ہمارے بچے کیا کر رہے ہیں؟ – محمد اسعد الدین




ہمارے بچے، بہن بھائی کیا کر رہے ہیں؟ کہاں جا رہے ہیں؟ کس حال میں ہیں؟ ان کا انجام کیا ہوگا ؟ یہ ریسرچ انہیں بچوں کے بارے میں ہے. لیکن ٹھیریں …..! یہ صرف ریسرچ نہیں ماں باپ کے لیے آئینہ بھی ہے. اس آئینے میں وہ دیکھ لیں اور سمجھ لیں کہ ہوا کا رخ کس طرف ہے!
خاندان کی ٹوٹ پھوٹ اور بچوں پر اس کے اثرات کے حوالے سے کراچی میں کی گئی. یہ ریسرچ روایتی ریسرچز سے بالکل مختلف ….. نہایت مشکل ریسرچ ہے. آپ اندازہ کیجئے اس ریسرچ کا پہلا مرحلہ 8 سال میں مکمل ہوا۔ ریسرچ کا آغاز 2012ء میں کیا ۔ ریسرچ کے لیے شہر کے مختلف علاقوں کو معاشی لحاظ سے تین مختلف کٹیگریز میں تقسیم کیا گیا۔
1:لوئر مڈل کلاس
لوئر مڈل کلاس علاقے: کورنگی، لانڈھی، بلال کالونی، نیو کراچی کے مختلف سیکٹرز، سرجانی ٹاؤن، اورنگی ٹاؤن کے مختلف سیکٹرز، لیاقت آباد کے منتخب علاقے
2:مڈل کلاس
مڈل کلاس علاقے: فیڈرل بی ایریا، نارتھ کراچی، شاہ فیصل کالونی، ڈرگ روڈ
3:اپرمڈل کلاس
اپرمڈل کلاس علاقے: گلشن اقبال، نارتھ ناظم آباد کے مختلف بلاکس ، فیڈرل بی ایریا کے منتخب بلاکس، نارتھ کراچی اور بفرزون کے منتخب سیکٹرز
ریسرچ ساتویں کلاس سے لے کر انٹر تک کے 2500 بچے، بچیوں پر کی گئی ۔ اس میں 1660 بچے اور 940 بچیاں شامل ہیں . ریسرچ میں تمام سوشل کلاسز جیسے عام دنیا دار، ماڈرن، روایت پسند، نیم مذہبی(مذہبی روایات پر سختی سے عمل کرنے اور مختلف دینی جماعتوں سے وابستہ گھرانے) ان پڑھ ، کم پڑھے لکھے اور ویل ایجوکیٹیڈ شامل ہیں۔ ریسرچ میں بچوں، بچیوں کی عادات، رویوں، معمولات کا 12مختلف مقامات پر مشاہدہ کیا گیا۔
1:اسکول ، کالج ، کوچنگ و لینگویج سینٹرز کے نزدیک چائے کے ہوٹل ،
2:پان سگریٹ کے کیبن،
3:فاسٹ فوڈ،
4:اسنیک بارز،
5: ویڈیو فٹبال گیم،
6: گلی محلوں میں بچوں کے جمع ہونے کی جگہ،
7: شاپنگ سینٹرز،
8: شادی کی تقریبات،
9: پک نک پوائنٹس،
10:پارکس،
11: فیس بک چیٹ،
12:انفرادی ملاقات
ریسرچ کے دوران حاصل ہونے والی معلومات اور حقائق کنفرم کرنے کے لیے اہم فریق یعنی ماں باپ کے آپس کے رویئے، ان کے بچوں کے ساتھ سلوک، گھر کے ماحول کا ڈائریکٹ اور ان ڈائریکٹ مشاہدہ کیا گیا، بعض حقائق اور معلومات کی تحقیق کے لیے بچوں اور ان کے والدین سے 16,17ماہ تک رابطہ رکھا گیا اور صورتحال کا مشاہدہ کیا گیا۔
ریسرچ کے دوران کیا حقائق سامنے آئے….؟ کراچی شہر میں ٹین ایجرز کیا سوچ رہے ہیں کیا کر رہے ہیں، اگلی قسط میں پڑھیے …

اپنا تبصرہ بھیجیں