امریکا میں دل کے ڈاکٹر ہیں ، سینئیر مسلمان ڈاکٹر ………. کرونا کے حوالے سے ان کی ویڈیو کلپ نظر سے گزری۔ بولے۔۔۔امیون سسٹم کے لیے بہت اہم آپ کے جذبات اور آپ کا طرز حیات ہے۔ کرونا یہ پیغام دیتا ہے کہ اپنی زندگی کے روز و شب کو منظم کریں۔ جہاں ہر طرف یہ شور ہے کہ یہ کھائیں اور یہ پئیں…..
لیکن سب سے اہم بات یہ ہے کہ اپنے جسم میں تازہ آکسیجن داخل کیجئے تاکہ وہ لڑ سکے بیماریوں سے۔ جب آپ صبح فجر کی باجماعت نماز پڑھ لیں تو مسجدوں کے بڑے بڑے کھلے صحن ہوتے ہیں آپ درود پاک کی تسبیح پڑھتے ہوئے ٹہلتے جائیں۔ اگر آپ کے پاس اسمارٹ فون ہے تو آپ ہینڈز فری لے کر جائیں اور ایک سپارے کی تلاوت سن لیں تیز تیز قدموں سے ٹہلتے ہوئے۔ ایک ماہ میں ایک قرآن کی سماعت مکمل ہو جائیگی۔ مسلمان کی صبح کا قرآن سے خاص رشتہ ہے۔ اس کے بعد اشراق کی نماز پڑھ لیں۔ آپ جانتے ہیں فجر کے بعد طلوع آفتاب تک اسی مقام پر ٹہرنے اور اشراق کے نوافل پڑھنے کا اجر عمرہ کرنے کے برابر ہے۔ یہ کتنی بڑی سعادت ہے جو آپ کو نصیب ہوئی۔ آپ نے نماز پڑھ لی اشراق کی سعادت ملی ساتھ ساتھ ایک امید بھرے دن کو آپ نے خوش آمدید کہا۔
ایکسرسائز بھی ہو گئی …….. اب آپ گھر آ کر خوشی خوشی ناشتہ کریں رب کی لازوال نعمتوں کا شکر ادا کریں آپ وھیل چئیر پر نہیں پیروں سے چل کر مسجد گئے ہیں اس سے بڑی کیا دولت ہو گی۔۔”، کیا کھائیں ؟کیا پئیں؟ کتنی ورزش کریں؟قوت مدافعت کی بڑھوتری کے لیے اور کتنے جتن کرنا ہونگے؟ ساری دنیا کے سمجھدار لوگوں کا فوکس اس وقت اسی بات پر ہے وہ جس بھی مذھب کے پیروکار ہیں,دنیا کے شرق وغرب میں کہیں بھی رہتے ہیں۔۔کرونا سے لڑ کر جینے کے فن میں مہارت حاصل کرنے کے جنون میں مبتلا ہیں۔ ایک ہندو اور انگریز بھی جسم میں آکسیجن بڑھانے کی بات کررہا ہے …….. سبزیوں کے الگ الگ اوصاف پر سینکڑوں وڈیوز ہیں …… غذائیت کے چارٹ تشکیل دئے جارہے ہیں۔ کس بیماری کے لوگوں کو اب کیا تبدیلی کرنا ہے غذا میں ، کرونا کے اکھاڑے میں آپ دھکیل دئے گئے ہیں۔ایک جنگ کا عنوان ہے کووڈ – 19۔۔
زندگی مزید کیسے صحت مند ہو ……. بیماریوں کے ساتھ جینا ہے تو ماحول کو کیسے مزید صحت مند بنانا ہے,آپس کے رشتوں کو مزید خوش گوار بنانا ہے,خوشیاں تازہ خون فراہم کرتی ہیں دل کو۔ دنیا کے “دل” نے نئے انداز سے دھڑکنا سیکھا ہے ۔ کرونا کے دوسرےحملہ کا خطرہ تیسری جنگ عظیم کے خطرے کی طرح موجود ہے۔ ڈاکٹر صاحب کی باتیں باد نسیم جیسا احساس بن گئیں۔ مسلمان اس کائنات کو اپنے نقطہ نظر سے دیکھتا ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے صبح کی ورزش کی اھمیت کے ساتھ باجماعت نماز,اشراق کی نماز,تلاوت ودرود کی صبح کے اوقات میں فضیلت, جسم کے ساتھ روح کی آبیاری۔۔کیسی ایمان کی جوت جگا دی۔ ایک ڈاکٹر ہر دن عام لوگوں سے کتنا زیادہ خدا کے قریب ہوتا ہوگا۔ خلق دکھ لے کر اس کے پاس آتی ہے وہ دھیرے سے اس کا ہاتھ تھام کر رب سے جوڑ دیتا ہے۔
ایمان دنیا کی کتنی بڑی دولت ہے اس کا اندازہ ایک صاحب ایمان سے مل کے بخوبی ہوتا ہے۔ ورزش ,غذائیت سب اہم ہے پر ایمان اہم تر سائنس کی تعلیم ہو یا سوشل سائنسز کی, اس کا رشتہ ایمان واخلاقیات سے جوڑا جائے یہی ہمارے تعلیمی اداروں کی سب سے بری ذمہ داری ہے۔ ہم تو اس دیس کے باسی ہیں جہاں سیاست کا رشتہ بھی ایمان و اخلاقیات سے کاٹ دیا گیا۔ ہم دنیا سمیٹنے کے لیے نہیں بھیجے گئے تھے دنیا ہماری تسخیر کے لیے بنائی گئی تھی۔ جہاں ترے لیے تھا تو کیسے جہاں میں غافل ومنہمک ہوگیا۔ ڈاکٹر صاحب کی باتیں سن کر مجھے لگا کہ۔۔۔۔
کافر کی یہ پہچان کہ آفاق میں گم ہے
مومن کی یہ پہچان کہ گم اس میں ہیں آفاق

اپنا تبصرہ بھیجیں