بدلتی زندگی اور ہم – ہادیہ امین




مشینی زندگی اپنی ڈگر پر رواں دواں تھی کہ ایک خوردبینی جرثومے نے اپنی حاضری لگا کر اسکو ایک زور کا جھٹکا دیا . مانند زلزلے کے ایک جھٹکے کے ……. جسکے بعد سب کچھ تہس نہس ہو جاتا ہے اور کئی لمحے انسان اس سوچ میں محو رہتا ہے کہ یہ کیا تھا اور کیا ہوگیا.
یہ کیا احساس دلا گیا …… یہ میری زبردست سالوں پر محیط منصوبہ بندی میں کس نام کا سبق تھا.. اور یوں اسے دل سے احساس ہوتا ہے کہ کاتب تقدیر وہ نہیں بلکہ کوئی اور ہے . وہی جسنے نمرود کو ایک مچھر سے اسکی حقیقت یاد دلائی . مگر ہم سچ کو بولنے اور اسکا سامنا کرنے سے ڈرنے والے لوگ نمرود کے مچھر اور خوردبینی کرونا کو کبھی بھی “کو انسیڈینس” نہیں کہینگے. ہم کرونا یا لاک ڈاؤن سے تھوڑا یا بہت متاثرہ قوم …….. کیا ہم نمرود جیسی خصلتوں کے حامل ہوگئے؟ یہ تو انتہائی بات ہے نا؟ نہیں یہ انتہائی بات نہیں ……. کئی ماہ پر مشتمل لاک ڈاؤن جس میں کتنے منصوبے ٹوٹے, ہر صبح ملنے والی وفات کی خبریں “ولا ان کفرتم ان عذابی لشدید” کا احساس دلاتی ہیں.. ہاں وہ سازگار حالات, جس میں ہم اپنا زور دکھاتے تھے. کاروباری افراد ہیرا پھیری کرتے تھے. ہماری تقریبات بےجا اسراف پر مشتمل ہوتی تھیں. ہمارے بچے کتاب ﷲ کے سوا ہر کتاب کی اہمیت جانتے تھے,
وہ اچھا وقت نفاذ دین کے لیے تھا . کم از کم پانچ فٹ کے جسم پر ہی صحیح ……. اُس مشینی زندگی میں ﷲ نے بہت تھوڑا مطالبہ کیا تھا,مگر ہم نے اسکی طاقتوں کو محدود جانا, اب بدلتی زندگی ہے اور ہم !! یہ بدلتی زندگی, ہماری کھلی آزمائش ہے. جس کے بعد کھڑا اور کھوٹا الگ ہونا ہے ……. کہ کون اس آزمائش سے کندن بن کر نکلتا ہے اور کون اس جانور کی مانند ہے جسکو پتہ ہی نہیں کہ مالک نے مجھے کیوں کھولا اور کیوں باندھا. مگر مومن……. مومن ہمیشہ صبر یا شکر میں سے کسی ایک سواری پر ہوتا ہے. یہی امّت کو درس دیا گیا ہے. ہمیں دیکھنا ہے کہ ہم اس بدلتی زندگی میں صابر شاکر ہیں یا اب بھی ہماری ننھی سی زبان ذکر ﷲ کے بجائے شکوہ کناں ہے؟ ہم اے ایم اور پی ایم کے فرق کو بالائے طاق رکھ کر وقت گزار رہے ہیں, یا ان لمحات کو قرب الٰہی اور حصول علم کا ذریعہ بنا رہے ہیں؟مگر ایک بات جو بلاگز ,کتابیں , مباحثے نہیں سمجھا سکے, اس خوردبینی جرثومے نے سکھادی, آپس کی ملاقاتیں کتنی بڑی نعمت تھیں؟ مسلمان سے مصافحہ کا بھی اپنا ہی لطف تھا. میری مصروف زندگی رب کا انعام تھی. گھر آئے مہمان واقعی رحمت تھے. سڑک پہ رواں ٹریفک امن کی نشانی تھا.
یہ وہ نعمتیں تھیں جن کی اہمیت کبھی گردانی ہی نہیں گئی…… واقعی اے انسان! اگر تم ﷲ کی نعمتوں کو شمار کرنا چاہو تو کر ہی نہیں سکتے. اس بدلتی زندگی نے جاگتے ہوئے انسان کو واقعی بدل دیا اور جو سویا ہوا ہے اس کے لیے محض ایک ہوا کا جھونکا ہو کے گزر گیا. اب دیکھنا یہ ہے کہ اے انسان ……! تم اولو الباب ہو یا شرّ ادّواب ہو ؟ تم بدل گئے ہو یا سو رہے ہو؟

اپنا تبصرہ بھیجیں