حق آگیا اور باطل مٹ گیا – قرة العين




چودہ سو سال پہلے عرب کے ریگستانوں میں کلمہ توحید بلند ہوا تو بتوں کے آستانوں میں زلزلہ آگیا ۔ 20 سال کے عرصے میں شرک وبت پرستی پر ایسی کاری ضرب پڑی کہ بتوں کا اس وقت کا سب سے بڑا مرکز مکہ …… جو کہ شرک کی آماج گاہ بن چکا تھا ، توحید کے نور سے ایسا جگمگایا کہ بکہ سے مکہ مکرمہ بن گیا ۔

چشم تصور سے ذرا اس وقت کا نظارہ کیجئے …….. جب فتح مکہ کے موقع پر شیر خدا علی المرتضی رضی اللہ عنہ ، اپنے مربی کے ہمراہ ان کے حکم پر کعبة اللہ کو بتوں کی غلاظت سے پاک کر رہے تھے اور رسول خدا کی زبان مبارک سے ادا ہوتے یہ کلمات …… !
جاء الحق زھق الباطل ……. ان الباطل کان زھوقا ۔ حق آگیا اور باطل مٹ گیا ، بے شک باطل مٹنے کے لئے ہی ہے۔
ادا ہو رہے تھے اور حرم کی سر زمین اپنے اصلی وابدی شرف کو چھو تے ہوئے ابراہیمی بنیادوں پر لوٹ رہی تھی ۔ اس صدائے حق کی بازگشت آج بھی سنائی دے رہی ہے اور قیامت تک سنائی دی جاتی رہے گی ۔ رسول کا مشن مکمل ہو چلا تھا ، بیت العتیق سے شرک کی غلاظت ہمیشہ کے لئےصاف کی جا چکی تھی اور رسول کا مقصد پورا ہو چکا تھا ۔ آخر رسول آتے ہی اسی مقصد کے لئے ہیں کہ رب کی زمین پر اسی کے کلمے کو بلند کیا جائے ، مخلوق کو دیگر غلامیوں سے نکال کر رب احد کی غلامی میں دیا جائے۔

رسول کے بعد یہ کام ان کے غلاموں کا ہے مگر افسوس کہ آج ان کی غلامی کا دم بھرنے والے ،ریاست مدینہ کا نعرہ لگانے والے ،اسلام کے نام ہر بننے والے اس توحید کے قلعے میں، شرک کی بنیادیں رکھ رہے ہیں ۔ اسلام آباد میں مندر کی بنیاد رکھنے والے کس منہ سے ایک خدا کا کلمہ پڑیں گے۔

کعبہ کس منہ سے جاو گے غالب
شرم تم کو مگر نہیں آتی ۔۔۔۔۔۔

ایک طرف تو لال مسجد کی اراضی کو حکومتی زمین کہہ کر اس کو توحید کے علم برداروں سے چھیننا اور دوسری طرف دو سو ایکڑ زمین کو بتوں کی آبادی کے لئے مختص کرنا …….. یہ کیسا ایمان ہے تمہارا ؟ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ جس اسلامی ملک کو مسلمانوں نے مشرکین سےفتح کیا ہو اور اس میں پھر یہ مشرکین ذمی بن کر رہیں اور ٹیکس ادا کریں …….. وہاں ان کی پہلے سے موجود عبادت گاہوں کی حفاظت اسلامی حکومت کی ذمہ داری ہے ۔ کیونکہ اسلام زبردستی قبول کروائے جانے کی اجازت نہیں دیتا لہذا ان کو اپنے دین پر کاربند رہنے کی اجازت ہے اور وہ پہلے سے موجود اپنی عبادت گاہوں کی مرمت و توسیع وغیرہ کا کام کر سکتے ہیں مگر جس شہر کو مسلمانوں نے آباد کیا ہواس میں شرک کا گڑھ نہیں بنایا جا سکتا ۔علماء کے فتاوی آچکے ہیں ۔ اب نام نہاد مسلمان، رواداری کا پرچار کرنے والے اور دیسی لبرلز حجت بازی میں لگے ہیں کہ جب غیر اسلامی ممالک میں مساجد کی تعمیر کی اجازت ہے تو پھر اسلامی ملک میں مندر کی کیوں نہیں؟

ایسے لوگوں کے لئے عرض ہے کہ یہ زمین خدا کی ہے اس میں اگر کسی کی عبادت کا حق ہے تو صرف اسی احد الصمد کی عبادت کا۔۔۔اس کا کلمہ توحید ہی غالب ہونے والا ہےاور مسلمان اسی کلمے کے داعی ہیں۔چونکہ رب کی مشیت یہ ہے کہ بندوں کو اس دنیا میں اپنے دین کے چناو کا اختیار دیا جائے،اسی لئے اس دنیا میں ہمیں مشرکین نظر آتے ہیں لیکن اس کی رضا یہ ہے کہ بندے اپنی مرضی سے اس کی عبادت کریں اور کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہرائیں ۔اسی مقصد کے تحت انبیاء آئے اور کلمہ توحید کی تبلیغ کی۔اب یہ ہی ذمہ اس کلمے کے امین مسلمانوں کا ہے کہ وہ توحید کو پھیلانے والے بنیں نہ کہ کفر وشرک کے سہولت کار۔۔۔اللہ کے نمائندوں کی حیثیت سے ہمیں اس بھٹکی ہوئی مخلوق کو اس کے حقیقی رب کے ساتھ جوڑنے کی ذمہ داری دی گئی ہے۔ وعظ و نصیحت کے ساتھ شرک کا ابطال اور پھر توحیدی نظام کی سربلندی کے لئے جہاد و قتال یہی تو مسلمانوں کا سرمایہ افتخار رہا ہے ۔نیکی کی راہ ہموار کرنے والے کے لئے اتنا ہی اجر ہے جتنا کہ نیکی کرنے والے کے لئے اسی طرح برائی کے لئے آسانی کرنے والے کے لئے اتنا ہی گناہ کا بار ہے جتنے لوگ اس کی وجہ سے گناہ کریں گے۔

حکومت کو سوچنا چاہیے کہ دارالحکومت میں مندر کی تعمیر سے شرک کی راہیں ہموار ہوں گی جن پر چلنے والے ہماری نسلوں میں سے بھی ہو سکتے ہیں(العیاذ باللہ ) ملک پہلے ہی کئی مصائب کا شکار ہے،وقت کی ضرورت رجوع الی اللہ ہے نہ کہ ایسے اقدام کر کے خالق کی ناراضگی کو دعوت دینے کی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں