تبدیلی سرکار اور مندر کی تعمیر – ثمن عاصم




تبدیلی کا نعرہ لگا تو ہم اسکے پیچھے چل پڑے …….. اسلامی فلاحی ریاست کے خواب دکھائے گئے تو ہم نے ووٹوں کی بارش کردی۔ ریاست ِ مدینہ کی بات کی گئی ہم نے سر جھکا دیا ۔۔۔۔۔ بات ہو ریاست مدینہ کی تو ہماری جانیں ، ہماری اولادیں قربان ….! ریاست مدینہ کا نعرہ لگانے والے برسر اقتدار آگئے۔
ہماری آنکھوں نے خواب بننا شروع کر دئیے . ایک ایسی ریاست کے جہاں اسلام کا بول بالا اور باطل کا منہ کالا ہوگا ۔ جہاں انصاف کے نام پر آئی ہوئی پارٹی ہمیں غریب امیر کی تشخیص کیے بغیر ہمیں انصا ف دلوائے گی …….. میرٹ سسٹم ہوگا ۔ سودی نظام کا خاتمہ ہوگا اور کرپشن کرنے والوں کا قلع قمع ہوگا ۔ مگر یہ کیا کہ حکومت آتی ہے اور ایک ملعونہ جو نبی اکرم صلی الله عليه وسلم کی شان میں گستاخی کی مرتکب ہوئی تھی ، اس ملعونہ کوآذادی کا پروانہ دے دیتی ہے ۔ ہم تو اس قابل گردن زدنی عورت کے انجام کے منتظر تھے ؟؟؟ تمام وہ لوگ جو پچھلی حکومتوں میں ملک کو نوچ کھسوٹ رہے تھے لندن اور دبئی نکل گئے۔ ہم سوچتے رہے کہ فلاحی اسلامی ریاست میں تو چوروں کے ہاتھ کاٹ دئے جاتے تھے یہ کیا ہوا ہے؟ سودی نظام کا اسلامی مملکت میں کیا کام مگر وہ چلتا رہا۔ہم الله اور رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے خلاف ہونے والی جنگ پر بے حس بنے رہے۔
اسی اسلامی ریاست کے دعویداروں نے گوردوارہ تعمیر کروایا ۔ہم گم سم دیکھتے رہے۔ کرونا کے نام پر شعائر الله کے ساتھ کی جانے والی نا انصافیوں پر ہم حرکت میں نہ آئے ۔ ایک دن خبر ملتی ہے کہ اسی اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں اسلام کے نام پر حاصل کی گئی اسلامی حکومت اپنی سر پرستی میں مندر تعمیر کروا رہی ہے۔ اور ہمیں ریاست مدینہ کے دعوے داراقلیتوں کے حقوق کا لالی پاپ دے کر خاموش کرانے میں لگے ہیں ۔ جناب اقلیتی حقوق کا درس ہمیں نہ دیں کہ ہمارے نبی صلی الله عليه وسلم ہمیں یہ تمام حقوق وفرائض سمجھا کر گئے ہیں۔ہم تو یہ بھی جانتے ہیں کہ آج محمود غزنوی ہمارے لیے مشعل راہ ہے تو اس لیے کہ وہ ایک بت شکن کی حیثیت سے جانا جاتا ہےاگر وہ بھی کوئی بت فروش ہوتا تو ماضی کا ایک قصہ پارینہ سے زیادہ کچھ نہ ہوتا۔
سرکار کی سر پرستی میں بننے والا مندر وہ بھی ایک ایسی جگہ جہاں ہندو آباد نہیں قطعی مناسب فعل نہیں ریاست مدینہ کے نام پر حاصل کی گئی ریاست کے ذمہ داران کو چاہیے ریاست مدینہ کو تشکیل دینے والے حاکم کی سنت پر عمل کریں تاکہ دنیا اور آخرت میں سر خرو ہو سکیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں